تاریخ نے ایسا وقت کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ عالمی پیمانے پر مسلمانوں کی عبادت گاہیں مسلسل کئی ماہ تک ویران رہی ہوں اور مساجد میں نماز پڑھنے کے لئے نمازی ترس رہے ہوں خصوصا رمضان المبارک کی عبادتیں اور نماز تراویح کے لئے اس قدر بے چین ہوئے ہوں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
شاید اسی لئے دنیا والے بالخصوص مسلمان اس سانحہ کو کبھی نہ بھول پائیں،
لاک ڈاؤن کی صورت میں سوال اپنی جگہ بے حد اہم ہے کہ مسلمان عید کی نماز کہاں اور کیسے ادا کریں؟ اس لئے اس مسئلے کو بہتر طریقے سے جاننے کے لئے پہلےچند بنیادی مسئلوں کو جاننا ضروری ہے۔
پہلا مسئلہ: نماز عیدکا حکم:
نماز عیدکے حکم میں ائمہ اربعہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔احناف کے نزدیک فرض عین،
دوسرا مسئلہ: نماز عید کا افضل واول وقت:
نماز عید کا اول و افضل وقت اس کا ابتدائی وقت ہے جو کہ سورج کا ایک نیزہ بلند ہونا ہے۔جناب یزید بن خمیر الرجی بیان کرتے ہیں: خرجَ عبدُ اللَّهِ بنُ بُسْرٍ صاحبُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ معَ النَّاسِ في يومِ عيدِ فطرٍ أو أضحَى فأنكرَ إبطاءَ الإمامِ فقالَ إنَّا كنَّا قد فرغنا ساعتَنا هذِه وذلِك حينَ التَّسبيحِ(صحيح أبي داود:1135)
حضرت عبداللہ بن بسررضی اللہ عنہ صحابی رسول لوگوں کے ساتھ عید فطر یا عید اضحٰی کے لیےتشریف لائے توامام کے تاخیر کر دینےکو انہوں نے ناپسند کیا اور کہاکہ ہم تواس وقت فارغ ہو چکے ہوتے تھےیعنی اشراق کے وقت۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیدین کی نماز کو اول وقت میں ادا کرنا چاہئے اور تاخیر سے بچنا چاہئے تاہم ظہرسےپہلےتک ادا کرلینا جائز ہے۔
تیسرا مسئلہ: نماز عید کی ہیئت اور شعائراسلام کااظہار:
نماز عید کا مقصدشعائراسلام کا اظہار ہے اس لئے پاپیادہ گھروں سے نکلنے،
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اورعیدالاضحی کے دن (مدینہ کے باہر) عیدگاہ تشریف لے جاتے۔
اس لئے عید کی نمازبستی سے نکل کر باہر صحرا میں ادا کرنا مشروع ہے تاکہ شعائر اسلام کا اظہارہوسکے،
چوتھا مسئلہ: نماز عید سے متعلق عذر والے مسائل:
٭ عید کی نماز کے لئے عیدگاہ جاتے وقت بارش یا کوئی دوسری رکاوٹ پیدا ہوجائے تو مسجد میں نماز عید ادا کی جاسکتی ہے جیساکہ بارش کی وجہ سے نبی ﷺنے مسجد میں عید کی نماز پڑھی ہے۔
٭مریض اور عذر والے عیدگاہ نہ جاسکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہےاور نبی ﷺنے انہیں اپنے گھروں میں نماز عید ادا کرنے کا حکم نہیں دیا ہے لیکن حیض والیوں کو عیدگاہ پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ خیراورمسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکیں،
٭ اللہ تعالی نے حج کرنے والوں سے بھی عید کی نماز ساقط کردی ہے کیونکہ وہ ایک طرف شعائر اسلام کا اظہار کرہی رہے ہیں دوسری طرف حج کے بڑے دن یوم النحرکو بڑے بڑے اعمال کی انجام دہی کی وجہ سےعید کی ادائیگی میں ان کے لئے مشقت ہے۔
٭ اگر کسی کونمازعیدکی ایک رکعت مل جائے تو اس نے عید کی نماز پالی اورجو آخری رکعت کے سجدہ یا تشہد میں امام کے ساتھ ملے تو وہ عید کی نماز کی طرح نماز ادا کرلے۔
٭ اگر کسی کی عید کی نماز چھوٹ جائے تو عید کی نماز کی طرح ادا کرلے،
لاک ڈاؤن کی صورت میں نما ز عید کی ادائیگی کا طریقہ:
جیساکہ میں نے بتایا کہ نماز عید شعائر اسلام کا اظہار ہے اس لئے اصلا عید کی نماز کے لئے بستی والوں کا اپنے گھروں سے نکلنا اور کسی صحرا میں نماز عید کی ادائیگی کے لئے جمع ہونا ضروری ہے تاکہ بستی والے ایک ساتھ اور ایک جگہ عید کی نماز پڑھ سکیں۔موجودہ صورت حال میں مسلمانوں کا عیدگاہ میں جمع ہونا ممکن نظر نہیں آتاپھر بھی میں اللہ سے دعاکرتا ہوں کہ وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے اورہمارے لئے گھروں سے نکل کر عیدگاہ میں نماز ادا کرنے کی سبیل پیدا فرمائے۔آمین
جب لاک ڈاؤن کی صورت حال بنی رہے اور مسلمان عیدگاہ میں جمع نہ ہوسکیں تو ہمیں اس بات پر پہلے یقینی علم حاصل کرلینا ہے کہ کیا مسلمان گاؤں کی جامع مسجد میں جمع ہوسکتے ہیں؟ اگر یہ صورت ممکن ہوسکے تو عیدگاہ کی بجائے مسلمانوں کو چاہئے بستی کی جامع مسجد میں جمع ہوکراول وقت میں خفیف طورپر نماز عیدمع خطبہ ادا کرلیں کہ اس وقت دشمن کا خطرہ کم ہوگاتاہم احتیاط کے طورپربچوں اور عورتوں کواس صورت میں گھر میں ہی رہنے دیں تو بہتر ہے کیونکہ ان پر نماز عید فرض نہیں ہے۔
اگر بستی کے تمام لوگوں کا جامع مسجد میں بھی جمع ہونا قانونا منع ہو تو گاؤں میں مختلف جگہوں پر گروہ کی شکل میں جمع ہوکر بھی نماز عید ادا کی جاسکتی ہے لیکن اس کام کے لئے پہلے ہمیں اجتماعی شکل میں منصوبہ بنانا ہوگا کہ جماعت کہاں کہاں قائم کی جائے گی اور کہاں پر کون مسئول ہوگا؟ اس منصوبے میں گاؤں کے چھوٹی بڑی مساجد،
عذر کے وقت گھروں میں نماز عید ادا کرنے کا حکم:
لوگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ عید کے دن بھی مسلمان کہیں پر جمع نہیں ہوسکتے ہیں حتی کہ مسجد میں بھی فقط پانچ افراد کو ہی جمع ہونے کی اجازت ہے ایسے میں کیا لوگوں کے لئے اپنے اپنے گھروں میں عیدکی دوگانہ ادا کرنے کا جواز ہے؟
گھروں میں نماز عید کی ادائیگی کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض علماء کا کہنا ہے کہ عیدکی نما ز گھروں میں نہیں ادا کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ خاص وصف کے ساتھ مشروع کی گئی ہے جو گھروں میں ادائیگی سے وہ حاصل نہیں ہے۔یہ موقف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ،
اس اثر پر امام بخاری کے باب سےمعلوم ہوتا ہے کہ کسی کی نمازعید فوت ہوجائے تووہ دورکعت ادا کرسکتا ہے۔
مذکورہ دونوں موقف میں امام ابوحنیفہ اور شیخ الاسلام وغیرہم کی بات زیادہ قوی ہے کہ عید کی نماز گھروں میں ادا نہیں کی جائے گی بلکہ اس میں اسلامی شعائر کا اظہار کیا جائے گاجس کے لئے گھروں سے خروج کرنا اور کسی جگہ پر مسلمانوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔تاہم میری نظر میں اس مسئلے میں حالات وظروف کے تئیں معمولی وسعت یہ ہے کہ اگر مسلمان عیدگاہ میں یا گاؤں کی جامع مسجد میں اکٹھا نہ ہوسکیں اور نہ ہی گروہی شکل میں نمازعید ادا کرنے کی امکانی صورت ہو توجو لوگ جمہور کے موقف پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں نمازعید ادا کریں ان کو اس عمل سے روکا نہیں جائے گا،
عید کی نماز کا طریقہ:
عید کی دورکعت اداکی جائے گی،
اللہ تعالی اہل توحید کی اہل شرک وکفر کے شرسے حفاظت فرمائے،







