عہد شباب میں اسلام کا چہرہ بالکل صاف و شفاف اور حسن و جمال کا مظہر تھا،
"خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي،
(سب سے بہتر میرا زمانہ ہے،
یہ عہد یقینا ہر طرح کے خیر وبرکت کا منبع اور فضل وکمال کا سرچشمہ تھا۔پھر جوں جوں اسلام کی عمر بڑھتی گئی نئے نئے فرقے اور جماعتیں ظہور میں آئیں اور اسلام کا صاف و شفاف چہرہ اختلاف و انتشار کے داغ سے مکدر ہو گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی:
"افترقَتِ اليهودُ على إحدى أو اثنتين وسبعين فرقةً،
(یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے،
ان فرقوں اور جماعتوں کا اختلاف و تنازع اس حد تک آگے بڑھا کہ ایک جماعت نے دوسری جماعت کو کافر اور حلال الدم تک قرار دیا۔لطف کی بات تو یہ ہے کہ ہر جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کتاب وسنت پر عمل کرتی ہے۔
قدرتی طور پر یہاں یہ سوال اٹھے گا کہ جب ہر جماعت کا یہی دعویٰ ہے کہ کتاب وسنت ہی اس کا مصدر و ماخذ ہے تو پھر اتنا اختلاف اور اتنی جماعتیں کیوں ہیں؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ ہر نئی جماعت نے کتاب وسنت کے نصوص کو سمجھنے کے لیے سلف صالحین کے فہم سے ادبار کیا اور اپنی عقل وفہم کے مطابق نصوص کتاب و سنت کو سمجھنے کی کوشش کی۔
فہم سلف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالنے سے قبل مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے سلف کا معنی و مفہوم بیان کیا جائے۔
سلف کی لغوی تعریف:
ابن فارس فرماتے ہیں:
"(سلف) السين واللام والفاء أصلٌ يدلُّ على تقدُّم وسبْق. من ذلك السَّلَف: الذين مضَوا"۔(معجم مقاييس اللغہ:3/ 72)
(سین لام اور فاء کی اصل تقدم و سبقت پر دلالت کرتی ہے،
سلف کا اصطلاحی مفہوم:
جمہور علما کے نزدیک سلف سے مراد صحابہ،
(مجموع الفتاوى:6/ 355)،
فہم سلف کی ضرورت کیوں ہے:
ہمیں یہ بات یقین کر لینی چاہیے کہ جو بھی شخص سلف صالحین کے فہم سے اعراض کرکے اپنی عقل و فہم کے مطابق نصوص کتاب و سنت کو سمجھنے کی کوشش کرے گا وہ رشد و ہدایت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا،
یہ اشکال در اصل قلت علم اور اسلامی اصول وقواعد سے تغافل کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ ہمیں صرف کتاب و سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن کتاب و سنت پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے کتاب و سنت کو صحیح طور سمجھنا اور شریعت کے اسرار و مقاصد کو جاننا ضروری ہے،
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر فرمایا ہے:
(وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا) (النساء: 115)
اس آیت سے صاف طور پر پتہ چل رہا ہے کہ رشد و ہدایت کے لیے کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ سبیل المومنین کا اتباع بھی ضروری ہے۔جن مسائل پر سلف کا اجماع ہوچکا ہے،
فہم سلف کی ضرورت پر علما کے اقوال:
1-عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ-رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-قَالَ: "مَنْ كَانَ مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ-صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؛
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں: (جسے اتباع کرنی ہو وہ اصحاب رسول کی کرے،
2- امام احمد فرماتے ہیں:
"أصُول السّنة عندنَا التَّمَسُّك بِمَا كَانَ عَلَيْهِ أَصْحَاب رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم والاقتداء بهم"۔(اصول السنہ لاحمد بن حنبل: ص 14)
(ہمارے نزدیک اصول السنہ یہ ہے کہ جس چیز پر صحابہ کرام تھے اسے مضبوطی سے پکڑے رہنا اور ان کی اقتدا و پیروی کرنا)
3- شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے مذہب سلف سے عدول اور ترک کرنے والوں کو گمراہ اور بدعتی قرار دیا۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
"مَنْ عَدَلَ عَنْ مَذَاهِبِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَتَفْسِيرِهِمْ إلَى مَا يُخَالِفُ ذَلِكَ كَانَ مُخْطِئًا فِي ذَلِكَ بَلْ مُبْتَدِعًا... وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ الْقُرْآنَ قَرَأَهُ الصَّحَابَةُ وَالتَّابِعُونَ وَتَابِعُوهُمْ وَأَنَّهُمْ كَانُوا أَعْلَمَ بِتَفْسِيرِهِ وَمَعَانِيهِ كَمَا أَنَّهُمْ أَعْلَمُ بِالْحَقِّ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ خَالَفَ قَوْلَهُمْ وَفَسَّرَ الْقُرْآنَ بِخِلَافِ تَفْسِيرِهِمْ فَقَدْ أَخْطَأَ فِي الدَّلِيلِ وَالْمَدْلُولِ جَمِيعًا"۔(مجموع الفتاوى: 13/ 361)
(جو شخص صحابہ وتابعین کے مذہب اور تفسیر کو چھوڑ کر دوسرا کوئی مخالف مذہب اختیار کرے گا وہ نہ صرف غلطی پر ہوگا بلکہ وہ بدعتی ہوگا،
4- شاہ ولی اللہ دہلوی نے فہم سلف کے مطابق کتاب و سنت پر عمل کرنے کو فرقہ ناجیہ کی علامت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
"أَقُول الْفرْقَة النَّاجِية هم الآخذون فِي العقيدة وَالْعَمَل جَمِيعًا بِمَا ظهر من الْكتاب وَالسّنة،
(فرقہ ناجیہ وہ لوگ ہیں جو عقیدہ و عمل دونوں میں وہ بات لیتے ہیں جو کتاب و سنت سے ظاہر ہو اور جس پر جمہور صحابہ وتابعین کا عمل رہا ہو،
ائمہ عظام کے مذکورہ اقوال سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ سلف صالحین تمام امت میں کتاب و سنت کو سب سے بہتر سمجھنے والے تھے،
لہذا صراط مستقیم،
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں کتاب وسنت کو فہم سلف کی روشنی میں سمجھنے اور سبیل المؤمنین کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔





