تحرير: عزير أحمد نور الهدى
ترجمہ: دانش جمال
یہ میری سعادت و خوش نصیبی ہے کہ میں دیارِ ہند کے نابغہ روزگار و بحرِ ناپیدا کنار علامہ مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ الله کے بارے میں چند سطور قلمبند کروں جو محدث و مفسر،
وہ ایسی شخصیت ہے جس نے تقسیمِ ہند کے بعد مسلمانانِ ہند کے وجود کو مستحکم کیا اور ان کی بنیاد کو استوار کیا۔ان کا وجود مسلمانانِ ہند کے لیے ایک مضبوط حفاظت گاہ اور بلند و بالا چہار دیواری تھی۔ان کی بقا مسلمانانِ ہند کے لیے ایک شجرِ سایہ دار تھا جس سے وہ سایہ حاصل کرتے تھے،
ان کے مطلوبہ مقاصد و منصوبوں میں سے یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے مابین تالیف قلب کریں،
شیخ عبد الرزاق ملیح آبادی جو علامہ کے اسسٹنٹ اور رفیق تھے اس قصے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب کانفرنس کا وقت آپہنچا تو علامہ نے شیروانی زیب تن کی جو ایک خاص قسم کی پوشاک ہے جسے علما و شرفاء پہنتے ہیں اور اپنی وہ خاص ٹوپی پہنی جس سے پیشانی پر واقع سجدے کا نشان چھپ جاتا تھا پھر اپنی چھڑی لے کر کانفرنس کی طرف روانہ ہوگئے۔
جب وہاں پہنچے تو اسلحہ بردار نوجوان جو شمشیر و بھالے وغیرہ سے لیس ہو کر موقعے کی تلاش میں تھے اور ان پر پل پڑنے کے فراق میں تھے حیران و ششدر رہ گئے۔چنانچہ علامہ رحمہ الله بلا خوف و خطر پوری شجاعت و عزیمت اور قوتِ ارادت سے جلوہ افروز ہوئے۔مولانا ملیح آبادی فرماتے ہیں کہ جب میں نے صورتحال دیکھی تو ان کے عقب میں جا کھڑا ہوا تاکہ غفلت و بے پروائی میں انھیں کوئی گزند نہ پہنچے جس سے علامہ ناراض ہوگئے اور فرمایا کہ اگر قضا و قدر نے میرے واسطے کچھ مقدر کردیا ہے تو کیا تم میرے اور قضائے الہی کے درمیان حائل ہوسکتے ہو؟؟؟ ڈرو نہیں! الله ہمارا کارساز ہے.
پھر حاضرین میں سے ایک خطیب اسٹیج پر آئے جو نہایت بلند آواز والے اور فصیح و بلیغ تھے۔انھوں نے علامہ کی نہایت شدومد سے مخالفت کی اور ان کی فکر کو ناپختہ قرار دیا۔
مولانا ملیح آبادی فرماتے ہیں کہ اس نے ایسی تقریر کی کہ کچھ نہ چھوڑا اور سامعین سے تقریباً اپنی بات منوالی،
جب علامہ خطبے سے فارغ ہوئے تو ابن احمد رضا کھڑے ہوئے اور مجمع عام میں ان کی موافقت کی اور ہر طرح کی نصرت و تائید کا وعدہ کیا۔
اب وہ مقام آیا ہے جس کے لیے میں نے چند سطور بطور تمہید پیش کیے کیا آپ کے دلوں اس شیئ کی معرفت کا شوق نہیں پیدا ہوا۔میرے بھائیو!
وہ بات یہ ہے کہ جس شخص کے قتل کے لوگ درپے تھے اور جن کے فراق میں لوگوں نے تلواریں سونت رکھی تھیں انھوں نے ہتھیار پھینک دیے اور جب علامہ رحمہ الله اسٹیج سے اترے تو پروانہ وار آگے بڑھ بڑھ کر ان سے مصافحہ کرنے لگے،
پس نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے سچ فرمایا ہے: بے شک بعض بیان سحر انگیز ہوتے ہیں!





