اس میں کوئی شک نہیں کہ بروقت دنیا کے حالات سازگار نہیں ہیں خصوصا ہندوستان میں مسلمان قسم قسم کی آزمائشوں سے گزررہے ہیں۔حکومتی اعلان لاک ڈاؤن کی وجہ سے رمضان المبارک جیسا خیروبرکت کا مہینہ متاثر ہوتا نظر آرہا ہے۔یہی تو ماہ مبارک ہے جس میں گنہگاروں کو بھی خیروبرکت کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور صالحین کو مزید تقوی وپرہیزگاری عطا ہوتی ہے۔اللہ ہمارے سروں سے آزمائش ٹال دے اور ماہ مبارک کی سعادتیں نصیب فرمائے۔آمین
لاک ڈاؤن کی صورت میں مسلمانوں میں ایک بڑی بے چینی تراویح کے سلسلے میں ہے کہ گھروں میں محصور ہوجانے کی وجہ سے مسجد میں جاکر جماعت سے تراویح کی نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں۔ہم مسلمانوں کی یہ بے چینی بجا ہے اور اس مشکل وقت میں ہم سب کو کثرت توبہ اور اللہ سے مدد ودعا کا التزام کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالی ہم پر اور پوری امت مسلمہ پر آسانی فرمائے۔رہا مسئلہ تراویح کا تو اس سلسلے میں دیکھتے ہیں کہ شریعت سے ہماری لیے کیا کچھ رہنمائی اور سہولت موجود ہے۔
پہلی بات:
تراویح واجب نہیں ہے بلکہ مسنون ہے اسی لیے تو رسول اللہ ﷺصحابہ کو چند دن جماعت سے تراویح پڑھانے کے بعد تیسرے یا چوتھے دن مسجد ہی نہیں آئے کہ کہیں امت پر یہ فرض نہ کردی جائے۔اگر کسی سے چند دن یا پورا رمضان تراویح چھوٹ جائے تو اللہ کے یہاں جوابدہی نہیں ہوگی مگر پانچ اوقات کی نمازوں میں سے ایک وقت کی بھی نماز بغیر عذر کے چھوڑ دیتے ہیں تو اس پر مواخذہ ہوگا۔
دوسری بات:
تراویح کی مسنون رکعات مع وتر گیارہ ہیں جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ رمضان میں اور رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اس لیے تراویح کی مسنون رکعات مع وتر گیارہ ہی ہیں۔جو لوگ بیس رکعت تراویح مسنون کہتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔صحیح دلیل سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو گیارہ رکعات ہی تراویح پڑھانے کا حکم دیا اس لیے یہ کہنا کہ حضرت عمر نے لوگوں کو بیس رکعت تراویح پر جمع کیا صحیح نہیں ہے۔
تیسری بات:
تراویح ہی تہجد اور قیام اللیل ہے یعنی رمضان المبارک میں جس نماز کو تراویح کہتے ہیں اسے تہجد اور قیام اللیل بھی کہہ سکتے ہیں،
چوتھی بات:
تراویح میں قرآن ختم کرنا ضروری نہیں ہے،
پانچویں بات:
مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا ضروری نہیں ہے بلکہ اکیلے بھی پڑھ سکتے ہیں اور مسجد کے علاوہ گھر میں بھی ادا کرسکتے ہیں اور یاد رکھیں کہ کوئی اکیلے بھی تراویح پڑھتا ہے تو اس کو بھی اتنا اجر ملے گا کہ سابقہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے جس کا وعدہ رسول اللہ ﷺنے رمضان میں قیام اللیل سے متعلق کیا ہے اس لیے لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ فکرمندی کی ضرورت نہیں ہے نیز حالات کی سنگینی کی وجہ سے جب جمعہ اور فرائض کی جماعت ساقط ہوگئی ہے تو تراویح محض مسنون ہے جس کے لیے نہ مسجد شرط ہے اور نہ ہی جماعت۔
ان چند مسائل سے آگاہی کے بعد ایک اہم بے چین کرنے والا مسئلہ یہ ہے کہ ٹھیک ہے تراویح کے لیے جماعت یا مسجد ضروری نہیں ہے مگر جماعت سے پڑھنا بڑے اجر وثواب کا کام تو ہے۔یہ بات سو فیصد درست ہے کہ جماعت سے کوئی بھی نماز ادا کرنا اکیلے پڑھنے سے ستائیس گنا بہتر ہے اور پھر ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جو امام کے ساتھ آخری وقت تک قیام کرے تو اسے پوری رات قیام کا اجر ملتا ہے۔(صحیح النسائی:1604)
گوکہ تراویح اکیلے پڑھنے سے بھی سابقہ گناہ کی معافی کا اجر مل جائے گا تاہم رمضان بابرکت مہینہ ہے اور جماعت سے ثواب دوچند ہوجاتا ہے اس وجہ سے آپ اپنے اپنے گھروں میں اہل خانہ کے ساتھ جماعت سے تراویح کا اہتمام کریں۔نماز کی امامت کے بارے میں نبی ﷺکا فرمان ہے: لیؤمکم اکثرکم قرآنا(صحیح النسائی:788) یعنی تم میں سے جس کو سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ امامت کرائے۔
اس فرمان رسول کی روشنی میں جس کو سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ گھر والوں کو تراویح پڑھائے۔یاد رہے مرد عورتوں کی امامت کراسکتا ہے مگر عورت مردوں کا امام نہیں بن سکتی ہے۔زیادہ قرآن یاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ گھر میں مثلا دس افراد ہیں اور کسی کو ایک سپارہ یاد ہے،
بوقت ضرورت تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے؟
اب آتے ہیں ایک اہم مسئلہ کی طرف کہ اگر کسی کو قرآن زیادہ یاد نہ ہو اور تراویح میں طویل قیام وسجود کرنا چاہتا ہو تو کیا وہ قرآن دیکھ کر پڑھ سکتا ہے؟
اس سوال کا سیدھا اور مختصر جواب یہ ہے کہ ضرورت کے وقت قرآن دیکھ کر تراویح پڑھانا جائز اور صحیح ہے،
(1)(( عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا برا سمجھتے اور اسے اہل کتاب کا طریقہ بتاتے))۔یہ اثر تاریخ بغداد میں موجود ہے اور تاریخ بغداد کے محقق دکتور بشار عواد معروف نے المیزان(4/507) کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ اس کی سند میں ابوبلال اشعری ضعیف راوی ہے۔
(2) ((حضرت سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب کو قرآن دیکھ کر پڑھتے دیکھا تو ان کا قرآن لے کر الگ رکھ دیا))۔سوید بن حنظلہ نام سے صحابی گزرے ہیں،
(3) ((حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہم لوگوں کو حالت نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے سے قطعا منع فرما دیا تھا))۔یہ روایت کنزالعمال اور اعلاء السنن میں ہے مگر وہاں اس کی سند نہیں ہے۔صاحب المصاحف نے اس کی سند ذکر کی ہے اس سند میں نہشل بن سعید نیساپوری نام کا کذاب ومتروک راوی ہے،
ان تینوں میں دوسرا قول صحابی کا نہیں ہے اور باقی بچے صحابی کے دو اقوال ضعیف ہیں اس لیے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کی بنیاد پر ضرورت کے تحت نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا جائز ہے۔صحابی کا قول وعمل تابعی پر مقدم ہے اس لیے بعد والوں کے اقوال نہیں ذکر کر رہا ہوں البتہ ائمہ اربعہ کی بات کریں تو امام ابوحنیفہ کے علاوہ ائمہ ثلاثہ نے نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کی رخصت دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب امام زہری سے کسی نے سوال کیا کہ رمضان میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیسا ہے تو انھوں نے بہترین جواب دیا: كان خيارنا يقرؤون في المصاحف (المدونة الكبرى1/288-289 والمغني لابن قدامة 1/335) کہ ہم میں سے بہتر لوگ قرآن دیکھ کر پڑھتے تھے۔
مسلک احناف اور نماز میں قرآن دیکھنا:
متعدد کتب احناف میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن دیکھ کر پڑھنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔جب کہ آج لوگوں کی شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنے اپنے گھر میں تراویح کی نماز قرآن دیکھ کر پڑھائیں کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے مساجد بند ہیں اور گھر گھر حافظ دستیاب بھی نہیں ہوسکتے مگر پھر بھی اور ان حالات میں بھی قرآن دیکھ کر پڑھنے سے حنفیوں کی نماز باطل ہوجائے گی۔جب حنفیوں کو صحیح بخاری میں موجود سیدہ عائشہ کا حکم اور ذکوان کا عمل دکھاؤ تو اس دلیل کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں۔
حدیث عائشہ کے متعلق احناف کی ایک تاویل یہ ہے کہ یہ حدیث رسول نہیں ہے اثر ہے یعنی صحابی کا ذاتی عمل ہے۔میں کہتا ہوں پھر صحیح بخاری میں موجود تراویح کی گیارہ رکعت عمل رسول ہے اس کو چھوڑ کر دلیل میں حضرت عمر کا عمل پیش کرتے ہو وہ بھی ضعیف،
احناف کی دوسری تاویل یہ ہے کہ ذکوان کا عمل متضاد اور اجماع امت کے خلاف ہے،
خلاصہ کلام یہ کہ ہم اپنے گھر میں جماعت بناکر تراویح پڑھ سکتے ہیں اور جسے زیادہ قرآن یاد ہوگا وہ امامت کرائے گا نیز کسی کو قرآن زیادہ یاد نہ ہو اور تراویح میں لمبی قرات کرنا چاہتا ہو وہ قرآن دیکھ قرات کرسکتا ہے لیکن یاد رہے کہ موبائل سے قرات نہ کریں بلکہ قرآن (مصحف) سے کریں کیونکہ موبائل مصحف نہیں ہے،





