آج تک جب بھی اجماع کا مبحث پڑھتے تھے تو وہاں اجماع کی دو قسمیں پاتے ایک اجماع صریحی،
اور جب ہم اجماع سکوتی کی تعریف پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ اجماع سکوتی عہد رسالت کے بعد کسی شرعی مسئلے کے سلسلے میں کسی حکم پر امت مسلمہ کے بعض مجتہدین کا متفق ہوجانا اور دیگر مجتہدین کا اس مسئلے میں ان کی مخالفت نہ کرنا اجماع سکوتی کہلاتا ہے۔
اجماعات کا اکثر بلکہ مکمل ذخیرہ اسی قبیل سے ہے۔مگر یہاں بھی بے شمار اعتراضات سینہ تانے کھڑے ہیں۔پہلا تو یہ کہ کیا خاموشی کا مطلب حدیث تقریری کی طرح موافقت ہے؟ ہو سکتا ہے کسی مجتہد نے اختلاف رائے کے باوجود کسی خاص سبب کی بنا پر کچھ نہ کہا ہو۔اسی طرح بذات خود اجماع کی تعریف پر بھی اعتراض واشکال ہے کہ آیا تمام مجتہدین میں شیعہ،
مگر جب کورونا وائرس کا معاملہ سامنے آیا اور لاک ڈاؤن کی وجہ ترک جمعہ وجماعت کی بات آئی اور بلا تفریق مسالک دنیا کے تمام مجتہدین نے جواز ترک جمعہ و جماعت کا فتویٰ دیا اور غیر مجتہد علما نے بھی بسر وچشم اسے قبول کر کے اس کی موافقت و تائید کی تواس طرح کے تمام اعتراضات واشکالات کا تار و پود بکھر گیا اور اعتراضات سے بالا تر موانع سے معدوم اور شروط کا جامع اجماع صریحی کی ایک عمدہ اور ناقابل انکار مثال مل گئی۔
اور اس طرح دور صحابہ کے بعد وقوع اجماع کے منکرین کا مسکت جواب بھی فراہم ہو گیا۔
فللہ الحمد والمنۃ علی ذلک





