مارچ 2019 کی 24 تاریخ تھی جب میں نے (اسلام کا وقتی بیانیہ: ایک جائزہ) کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا،
مضمون کے نشر ہوجانے کے بعد کئی ایک سنجیدہ قسم کے لوگوں نے اس مضمون کے مشمولات پر تبادلہ خیال بھی کیا اور رد وقدح بھی جو اس بات کا ثبوت تھا کہ مضمون میں ذکر کردہ حقائق زمینی بھی ہیں اور سمجھ میں آنے والے بھی۔مضمون کے عام ہوجانے کے بعد ۲ اپریل کو ایک صاحب کی طرف سے (ظن غالب ہے کہ اس مضمون کی زد خود ان کی فکر پر بھی پڑی ہوگی) درجِ ذیل تحریر موصول ہوئی:
مثال کے بغیر
بینکنگ کی اصطلاح میں ایک لفظ ہے ڈڈ چیک (dud check) یعنی ایک ایسا چیک جس کے حق میں بینک میں ضروری رقم موجود نہ ہو۔ایسی ہی مثال اس مضمون یا کتاب کی ہے،
مثال کے بغیر تحریر کا یہ انداز قدیم دور میں عام تھا۔جب سائنس کا زمانہ آیا تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ متعین مثال کے بغیر کوئی تقریر یا تحریر اتنا ہی بے قیمت ہے،
جو لوگ اس طرح کے بیان کی کمزوری کو نہ جانتے ہوں،
The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West, (Chapter: The Death of Metaphor) J. Murray, 1965, pp. 132.
جیسا کہ معلوم ہے کہ بینک کسی ڈڈ چیک پر لکھے ہوئے اماؤنٹ پر کوئی ادائیگی نہیں کرتا،
پہلے پہل تو بات سمجھ میں نہ آئی مگر استفسار پر پتہ چلا کہ یہ تحریر دراصل مذکورہ بالا مضمون (اسلام کا وقتی بیانیہ: ایک جائزہ) پر استدراک یا رد ہے۔واٹس اپ پر موصول اس تحریر کے جواب میں بروقت میں نے لکھ دیا: ’’مضمون میں مثالیں تو ہیں مگر تفصیل نہیں،
قبل اس کے کہ مضمون کی مزید وضاحت کی طرف آئیں مذکورہ بالا تبصرہ والی تحریر میں پائے جانے والے جھول پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
تبصرہ نگار کا اس مضمون کو (dud check) ڈڈ چیک قرار دینا ان کی کوتاہ نظری ہے،
دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ فرق ایک مبتدی درجہ کا طالب علم بھی سمجھتا ہے کہ کسی تحریر یا تقریر میں صرف دعوی کا ہونا اور اس کے ساتھ دلیل کا ذکر نہ کیا جانا ایک الگ مسئلہ ہے اور تحریر وتقریر کا سرے سے دلیل سے عاری ہونا اور محض ایک گپ کی حیثیت رکھنا ایک الگ مسئلہ۔ایک قاری یا سامع کی حیثیت سے آپ یقینا اس کے مجاز ہیں کہ اس دعوی کی دلیل کا مطالبہ کریں لیکن یہ آپ کی کوتاہ فہمی ہوگی کہ سرے سے اس تحریر یا تقریر کو ہی نکار دیں۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خطیب یا قلمکار اس اعتماد کے سہارے بھی بات کو مختصر کرلیتا ہے کہ سامعین یا قارئین بھی جہاندیدہ اور علم والے ہیں بلکہ بسا اوقات خطیب یا قلمکار سے زیادہ علم وفضل کے حامل ہیں،
تبصرہ نگار کے بقول ’’ایسا مضمون لکھنا اور پڑھنا،
وقتی بیانیہ کی کئی مثالیں ہیں اور ہوسکتی ہیں مگ سردست ہم انہی مثالوں کے سلسلے میں بات کرتے ہیں جن کا تذکرہ پہلی قسط میں اجمالا آچکا ہے۔'کلامی بیانیہ،
کلامی بیانیہ:
خلافت عباسیہ میں خلیفہ ابوجعفر منصور کی علم دوستی سے ہوئی شروعات نے ہارون رشید کے دور میں بیت الحکمۃ کی شکل اختیار کرلی۔مامون کا دور آیا تو اسی بیت الحکمۃ میں روم سے یونانی فلسفہ کی کتابوں نے جگہ پائی،
اب اس صورت حال کا سامنا کرنے اور اسلامی عقائد کی حفاظت اور ان کے دفاع کے سلسلے میں جو طریقہ اپنایا گیا ان میں سے دو طریقوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ایک طریقہ محدثین کرام کا تھا جنھوں نے حسب ِسابق قرآن وسنت اور صحابہ کے فرمودات کو بنیاد بنایا اور قرآن وسنت کے بیان کردہ حقائق اور ان پر اعتراضات کا عقلی پیرائے میں بھی دفاع کیا جس کا مظہر تیسری اور چوتھی صدی میں لکھی گئی اہل علم کی متعدد تصانیف ہیں اور اسی تسلسل کا شاندار نتیجہ علامہ ابن تیمیہ اور ابن قیم رحمہما اللہ کی متعدد تصانیف ہیں بالخصوص شیخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی شاہکار کتاب (درء تعارض العقل والنقل) ہے۔
دوسرا طریقہ وہ ہے جو اشاعرہ وماتریدیہ نے اپنایا،
اس کلامی بیانیہ کا اثر یہ ہوا کہ اللہ تعالی کی سات کے علاوہ بقیہ صفات کا انکار کیا گیا،
کلامی بیانیہ بظاہر ایک ضرورت کی ایجاد تھی،
کلامی بیانیہ کی جدت کے باوجود اس کی ناکامی اور سلف صالحین کے اس سادہ بیانیہ کی کامیابی کا اعتراف علم کلام کے اس بحر بے کنار کے شناور امام رازی نے ان الفاظ میں کیا ہے(لقد تأملت الطرق الکلامیۃ والمناھج الفلسفیۃفما رأیتھا تشفي علیلا ولاتروي غلیلاورأیت أقرب الطرق طریقۃ القرآن) یعنی میں نے علم کلام کے طریقوں کو بھی جانچ لیا اور فلسفہ کے مختلف مناہج بھی پرکھ کر دیکھ لیے،
جہادی بیانیہ:
دوسری مثال جہادی بیانیہ کی ہے۔جہاد اسلام کا ایک اہم حکم ہے،
شریعت اسلامیہ میں جہادکے اغراض ومقاصد،
عصر حاضر میں یہ صورت حال پیش آئی کہ انیسویں صدی عیسوی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز نے ایک طرف بالعموم مسلمانوں کا ہمہ جہتی زوال دیکھا تو دوسری طرف بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز میں مختلف داخلی وخارجی وجوہات اور کچھ اپنوں کے اور کچھ پرایوں کے فراہم کردہ اسباب کی بنیاد پر مسلمانوں کا خون بے دریغ بہایا گیا،
دنیا کے دستور کے مطابق سیاسی زوال کے لازمی تقاضوں میں سے کئی ایک کا سامنا ہوا تو مسلمانوں کے اندر دو طرح کی فکر نے جنم لیا۔ایک طرف چند لوگوں نے یہ مان لیا کہ مسلمانوں کے سیاسی غلبہ ہی سے اس ذلت کا خاتمہ ممکن ہے اور پھر اسی فکر کے حاملین میں سے بعض نے مزید آگے بڑھ کر یہ مان لیا کہ اس سیاسی غلبہ اور حکومت کے قیام کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ سیدھے جہاد فی سبیل اللہ ہے۔دوسری فکر رد عمل کی تھی کہ جب غیر ہمیں مارتے ہیں تو ہم بھی جیسے کو تیسا کا معاملہ کریں۔اور بدلہ کی اسی جنگ کو مطلقا ’’اسلامی جہاد‘‘ قرار دے دیا۔دھیان رہے کہ ان دونوں طرح کی فکر میں کچھ سچائی تھی تو دوسری طرف بہت ساری جذباتیت اور غیر علمی اور غیر منہجی غلطیاں جس کے نیتجہ میں اسلام کی ایک خاص تصویر ابھر کر سامنے آئی۔یہی تصویر اسلام کا جہادی بیانیہ ہے۔آپ چاہیں تو اسے اسلام کے تصور جہاد میں غلو کہہ لیں،
اس بیانیہ کے نقصانات کیا ہوئے؟ یہ اظہر من الشمس ہے. اسلامی جہاد کے عظیم مقاصد میں سے کسی مقصد کا حصول تو درکنار الٹا خون مسلم کی ارزانی،
سِلمی بیانیہ:
تیسری مثال ’’سلمی بیانیہ‘‘ کی ہے۔سلمی بیانیہ دراصل جہادی بیانیہ کا رد عمل ہے۔جہادی بیانیہ کی حقیقت افراط تھی تو سلمی بیانیہ کی حقیقت تفریط ہے۔سلمی بیانیہ کو مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو یوں کہیں اسلام کا ایسا بیانیہ کہ جس میں جہاد کا ذکر سرے سے نہ ہو یا ہو تو جہاد بمعنی قتال کی بالواسطہ یوں نفی ہو کہ جہاد تو اسلام میں رہے لیکن قتال جہاد کا حصہ نہ رہے۔سلمی بیانیہ لگ بھگ وہی ہے جو تحریف شدہ انجیل میں عیسی علیہ السلام کا یہ مسلک بتاتا ہے (لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنا گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیردے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کرکے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا) (انجیل متی باب ۵:۴۰-۴۲) حالانکہ عیسی علیہ السلام کی یہ تعلیم بھی سیاق وسباق کی روشنی میں اخلاقیات کا حصہ لگتی ہے جو خالص شخصی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔
سلمی بیانیہ دراصل اس صورت حال کی پیدا وار ہے جو جہادی بیانیہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔ایک طرف مستشرقین نے اسلام کے خلاف بالخصوص جہاد کے خلاف ایک زمانے سے محاذ قائم کر رکھا تھا تو دوسری طرف اسلام کے نام پر بعض مسلمان یا غیروں کی طرف سے دہشت گردانہ واقعات کی کثرت نے اسلام اور جہاد پر اعتراضات کا بازار گرم کردیا تب کچھ اسلام کے ’’خیرخواہوں‘‘ نے اس بیانیہ کو اپنایا۔ان کی نیت کو اللہ جانتا ہے مگر ان کے اس بیانیہ نے اسلام کی ایک ایسی نئی تصویر پیش کی جس میں ایک طرف تاریخ اسلام کے عظیم مجاہدین ِاسلام کٹگھرے میں کھڑے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف مسلم تاریخ کے عظیم حکمرانوں کے حق میں طعن وتشنیع کی سوغات کے علاوہ اور کچھ نہیں جاتا۔
اس بیانیہ کے مظاہر کئی ایک ہیں:
(۱)کچھ لوگوں نے جہاد ہی کو سرے سے منسوخ قرار دے دیا۔
(۲)کچھ لوگوں نے مسیحی ماڈل اور محمدی ماڈل کی بے سند تقسیم کو بنیاد بناکر محمدی ماڈل کو جزوی طور پر نئے حالات میں ناقابل انطباق قراردیا جس سے ان کی منشا ہی یہی تھی کہ نئے زمانے میں جہاد کی نفی کردی جائے۔
(۳)کچھ لوگوں نے جہاد کا معنی محض ’’انتھک کوشش کرنا‘‘ بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کردیا کہ اسلام غربت کے خلاف جنگ کی دعوت دیتا ہے،
(۴)کچھ لوگ لفظ اسلام کو محض سلامتی کا ہم معنی قرار دینے اور اسی کی تبلیغ پر اس قدر مصر ہیں جیسے جہاد واقعی دہشت گردی جیسی کوئی چیز ہو اور سلامتی والے دین کا حصہ نہ ہو۔یاپھر جیسے انھیں مجبورا اقرار کرنا پڑرہا ہو،
(۵)کچھ لوگ اسلام کو محض روحانیت کا باب قرار دینے پر مصر اور اسلام کو صرف بندے اور رب کے باہم رشتے سے تعلق رکھنے والا مذہب قراردینا چاہتے ہیں اور اس پر مصر ہیں کہ نئے زمانے کا دین ڈیموکریسی ہے جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذہب آدمی کا ایک پرائیویٹ معاملہ ہے اس کا دنیاوی نظام میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
جتنے منہ اتنی باتیں،
جہادی بیانیہ اور سلمی بیانیہ کے افراط و تفریط کے درمیان سلف صالحین کا مبنی بر اعتدال سادہ اور ہر حال میں بے لچک بیانیہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف اس بنیاد پر قائم رہتے ہیں(الجھاد ماض منذ بعثني اللہ إلی أن یقاتل آخرأمتي الدجال ) جہاد میری بعثت سے لے کر اس وقت تک باقی رہے گا جب تک میری امت کے آخری لوگ دجال سے لڑ نہ لیں(أبوداود-حسن لغیرہ) تو دوسری طرف عین میدان جنگ میں بھی ہونے والی اجتہادی بے اعتدالی یا جہاد کے نام پر ہونے والے غلط اقدام کو ان الفاظ کے ساتھ نکار دیتے ہیں (اللہم إني أبرأ إلیک مما صنع فلان) اے اللہ! میں فلاں کی کارستانی سے بری ہوں۔(البخاری)
اسلام کے اس فطری بیانیہ کا تقاضہ یہ ہے کہ جہاد کا اقرار بھی کیا جائے اور اس پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب بھی دیا جائے۔اس بیانیہ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کی ہر تعلیم کی طرح جہاد کو بھی انسانیت کی فلاح وبہبود کا ضامن قراردیتا ہے۔اس کی نظر سے یہ حقیقت کبھی اوجھل نہیں ہوتی کہ ایک جان لیتے ہوئے بھی {ولکم في القصاص حیاۃ یا أولی الألباب } عقلمندو! تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔(البقرۃ:۱۷۹) کی تعلیم دینے والے اسلام کا پیغام ِجہاد بھی انسانیت کے لیے باعث رحمت ہی ہے اور اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ سیرت ِرسول ﷺ ہے۔اس بنیاد پر جب تک خود کو مطمئن نہیں کرپائیں گے تب تک معترض سے پہلے خود ہمارے ذہن جہاد سے بدظن ہوں گے اور دوسروں کے اعتراض سے قبل ہم خود معذرت خواہانہ مزاج کے حامل بن جائیں گے۔اور دوسری طرف اس بیانیہ کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ جہاد کے نام پر بے لگام خون کی ہولی کھیلنے والوں کے غلط تصرفات پر کھلے الفاظ میں نکیر کی جائے،
جاری………





