لوگ تیرے نام سے گھبرا گئے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لوگ تیرے نام سے گھبرا گئے
اور ہم انعام سے گھبرا گئے
عشق میں کرتے رہے وعدے بہت
ایک بس پیغام سے گھبرا گئے
جانے وہ کس حال میں وارد ہوا
ہم نوا گل فام سے گھبرا گئے
ایسا بھی اک وقت آيا مے کشو
مے کدہ سے جام سے گھبرا گئے
ہم نہیں وہ اور ہوں گے زندگی!
جو کبھی بھی کام سے گھبرا گئے
ویسے تو الفت میں تھے پختہ بہت
ہاں مگر الزام سے گھبرا گئے
آپ جو حاکم تھے خاص الخاص کے
کیا ہوا جی عام سے گھبرا گئے
ہم نے اک دن بات میں ساگر کہا
اور وہ اس نام سے گھبرا گئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





