جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

در بدر مزدور کی تقدیر سوچ

کلام: فیضان اسعد16 اپریل، 20201,514قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
در بدر مزدور کی تقدیر سوچ
مرگیا ہے کیوں بَھلا رہگیر سوچ
عالمِ پژمردگی کے درمیاں
حوصلوں سے پُر کوئی تحریر سوچ
آ کے مقتل میں تذبذب کس لیے
خواب دیکھا ہے تو پھر تعبیر سوچ
اک مکانِ مختصر سے خوش نہ ہو
یہ زمیں ہو کس طرح تسخیر سوچ
ظلم سہنا ظلم کی تائید ہے
کیسے ٹوٹے ظلم کی زنجیر سوچ
بے سبب تخریبِ گلشن روک دے
پھول ہوجائیں اگر شمشیر سوچ
تو نگاہوں سے چراتا ہے سکوں
یہ خطا ہے لائقِ تعزیر سوچ
لاش بچے کی لیے ساکت ہے وہ
کیوں نہ رویا صاحب تصویر سوچ
سب تو اپنے تھے عدو کوئی نہ تھا
کردیا پیوست کس نے تیر سوچ
شکوۂِ افلاس اسعؔد چھوڑ کر
کیوں بِکی اجداد کی جاگیر سوچ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

در بدر مزدور کی تقدیر سوچ - دی فری لانسر | دی فری لانسر