لوگوں میں ایک خبر گردش کررہی ہے کہ:
"جب ثریا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو زمین پر وبائی امراض ختم ہوجاتے ہیں اور علم فلکیات کے حساب سے ثریا ستارہ 12 مئی کو طلوع ہونے والا ہے اس لئےکورونا وائرس بھی ختم ہوجائے گا"۔
کئی دنوں سے یہ خبر سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی تھی،
طارق عثمانی کے مضمون میں اقوال سے درگزر کرتے ہوئے احادیث سے دو قسم کے دلائل پیش کئے گئے ہیں،
پہلی قسم کے دلائل:
1-عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سُرَاقَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتّٰی تَذْھَبَ الْعَاھَۃُ،
ترجمہ: عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا،
2- أنَّ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ نَهَى عن بَيْعِ النَّخْلِ حتَّى يَزْهُوَ،
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہوجائے بیچنے والے،
ان احادیث سے مولوی صاحب استدلال کرتے ہیں کہ دیکھو رسول اللہ نے فرمایا کہ پھلوں کو بیماری لگ جاتی ہے تو جب ثریا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو وہ بیماری ختم ہوجاتی ہے اور پھلوں کی بیماری عام ہے یعنی لوگوں میں بھی بیماری پھیلی ہوئی ہو تو ثریا ستارہ طلوع ہونے سے بیماری ختم ہوجاتی ہے اور ماہر فلکیات کہتے ہیں کہ مئی کے درمیانی عشرہ یعنی گیارہ دن گزرنے کے بعد ثریا طلوع ہوتا ہے،
طارق صاحب کے نام کے ساتھ محقق وعلامہ لگاہوا ہے اس لئے کہتے ہیں واہ رے محقق وعلامہ! اگر اس طرح سے تحقیق کرنے لگے تو دنیا کے لوگوں کو پھل کھانے کے لئے سال بھر انتظار کرنا پڑے گا اور طلوع ثریا کے بعد ہی کوئی پھل بیچ سکے گا اور کھاسکے گا اور ٹھنڈی میں جو پھل تیار ہوگا اس کا بیچنا حرام ہوجائے گاکیونکہ ثریا تو طلوع نہیں ہوا اور پھل کی وبائی بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی۔یاللعجب
دراصل ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جب پھل پک کر تیار ہوجائے تب بیچا جائے تاکہ خریدنے والے کو درست پھل مل سکے،
بخاری شریف کی روایت ہے:
نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ الثمارِ حتى يَبْدُو صَلاحُهَا .(صحيح البخاري:1487)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی اور بہتری ظاہر ہوجانے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
اس حدیث میں صلاح کاجو لفظ آیا ہے جس کے معنی پختگی اور بہتری ظاہر ہونے کے ہیں دراصل یہی معنی عاھہ کا ہے جو بخاری کی دوسری روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتاہے چنانچہ اس روایت کو بھی دیکھیں:
نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ الثمرةِ حتى يَبْدُو صَلاحُهَا،
ترجمہ: نبی ﷺ نے پھلوں کے پکنے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے،
علامہ البانی رحمہ اللہ نے غایۃ المرام میں صحیح سند کے ساتھ اس سے متعلق صاف اور واضح روایت ذکر کیا ہے۔
أن النبيَّ نهى عن بيعِ الثمارِ في الحقولِ أو الحدائقِ قبل أن يبدوَ صلاحَها ويعرفُ أنها سالمةٌ من العاهاتِ والآفاتِ(غاية المرام:370)
ترجمہ: نبی ﷺ نے کھیتوں یا باغیچوں میں پھلوں کی درستگی (پکنے) سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے،
اب صحیح بخاری سے وہ حدیث پیش کرتا ہوں جس سے بات بالکل پوری طرح صاف اور واضح ہوجائے گی کہ کیوں رسول اللہ ﷺ نے پھل پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور ثریا طلوع ہونے کا مطلب کیا ہے؟
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ،
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت (درختوں پر پکنے سے پہلے) کرتے تھے۔پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا،
اس حدیث کے آخری الفاظ بتلارہے ہیں کہ ثریا کا طلوع ہونا کسی بیماری کے ختم ہونے کی وجہ نہیں ہے بلکہ اس بات کا محض گمان ہے کہ بلاد حجاز میں گرمی شروع ہوگئی اب ان ممالک میں گرمیوں کے پھل پک کر تیار ہوگئے ہوں گے۔دنیا میں بہت سے پھل ٹھنڈیوں میں تیار ہوتے ہیں اور پھر گرمیوں کی شروعات وانتہا تمام ممالک میں فرق فرق ہوسکتے ہیں اس لئے ان تمام احادیث سے مراد یہ ہے کہ لوگ پھل لگائیں تو اس کو اچھے سے تیار اور پکنے دیں پھر بیچیں۔
دوسری قسم کے دلائل:
1-سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ما طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ،
ترجمہ:جب صبح کے وقت (ثریا) ستارہ طلوع ہوتا ہے اور اس وقت جو قوم جس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے تو وہ بیماری سرے سے ختم ہو جاتی ہے یا اس میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔
مسند احمد کی اس روایت کو مسند کی تحقیق میں شعیب ارناؤط نے حسن کہا ہے مگر ان کی بات صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں ضعیف راوی ہے اور یہی حدیث عبداللہ محمد مقدسی کی کتاب الآداب الشرعیہ میں ضعیف ہے جس کی تحقیق شعیب ارناؤط اور عمر قیام نے کی ہے۔شیخ البانی نے ضعیف الجامع(5096) میں اسے ضعیف کہا ہے۔
2- إذا طلع النَّجمُ،
ترجمہ: جب ثریا طلوع ہوتا ہے تو شہر والوں سے بیماری ختم کردی جاتی ہے۔
اس حدیث کو بھی شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔(السلسلة الضعيفة:397)
آپ نے دیکھا کہ دوسری قسم کے دلائل ضعیف ہیں لہذا ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا اور تمام باتوں کا خلاصہ یہ سامنے آیا کہ قرآن وحدیث میں ایسی کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ جب ثریا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو زمین سے وبائی امراض ختم ہوجاتے ہیں۔





