واٹس ایپ گروپ "دبستان اردو" پر ہونے والے اس انٹرویو کو کچھ حذف و اختصار کے ساتھ یہاں شائع کیا جارہا ہے... سوالات کرنے والے تمام احباب بطور خاص فضیلۃ الشیخ سرفراز فیضی کا شکریہ،جنہوں نے اس انٹرویو کی قیادت کی...
س: شمس الرب نام کس نے رکھا؟ کوئی مناسبت یا پس منظر؟ اس نام کے کسی دوسرے شخص سے کبھی ملے یا یہ نام کہیں پڑھا ہے؟ نام کا کوئی اثر ذاتی زندگی پر؟ ممبئی مراٹھی کیسے نام لیتے ہیں آپ کا؟ اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں بھی بتائیں؟ گھر اور خاندان میں اور بھی لوگ عالم ہیں؟ گاؤں کون سا ہے؟
ج: میرا نام میرے والد محترم نے رکھا۔میرے والد محترم کا نام عبدالحي ہے. میرے والد عالم ہیں۔کوئی خاص مناسبت نہیں۔ان کے مطابق،
اس نام کے کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی ہے اب تک۔ہاں،
شاید یہ کہ فکر و نظر میں کسی حد تک آفاقیت آ گئی ہے۔۔۔
بہت مشکل ہوتی ہے۔کوئی 'سمسر' سمجھتا ہے تو کوئی 'رمسر'۔حد ہوگئی ایک دن ایک نے 'رام سلرخ' سمجھا اور دوسرے دن ایک نے 'شیام سورت'
عموما اسپیلنگ کے ساتھ بتانا پڑتا ہے۔۔۔
میرے والد عالم ہیں۔فیض عام مئو سے فارغ ہیں۔میرے والد کے ماموں ضلع بستی و سھارتھ نگر کے مشہور عالم جناب شکر اللہ صاحب فیضی تھے۔میرے والد انہیں کے زیر تربیت تھے۔
میرے گاؤں کا نام ساگر روضہ ہے۔یہ گاؤں بیارا قاضی-جو قاضی عدیل عباسی اور قاضی جلیل عباسی صاحبان کی وجہ سے مشہور ہے-کے قریب ہی واقع ہے۔تحصیل ڈومریاگنج،
س: ماشاء اللہ ابتدائی مکتب سے جامعہ سلفیہ تک کا سفر کب اور کیسے ہوا؟
ج: مکتب کی تعلیم گاؤں میں اپنے والد ہی سے حاصل کی۔اس کے بعد حفظ قرآن کریم کے لئے دو سال جامعہ سراج العلوم کنڈؤ بونڈیھار اور ایک سال خیر العلوم ڈومریاگنج گزارا۔خیر العلوم ہی میں ثالثہ تک تعلیم حاصل کی۔رابعہ کی تعلیم اکبر پور جمنی میں ہوئی۔۔۔وہاں سے جامعہ سلفیہ بنارس
جامعہ سلفیہ میں عالمیت سے لے کر فضیلت تک کی تعلیم حاصل کی۔جامعہ سلفیہ میں رہتے ہوئے سلفیہ کے بغل میں واقع جے نارائن انٹر کالج سے انٹر کیا۔۔۔اور اسی کی بنیاد پر جے این یو میں داخلہ لیا۔وہاں سے عربی زبان و ادب میں بی اے اور ایم اے کیا۔اور اب ممبئی یونیورسٹی سے دکتوراہ کر رہا ہوں۔پچھلے سال اگست سے اسی یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھا بھی رہا ہوں و للہ الحمد.
س: شاید اس وقت خیرالعلوم جامعہ سلفیہ سے ملحق نہیں تھا.. اسی وجہ سے جمنی جانا پڑا. کیا ایسا ہی معاملہ ہے یا کچھ اور؟
ج: جی،
س: آپ کی زندگی پر کس شخصیت کا سب سے زیادہ اثر ہے؟
ج: کسی ایک شخصیت کا نام لینا مشکل ہے۔والد صاحب جو میرے استاذ بھی ہیں،
س: والد سے تعلیم حاصل کرنے کا ایسا ایڈوانٹج جو غیر والد سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو نہیں ملتا؟
ج: والد صاحب مجھے اپنی چٹائی پر بٹھاتے تھے۔۔۔
س: آپ پر کن استاتذہ نے سب سے زیادہ اثرات مرتب کئے ہیں؟
ج: والد محترم کے بعد،
جامعہ سلفیہ میں شیخ اسعد اعظمی صاحب،
جے این یو میں شعبہ عربی سے پروفیسر احسان الرحمان صاحب اور پروفیسر مجیب الرحمان صاحب،
س: مؤرخ ہونہار پروا کے چکنے چکنے پات اور پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں محاورے استعمال کرنے کے لیے آپ کے بچپن کا کوئی غیر معمول واقعہ جاننا چاہتا ہے. اس کی مدد کیجیے.
ج: لوگوں کے مطابق،
س: پہلی شادی کب ہوئی؟
ج: پہلی؟ کیا بھائی؟ ایک ہی ہوئی ہے۔۔۔ابھی! 2010 میں ہوئی۔۔
س: کتنی عمر میں؟ اس وقت آپ کون سا کورس کررہے تھے؟؟؟ آپ کی شادی کہاں ہوئی ہے؟؟؟
ج: 21 کا ہوا ہی تھا۔۔۔بی اے پہلا سال مکمل ہو گیا تھا. گاؤں کا نام ہے بکینہاں۔بلوہا،
س: دوران تعلیم شادی سے آپ کی مصروفیات پر کوئی اثر؟ آپ کی ذریت میں کہاں تک اضافہ ہوا؟
ج: شروع میں ایڈجسٹ کرنے میں دقت ہوئی تھی۔لیکن الحمد للہ،
دو سال کی ایک بچی ہے،
س: شمس الرب بھائ کہا جاتا ہے آپ انگریزی کے شاعر ہیں...جبکہ آپکی کسی بھی بات سے انگریزی دلچسپی نہیں جھلکتی...ایسا کیوں؟؟؟
ج: انگریزی زبان میں مجھے دلچسپی ہے،
میں نے انگریزی میں بہت کم نظمیں لکھی ہیں۔اس لئے ابھی شاعر کہنا مناسب نہیں ہوگا۔فی الحال،
مزید برآں،
س: والد سے تعلیم حاصل کرنے کا ایسا ایڈوانٹج جو غیر والد سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو نہیں ملتا؟
ج: والد صاحب مجھے اپنی چٹائی پر بٹھاتے تھے۔۔۔
س:قاری ابو القاسم فیضی صاحب کے تعلق سے آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟
ج: استاذ تھے۔عبادت گزار تھے۔انتہائی متقی تھے۔کچھ سخت مزاج تھے۔۔۔تفسیر اچھا پڑھاتے تھے۔منطق و تاریخ میں کچھ خاص استفادہ نہ کر سکا۔۔
س: سراج العلوم اور خیر العلوم نیز جمنی کے مدرسے پر تقابلی تبصرہ؟
ج: خیر العلوم کا شعبہ حفظ سراج العلوم کے شعبہ حفظ کے مقابلہ میں زیادہ معیاری تھا،
س: شمس الرب بھائ مجموعی اعتبار سے کس کتاب کا آپکی زندگی پر سب سے زیادہ اثر پڑا(اسکا یہ مطلب نہیں کہ اپکی پسندیدہ کتابیں کون کون سی ہیں)
ج: قرآن کریم۔۔۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اس کتاب کو اپنی زندگی میں مکمل طور پر نافذ کرنے میں کامیاب ہو پایا ہوں۔
س: حافظ زبیر سے پڑھا ہے سراج العلوم میں آپ نے؟ کوئی لطیفہ سنائیے ان کا.
ج: الحمد للہ،
س: شمس الرب بھائ ایک مکمل مدرسے کے طالبعلم ہوکر ایک یونیوسٹی میں لیکچرر...کچھ عجیب سا لگ رہا ہے شاید!
آپ نے کیا فرق محسوس کیا (ہر اعتبار سے مختصرا)؟ مدارس کو آہنگ کرنے میں رول؟؟؟
ج: کیوں عجیب ہے بھائی؟ الحمد للہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مدرسے سے تعلیم حاصل کی اور اب یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔
مدارس دینی تعلیم کے لئے بنے ہیں۔اس لئے مدارس کا ماحول مجموعی طور پر دینی ہے۔یونیورسٹی میں دینی پابندیاں نہیں ہیں۔نسبتا زیادہ آزادیاں ہیں۔پھر طریقہ تدریس میں بھی فرق ہے۔
مدارس کو طریقہ تدریس میں تھوڑی سی تبدیلی کی ضرورت ہے۔تدریس کے دوران،
س: کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یونیورسٹی اور مدرسے کے فارغین میں ذہنی طور پر کافی دوری ہوتی ہے.. جو آگے چل کر دینی،
ج: کچھ دوریاں مصنوعی ہیں،
مصنوعی دوریوں کو زیادہ سے زیادہ مثبت تبادلہ خیال کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ایک بار،
س: شمس الرب بھائ بھت سے ساتھیوں کا معاملہ ہے وہ یونیورسٹی جانے کے عجیب ترفع کا شکار ہوجاتے ہیں اور خود کو کسی دوسری دنیا کا سمجھ بیٹھتے ہیں مدرسوں کو کچھ فایدہ تو نہیں پہنچاتے مگر مغلظات سے ضرور نوازتے ہیں. آپ اس رویے کو کیسا دیکھتے ہیں؟
ج: انتہائی غلط رویہ ہے۔اگر کسی کو کہیں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوتی ہے،
اور رہی بات ترفع کی،
س: آپ کی ترقی سے ہمیں بے انتہا خوشی ہورہی ہے اللہ تعالیٰ مسلم نوجوانوں کو ایسے ہی آگے بڑھنے کی توفیق دے درس نظامی سے فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم کی مزید خواہش ہونے کے باوجود کچھ نامور قومی دانشگاہوں تک نہیں پہنچ پاتے ایسے بھائیوں کے لئے آپ کا کیا مشورہ ہے؟
ج: آمین!
پڑھنے کی خواہش ہے تو راہ نکل آئے گی،
س: آپکو مدنی نہ ہونے کا افسوس تو ہوگا ضرور! تو کیا آپ مدینہ گئے بغیر اپنے مقاصد تک پہونچ گئے یا پاگئے یا کم از کم سکتے ہیں؟؟؟
ج: مدنی ہونا اعزاز کی بات ہے،
لیکن میرا ارادہ پہلے سے ہی بھارتی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔اس لئے سعودی جامعات کے لئے کوشش ہی نہیں کی: داخلے کے لئے اپلائی ہی نہیں کیا۔۔۔
الحمد للہ،
س: کچھ لوگ کا کہنا ہے کہ جو مدینہ سے فارغ نہ ہو وہ گویا غیر شادی شدہ مرد کی طرح علم میں کنوارا ہے. یہ کہاں تک درست ہے. جبکہ ماضی اسکے سراسر خلاف ہے.
ج: میں اس کو درست نہیں سمجھتا ہوں۔علم کسی خاص جغرافیہ،
س: آپ نئ نسل سے بہت قریب ہیں،
ج: یہ دور انفجار معلومات کا ہے۔نئی نسل اسمارٹ اور ہائی ٹیک ہے۔عموما اس نسل کی رسائی معلومات تک بہت زیادہ ہے۔۔۔لیکن۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ نئی نسل معلومات کی مالک نہیں بلکہ غلام ہے،
معلومات کی حد درجہ زیادتی کی وجہ سے دو پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔پہلی پریشانی ہے معلومات کی پروسیسنگ نہ کر پانا۔دوسری پریشانی ہے،
میرا پیغام آسان سا ہے۔
پہلے مرحلے میں،
س: شمس الرب بھائی!!! آپ کے پسندیدہ مضامیں کیا کیا ھیں؟؟
ج: میرے پسندیدہ مضامین:
1- زبان و ادب (عربی،
2- دراسات اسلامیہ
3- سیاسیات (خصوصا بین الاقوامی تعلقات)،
4- سماجیات
5- تاریخ
س: شمس الرب بھائ آپ جبکہ مختلف زبانیں جانتے ہیں تو تمام زبانوں میں جن پر مکمل دسترس رکھتے ہیں کون سی زبان سب سے زیادہ محبوب لگی...اور اس زبان پر کیا احسان کریں گے؟
ج: میں اودھی،
اس لئے علمی طور پر،
اردو اور انگریزی کی پسندیدگی ان کی مختلف شعبوں میں مزاج سے موافقت یا افادیت کی وجہ سے ہے۔۔۔
احسان کیا خدمت کرنا چاہیں گے! زبان سے،
س: مدارس کے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں.. صلاحیتوں کے باوجود عصری علوم کی طرف رغبت ہونے کے باوجود رخ کم ہی کرپاتے ہیں... الا یہ کہ کسی کو بہتر گائیڈینس مل جائے..
کیا آپ بھی ایسا محسوس کرتے ہیں ان کے متعلق؟ اگر ہاں تو اس کا کچھ اپائے..
اگر نہین تو پھر یہ سوال دوسرے کے لیے بچا رکھنا پڑے گا...
ج: "مدارس کے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں"؛
مسئلہ یہ ہے کہ مدارس کا داخلی نظام ایسا ہے کہ یہ الگ تھلگ جزیرہ لگتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ اس انعزال کو دور کر کے ہی یہ احساس کمتری ختم کی جا سکتی ہے۔اور ایسا مدارس کے دینی ڈھانچہ کو بر قرار رکھتے ہوئے کیا جا سکتا ہے۔
س: آپ مکمل عالم مع لیکچرر ہیں...
بطور لیکچرر کے آپ دین کی کون سی خدمت انجام دے رہے ہیں یا کم ازکم فیوچر پلان رکھتے ہیں؟؟؟
ج: میں عربی زبان و ادب دینی شعور و رجحان کے ساتھ پڑھاتا ہوں۔اس سے بڑی دین کی خدمت اور کیا ہوگی؟
س: ماشاءالله دینی مدارس سے آپ نے تعلیم حاصل کی ہے اور اب عصری ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں؛
ج: ہندوستانی مدارس میں،
ٹھیک ہے،
مدارس کو چاہئے کہ کم از کم ثانویہ تک طبیعیاتی سائنس اور معاشرتی سائنس کی تعلیم ضرور دیں۔
آگے کے مرحلہ میں،
س: دونوں (دینی و عصری)اداروں میں طریقہ تدریس میں کیا فرق پایا؟
ج: فرق درج ذیل ہیں:
1- کلاس روم کی ظاہری ترتیب:
-جامعہ سلفیہ میں دری پر تپائیوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں،
-کلاس روم میں بلیک بورڈ یہاں بھی تھا وہاں بھی۔لیکن یونیورسٹی میں بلیک بورڈ کے ساتھ پروجیکٹر بھی تھا۔
2- معنوی فرق:
-یونیورسٹی میں پروجیکٹر کی دستیابی کی وجہ سے،
-مدارس میں نصابی کتابیں تھیں،
-یونیورسٹی میں لیکچرس آزادانہ اور بے تکلفانہ ماحول میں ہوتے تھے۔میری مراد یہ ہے کہ استاذ کا ایسا رعب،
مدارس میں یہ آزادانہ اور بے تکلفانہ ماحول نہیں پایا۔ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے اساتذہ ہی ذمہ دار ہوں،
-یونیورسٹی میں اساتذہ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ طلبہ کو اکتاہٹ نہ ہو۔وہ سیکھیں لیکن مزے لے لے کر۔مدارس میں شاید مناسب تفریح کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،
س: شمس الرب بھائ آپ نے اوپر کہا میں دکتورہ کررہا ہوں...پی ایچ ڈی میں مقالے کا عنوان کیا ہے؟ اور اپ نے کیوں یہی عنوان چنا؟؟؟
ج: پی ایچ ڈی مقالہ کا موضوع:
الموضوعات الإجتماعية و السياسية في روايات الدكتور غازي عبد الرحمن القصيبي: دراسة تحليلية
سعودی ناول نگار ہیں۔شاعر بھی ہیں۔سعودی حکومت کے قریب تھے۔وزیر اور ٹیکنو کریٹ تھے۔
ان کا ناول شقة الحرية پڑھا۔بے حد پسند آیا۔۔۔ناولیں پسند ہیں۔سعودی ادب پر کم کام ہوا ہے۔سماجی اور سیاسی امور سے گہری دلچسپی ہے۔بس،
س: انگریزی زبان سے مرعوبیت بھی اس احساس کمتری کو بڑھاوا دیتی ہے؟؟؟ایک بڑے عالم دین کے صاحبزادے جو ایک بڑے مدرسہ کے ذمہ دار بھی ہیں.. ان کا مشورہ کہ پانچویں کلاس تک بچوں کو تعلیم انگریزی اسکولوں میں دلوائی جائے... پھر مدارس کا رخ کرایا جائے.... اس مشورہ میں کتنا دم ہے؟
ج: ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔لیکن انگریزی کو ضروری سمجھتے ہیں تو اس کی تعلیم خود اپنے یہاں دیں نا! ان کا مشورہ الٹا ہے۔۔۔میرا خیال ہے کہ پہلے تعلیم مدارس میں ہونی چاہئے پھر اور کہیں۔۔۔۔
س: کیا سلفیہ میں دوران تعلیم عصری اسکولوں سے استفادے کی اجازت عام ہے یا یہ "کارِشر" چپکے چپکے انجام دینا پڑتا ہے...؟ اکثر مدارس میں یہ کاریہ ممنوع ہے... ابھی حال کا واقعہ ہے مدرسے کا ایک بچہ جو ابن مولانا بھی ہے ایس ایس سی امتحان کی تیاری کررہا لیکن مولانا صاحبان امتحان کی اجازت نہیں دے رہے... بلکہ طالبعلم کے والد ماجد کے دوست مولانا صاحب نے یہاں تک کہا کہ مجھے خبر ہوتی تو پہلے ہی نام کٹوا دیتا...اجازت کو موثر سمجھتے ہیں یا ممانعت کو دینی تعلیم کے حق میں معاون...؟
ج: اجازت قطعا نہیں تھی۔چپکے سے انجام دیا۔
میرے خیال سے مدارس میں دسویں تک نصاب عصری اسکولوں سے ملتا جلتا ہونا چاہئے اور دسویں کا امتحان مدرسہ و بورڈ دونوں سے ہونا چاہئے۔میں نے سنا ہے کہ محمدیہ مالیگاؤں میں اس کا نظم ہے۔جو بچہ اس کے بعد عصری میدان میں جانا چاہے،
اس کے بعد،
س: ما شاءاللہ آپ مختلف زبانوں کے جانکار ہیں اسی سے متعلق ایک سوال کہ اگر کوئی مختلف زبان سیکھنے کی خواہش رکھتاہے تو وہ کیا کرے؟؟یعنی مرحلہ وار سیکھا جایے یا بیک وقت سب چیز پڑھی جایے؟؟؟؟
ج: جن زبانوں کی مجھے جانکاری ہے،
لیکن ابتدائی مرحلے کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب اس زبان کا گہرا علم حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ایسی صورت میں اس زبان پر زیادہ توجہ کرنی پڑتی ہے اور نسبتا زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔اس مرحلے میں متعلم کو چاہئے کہ وہ اپنی دلچسپ صنف سخن کا تعین کر لے اور اس صنف سخن میں سب سے دلچسپ ادیب کو مکمل طور پر پڑھ لے۔اس سے،
کسی زبان کو سیکھنے کے لئے اس کو کئی سالوں تک تھوڑا تھوڑا برتنا پڑتا ہے۔میرا ماننا یہ ہے کہ ایک یا دو سال میں کسی بھی زبان کا گہرا علم حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے. زبان سیکھنے کا عمل کئی سالوں تک جاری رہتا ہے،
س: شکرا جزاک اللہ!
لگے ہاتھ افادہ عامہ کے لیے اگر مرحلہ وار تقاضوں کا تعین ہوجاتا تو کافی بہتر ہوتا؟؟؟؟
ج: شروعات گرامر و متن کی ابتدائی نصابی کتابوں سے ہونی چاہئے۔اس مرحلہ میں گرامر کی ضخیم و دقیق کتاب یا خالص ادبی متن متعلم کو حیران و پریشان کر دے گی۔اس مرحلہ میں دوسرے مضامین کے ساتھ ساتھ یہ عمل جاری رہنا چاہئے۔
دوسرے مرحلے میں بھی نصابی کتاب ہی ہونی چاہئے لیکن بلند معیار کی۔اس مرحلے میں خالص ادبی متن نہیں ہونا چاہئے۔
تیسرے مرحلے میں منتخب ادبی متن ہونا چاہئے۔۔۔۔
چوتھے مرحلے میں کسی پسندیدہ ادیب کی ساری دلچسپ کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔۔۔
اور اخیر میں تمام ادبی شاہکاروں کا مطالعہ جس حد تک بھی ممکن ہو۔۔۔ہر مرحلہ کے ساتھ وقت اور توجہ میں اضافہ ہوتے رہنا چاہئے۔۔۔
س: یہ مسلم سماج میں مذہب کے سرپرست.. مسلمانوں کی مذہبی ضرورت پورا کرنے کے لیے طلبہ کو اس لائق ہی نہیں چھوڑنا چاہتے کہ وہ دوسرے میدان میں جاسکے.. ان کا دعوٰی ہے کہ اگر ہائی اسکول کروا دیا تو ایک بھی طالب علم شریعت کالج میں داخلہ نہیں لے گا.. بلکہ سب کے سب عصری اسکولوں کا رخ کریں گے.. اور اس طرح سے مسجد و مدرسے کی پیشوائی نیز مزہبی ضرورت کبھی پوری نہیں ہوپائے گی..
ج: ان کی یہ سوچ غلط ہے۔سب نہیں جائیں گے۔بلکہ اکثر نہیں جائیں گے۔اور جو جائیں گے بھی وہ آپ کے ساتھ ہمدردانہ جذبات رکھیں گے،
صرف اتنا ہوگا کہ جو رہیں گے محبت کے ساتھ رہیں گے مجبوری میں نہیں۔اور یہ فرق بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہوگا ان شاء اللہ۔۔۔
س: شمس الرب بھائی! جامعہ سلفیہ میں اپنے بعض مشہور ساتھیوں کا نام بھی ذکر کردیں...ان میں سے کوئی ایسا بھی ہے جس کی کامیابی کو آپ یہاں ذکر کرنا چاہیں گے.....
عربی اور انگریزی کو شوق و رغبت سے پڑھنے کی ابتداء کب سے ہوئی؟
جامعہ سلفیہ میں آپ کے ماسٹر حبیب اللہ تھے یا حبیب الرحمن صاحب جو مدنپورہ سے تعلق رکھتے ہیں اور D. L. W. کالج سے رٹایرڈ تھے؟
عربی زبان انگریزی میڈیم سے پڑھنے کی ابتداء کب سے ہوئی؟
ایسے اسکول جو ذاکر نایک صاحب کے طرز پر ہیں اور ابتداء ہی سے عربی زبان انگریزی میڈیم سے پڑھا رہے ہیں ان کا مستقبل آپ کیسا دیکھتے ہیں؟
ج: صدیق احمد نفیس احمد،
نور عالم مجھ سے ایک سال جونیئر تھے۔فی الحال وہ مسجد نبوی میں اردو مترجم اور اعزازی طور پر اسسٹنٹ پروفیسر،
عربی و انگریزی میں رغبت ابتداء ہی سے تھی۔البتہ،
جی،
استاذ محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ سے زیات کی تاریخ الادب العربی پڑھی۔ادبی ذوق پیدا کرنے میں یہ ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا۔آپ عربی الفاظ کا اردو میں ترجمہ اس طرح کرتے تھے کہ دل و دماغ روشن ہو جاتے تھے۔صرف اردو میں نہیں بلکہ کچھ اصطلاحی الفاظ کا انگریزی متبادل بھی پوچھتے تھے،
ذاکر نایک کے طرز پر چل رہے اسکولوں کا مستقبل تابناک ہے بشرطیکہ حکومت چلنے دے۔۔۔
س: جے این یو کا تعلیمی ماحول کیسا ہے؟ ہم نے بہت سارے ساتھیوں کو وہاں جانے کے بعد دین بیزار بھی پایا ہے جب کہ انہوں نے ایک لمبی مدت دینی مدارس میں گزاری ہے؟ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا داڑھی رکھ کر وہاں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟
ج: جے این یو کا تعلیمی ماحول پورے کیمپس کو سموئے ہوئے ہے۔میری مراد یہ ہے کہ جے این یو میں کلاس روم میں پڑھائی کم ہوتی ہے،
جے این یو آپ کو آپ کے دین کے ساتھ قبول کرتا ہے۔آپ کو اپنے دین پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔اس کے ثبوت کے طور پر مرکزی لائبریری میں نماز با جماعت کا قیام،
اگر دینی مدارس سے وہاں جا کر کچھ لوگ دین بیزار ہوگئے ہیں تو اس کے لئے جے این یو سے زیادہ شاید مدارس کا تعلیمی و تربیتی نظام ذمہ دار ہے۔جے این یو میں الحادی نظریات ہیں۔لیکن وہ صرف سافٹ پاور استعمال کرتے ہیں،
س: غازی القصيبي سعودیہ کی ان گنی چنی شخصیات میں سے ہیں جنہیں عرصہ دراز تک شاہان مملکت کا اعتماد حاصل رہا. ان کی تحریریں عربی زبان و ادب کی شاہکار ہیں. بہت مشاق ڈپلومیٹ رہے ہیں اور ایک کامیاب منتظم کار بھی. اپنی بعض فکری إنتاج کے سبب علماء کے فتوے بھی صادر ہوئے . علم الإدارة پر اک اچھی کتاب بھی لکھے ہیں. جدت پسندوں اور ادباء ومفکرین کے درمیان ان کی بڑی قدر و منزلت ہے. وہ اپنے آپ میں علم وادب کے بحر بے کراں تھے. اس عظیم شخصیت پر پی ایچ ڈی کا رسالہ ان کی خدمات کو ہمیشہ کے لیے ذندہ و جاوید رکھے گا. مزید روشنی ڈالنے کی زحمت فرمائیں کہ ان پر نظر انتخاب کیسے پڑی؟
ج: قصیبی صاحب کا نام جے این یو ہی میں اپنے ایک دوست سے سنا۔انہوں نے قصیبی کے ایک ناول العصفوریة پر اپنا ایم فل کا مقالہ لکھا تھا۔بھارتی یونیورسٹیوں میں زیادہ تر کام مصر،
یہی وجہ تھی کہ میری نظر اسی خطہ پر تھی۔قصیبی صاحب کا نام سنا تو ان کو پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔العصفورية اپنے دوست ہی سے لے کر پڑھی۔اس کے بعد ان کا سب سے شاندار ناول شقة الحرية زیر مطالعہ رہا۔۔۔پھر ان کے دیگر ناول۔
ناولوں کے علاوہ،
ان کے دو ناولوں شقة الحرية اور العصفوریة نے خاص طور پر متاثر کیا۔بقیہ ناولیں فنی و موضوعاتی اعتبار سے قدرے کمزور ہیں،
مشرف سے بات ہوئی۔وہ بھی متفق۔بس،
یہ سب اسباب تھے قصیبی صاحب کو منتخب کرنے کے پیچھے۔۔۔
مجھے خوشی ہوگی اگر آپ کسی بھی طرح سے میری مدد کر سکیں گے۔۔۔
س: آپ نے کہا کہ آپ سیاسی موضوع سے دلچسپی رکھتے ہیں ماشاء اللہ
تواسلامی سیاسی نظام اور اسکی تعبیر اور موجودہ اور سابقہ سیاسی نظریات کے بارے میں آپ کا کیا رجحان ہے اور اسلامی سیاسی نظام کانفاذ کیونکر ممکن ہو اسکا طریقہ کار کیا ہو اور فی الحال جو جماعت اس سلسلے میں سرگرم ہے اسے کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟؟؟؟؟
واضح رہے یہ ایک معروضی سوال ہے جسےمحض جانکاری کے لیے پوچھا گیا ہے
امید ہے کہ جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
ج: یہ اب تک کا سب سے خطرناک سوال ہے۔میں بساط بھر اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔لیکن اس سوال کا جواب تفصیل اور دقت طلب ہے۔مجھے وقت چاہئے۔۔۔
س: کمیونزم کے بارے میں جے این یو جانے بعد آپ کے نظریہ میں کوئی تبدیلی آئی؟
ج: جے این یو جانے سے پہلے کمیونزم کے بارے میں پڑھا تھا۔جے این یو میں اس کی عملی ہیئت دیکھی۔۔۔لیکن،
دیکھئے،
اس کے علاوہ،
اس لئے بھارت یا جے این یو کی کمیونسٹ تحریکوں کے ساتھ ہمارے تعامل کی بنیاد خالص نظریاتی یا غیر بھارتی حقائق پر منحصر نہیں ہونی چاہئے۔۔۔
مختصرا،
س: شمس الرب بھائی! مطالعہ کے سلسلے میں آپ کا طریق کار کیا ہے؟ کیا ٹائم ٹیبل بنا کر مطالعہ کرتے ہیں؟ مطالعہ کا مخصوص وقت کون سا ہے؟ مطالعہ کرتے وقت کاپی قلم لے کر بیٹھتے ہیں؟ کیا موبائل اور لیپ ٹاپ سے مطالعہ کی عادت ہے؟
ج: میں نے مطالعہ کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں بنایا ہے۔فرائض و واجبات کی ادائیگی کے بعد جو وقت ملتا ہے اس میں سے تھوڑا سا وقت سیر و تفریح کے لئے نکالتا ہوں،
عموما صبح میں اس دن کے لیکچرس کی تیاری کرتا ہوں۔اس کے بعد ناشتہ،
گھر سے یونیورسٹی پہونچنے میں کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے لگتے ہیں۔اس میں سے آدھا گھنٹہ بے عملی کے حصہ میں چلا ہی جاتا ہے۔
ٹرین میں مطالعہ کے لئے،
یونیورسٹی میں لیکچرس کے بعد فاضل وقت استاذ یا ساتھی اساتذہ کے ساتھ یا حسب ضرورت کمپیوٹر پر سرچ کرنے میں۔واضح رہے میں کمپیوٹر پر کبھی بھی مطالعہ برائے مطالعہ نہیں کرتا ہوں،
بقیہ ہفتہ میں دو دن جمعہ اور سنیچر کوئی لیکچر نہیں لینا رہتا ہے۔۔۔اس لئے یہ دو دن مکمل طور پر مطالعہ کی نذر۔۔۔
کاپی قلم لے کر مطالعہ کرنے نہیں بیٹھتا ہوں۔کتاب یا پرنٹیڈ مواد پڑھتے اسی پر ملاحظات وغیرہ لکھتا ہوں۔کنڈل پر پڑھتے ہوئے جہاں ممکن ہوتا ہے ہائلائٹ اور نوٹ لکھنے کا آپشن استعمال کرتا ہوں۔اور جہاں یہ سب ممکن نہیں ہوتا وہاں معاملہ یاد داشت کے سپرد کر دیتا ہوں۔۔۔۔
اتنی تفصیل کے لئے معذرت!!!
س: عربی ادب میں آپ کے پسندیدہ رائٹر کون ہیں اور کیوں؟
ج: عربی ادب میں میری پسندیدہ کتابیں کئی ہیں! لیکن مقدمة ابن خلدون سب سے زیادہ پسند ہے۔۔۔
زبان میں سادگی اور روانی ہے۔ایک منفرد خصوصیت اس کتاب کی یہ ہے کہ یہ ادبی اور علمی طرز تحریر کا ایک لاجواب امتزاج ہے۔۔۔
سب سے بڑی بات ہے اس کتاب میں پیش کئے گئے افکار و نظریات۔انتہائی نادر اور اچھوتے افکار و نظریات۔موجودہ دور میں کچھ افکار و نظریات کا رد کیا جا سکتا ہے،
س: آپ کو کس قسم کے لوگ پسند ہیں؟ تنہائی پسند ہیں یا مجلسی ہیں؟ آپ کی شخصیت کا کوئی خاص پہلو جو دوسروں سے آپ کو ممتاز کرتا ہو؟
ج: سادہ اور بے تکلف لوگ پسند ہیں۔خلوت پسندی کا غلبہ ہے۔
میں اپنی شخصیت کے کسی ایسے خاص پہلو کی تحدید کرنے سے قاصر ہوں جو مجھے دوسرے لوگوں سے ممتاز کرتا ہو۔شاید دوسرے لوگ اس کی تحدید بہتر ڈھنگ سے کر سکیں۔۔۔
س: معیار تعلیم جامعہ ملیہ میں زیادہ بہتر یا پھر جے این یو میں؟ اور کیوں؟
ج: صرف جے این یو ہی میں تعلیم حاصل کی ہے،
س: آپ کی کوئی کتاب منظر عام پر آ چکی ہے؟ مضامین ومقالات کہاں کہاں چھپے؟
ج: ابھی تک کوئی کتاب منظر عام پر نہیں آئی ہے۔کبھی فضیلت کے مقالہ کو کتابی شکل میں شائع کرانے کا سوچا تھا لیکن بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ مزید دراسہ،
مضامین زیادہ نہیں لکھتا یا لکھ پاتا۔جو لکھتا ہوں وہ اپنے بلاگ پر ڈال دیتا ہوں۔ممبئی سے نکلنے والا مجلہ دی فری لانسر میرے مضامین کی نوعیت سے میل کھاتا تھا اور اس کو جاننے کے بعد اس کے لئے باقاعدگی کے ساتھ لکھنے کی خواہش تھی،
س: جے این یو کے کمیونزم کا اثر وہاں کے دیگر (مدارس کے فارغین) مسلم طلبہ پر کیسا اور کتنا ہے؟
پچھلے دنوں جماعت اسلامی کی ایک مشہور شخصیت کے بیٹے نے جو جے این یو میں زیر تعلیم تھا اعلان کیا کہ ملحد ہے اور مذھب اور خدا کی ذات پر ایمان نہیں رکھتا.
کیا جے این یو میں ایڈمیشن مسلم طالب علم کے مذہب کے لیے رسک ہے؟
ج: جے این یو کے ماحول کے بارے میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔مدارس کے طلبہ پر اثر کے تعلق سے بھی میرا زاویہ نظر آ چکا ہے۔ثناء اللہ بھائی نے اس پر روشنی ڈالی ہے اور کمیونزم سے کہاں احتیاط کرنا چاہئے اس کے بارے میں بھی وہ بتا چکے ہیں۔
اور رہی بات رسک کی،
باقی،
س: مدارس کا جو طریقۂ تعلیم ہے،
ج: میرے خیال سے طرز کہن میں وقت و احوال کے حساب سے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔زبان سیکھنے و سکھانے کے تعلق سے موجودہ دور میں انقلابی تبدیلیاں آچکی ہیں جن پر ٹیکنالوجی،
س: ہندوستانی مدارس نہیں،
ج: جامعات میں عربی شعبے برقرار رہیں گے،
یہ دور نجی شعبوں کا ہے۔اس لئے جب تک نجی شعبوں میں عربی کی ضرورت رہے گی،
س: جامعات کے وہ کون سے پروفیسرز ہیں جن کی عربی دانی سے آپ متآثر ہوۓ؟
ج: پروفیسر احسان الرحمن صاحب،
س: ندوے اور سلفیہ کے اسلوب میں کوئ فرق؟
ج: ندوے کے اسلوب سے نا واقف ہوں۔سلفیہ میں میرے دور میں عربی مضمون نگاری پر توجہ بہت کم بلکہ نا کے برابر تھی۔۔۔اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
س: عربی کی وہ کون سی کتابیں ہیں،
ج: فی الحال فلسطینی افسانوں اور ناولوں پر میری نظر ہے۔۔۔
غسان کنفانی کے ایک افسانے کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا،
رہے بات اردو میں ترجمہ کی،
غسان کنفانی کا ہی ایک ناول ہے " رجال في الشمس". اس کو بھی اردو کا جامہ پہناؤں گا ان شاء اللہ۔کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔انتہائی پر سوز ناول ہے۔پڑھتے ہوئے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔۔۔۔افسانوں کے بعد اس کی بھی باری آئے گی ان شاء اللہ۔۔۔اللہ رب العالمین سے توفیق و مدد کا طالب ہوں!
س: عبدالعزیز میمنی،
ج: ہر قوم کا آنے والا کل گزرے ہوئے کل سے بہتر ہو رہا ہے،
س: عالمگیریت کے عفریت نے بہتیری زبانوں کا وجود خطرے میں ڈال دیا ہے،
ج: عربی زبان کے پاس ایک مضبوط خطہ ہے۔اس میں سیندھ لگایا جا سکتا ہے لیکن مسمار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔
عربی خود کو عالمی سطح پر منوا چکی ہے۔اقوام متحدہ میں ایک رسمی زبان کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔جدید عربی ادب بھی عالمی سطح پر نمایاں ہے۔۔۔'تیل کی زبان' ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت ہے۔۔۔لیکن...
عالمگیریت کے اس دور میں زبان کا وجود کوئی مسئلہ نہیں ہے،
س: مدارس کے وہ طلبا جو عربی سے شغف رکھتے ہیں ان کیلیۓ کوئ پیغام؟
ج: زبان و ادب کے علم میں گہرائی و گیرائی لائیں۔مطالعہ کرتے رہیں. ہمیشہ سیکھتے رہیں چھوٹے بڑے ہر کسی سے۔۔۔اور۔۔۔
عربی کے ساتھ انگریزی پر بھی توجہ دیں۔ترجمہ و ترجمانی پر دھیان دیں۔ان دونوں زبانوں میں مہارت آپ کو معاشی طور پر مضبوط بنائے گی۔۔۔یہ اہم ہے اور جدید دور کی حقیقت ہے۔۔۔معاش کے علاوہ اعلی تعلیم کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔۔۔علمی و عملی میدان میں اس کی ضرورت قدم قدم پر پڑے گی۔۔۔
س: طلباۓ مدارس عالمیت یا فضیلت کے بعد مزید تعلیم کیلیۓ سعودی جامعات کا رخ کریں یا ہندوستانی جامعات کا؟ کیا ہندوستان میں ان کا مستقبل روشن ہے؟
ج: طلبائے مدارس اعلی تعلیم کے لئے پہلے سعودی جامعات ہی کا رخ کرتے تھے،
کون کہاں جائے،
جن کی دلچسپی زبان و ادب سے ہے،
میں چونکہ ایک بھارتی یونیورسٹی سے جڑا ہوا ہوں اس لئے ہو سکتا ہے کہ کچھ تعصبات در آئے ہوں،
آخر میں فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں۔۔۔
س: ہندوستانی جامعات میں عربی کے جو شعبے ہیں،
ج: میرے خیال سے جے این یو کا شعبہ قوی ترین ہے۔شعبہ اپنے آپ میں قوی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ دوسری یونیورسٹیوں کے شعبوں سے زیادہ قوی نہ ہو لیکن جے این یو کا عمومی کلچر اس کو قوی ترین بناتا ہے۔۔۔
س: مدارس کے وہ طلبا جن کی عربی اچھی ہے،
ج: انگریزی بھی اچھی کرنی پڑے گی۔اس کے بعد،
س: نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی وبدیلی ہوتی رہے گی... زائد از سو سالوں سے اس طرح کے مطالبے اور مشورے جاری وساری ہےن... نتیجتا تھوڑا بہت ٹس سے مس ہوگیا.. میرا سوال یہ ہے کہ
اب پتا نہیں کب یہ سب بدلے یا بدلے بھی نہیں ایسی صورت میں رائج الوقت کو مدنظر رکھتے ہوئے دینی مدارس کے طلبہ زمانہ کا مقابلہ یا ساتھ دینے کے لیے کیا راستہ اختیار کریں؟
ج: بہت محنت کرنی ہوگی،
س: جے این یو میں مدرسہ سے فارغ علماء کی تعداد کتنی ہے؟ کس جامعہ کے فارغین زیادہ ہیں؟ کس جامعہ کے فارغین پرفامنس اچھا ہے؟
ج: تعداد کا احصاء نہیں ہے۔لیکن اچھی خاصی تعداد ہے۔
سنا تھا کہ پہلے ندوہ کے فارغین زیادہ تھے،
وہاں داخلہ حاصل کرنے والے عموما سب اچھے ہوتے ہیں۔معاملہ تقریبا برابری کا ہے۔۔
س: کیا آپ کو خطابت سے بھی دلچسپی ہے؟ جمعہ وغیرہ پڑھاتے ہیں؟ جلسوں میں شریک ہوتے ہیں؟ دینی جلسوں اور ان میں تقریر کرنے والے خطبا کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے؟
ج: علمی خطابت میں دلچسپی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ میں عموما مختصر لکھنے اور بولنے کا عادی ہوں۔اس لئے۔۔۔
جمعہ کو یونیورسٹی میں رہنا پڑتا ہے۔اس لئے جمعہ پڑھ سکتا ہوں،
جلسوں میں حسب توفیق شرکت کرتا ہوں۔زیادہ تر یک خطیبی پروگرام میں شرکت کرنا پسند کرتا ہوں۔کبھی کبھی جلسوں میں بھی شرکت کرتا ہوں۔آپ کی تقریر پہلی بار گھاٹ کوپر میں تقلید کے موضوع پر سنی۔آپ ایک ماہر خطیب ہیں،
شیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کا حدیث کا گہرا علم متاثر کرتا ہے۔دینی جلسوں کی افادیت ہے ضرور،
س: جماعت کے حفظ کے اداروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کس قسم کی تبدیلیاں اور اصلاحات چاہتے ہیں؟
ج: حفظ کے ساتھ نقل و املاء کی مشق کرائی جاتی ہے۔میرے خیال سے ہلکا پھلکا ہی سہی کچھ مضامین کی تعلیم دینی چاہئے۔لیکن میں اس کی افادیت کے تعلق سے بہت پرامید نہیں ہوں۔۔
س: جے این یو میں قیام کے دوران کیمپس میں کسی دعوتی سرگرمی میں شامل رہے؟ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان دعوتی کام کرنے کے سلسلے میں آپ کے کچھ مشورے؟
ج: نہیں،
کالج و یونیورسٹی میں یا کہیں اور،
ہر مسلمان یا ہر عالم یا کم از کم اکثر علماء با اخلاق ہونے چاہئیں۔اچھے اخلاق سے ان کو خود سے قریب کریں یا کم از کم ان کو دین کی بات سننے کے لئے آمادہ کریں. پھر غیر شعوری طور پر اس کو دین کی دعوت دیں زیادہ تر اعمال سے اور کبھی کبھی الفاظ سے۔۔۔یہ واعظانہ طور طریقہ سے کہیں زیادہ کارگر ہے۔۔۔اگر دین نہیں قبول کرے گا تو کم از کم دین بیزار یا اسلامو فوبیا کا شکار نہیں رہ جائے گا۔۔۔ہماری شکایت یہ ہے کہ کمیونسٹ ہمیں چپکے سے زہر پلا دیتے ہیں۔آؤ ہم بھی ان کو کچھ پلاتے ہیں،
س: قارئین کی تعداد اور گھٹتے بڑھتے ترجیحات و رجحانات کو دیکھتے ہوئے کس زبان میں صحافت کو ترجیح دی جائے..
اردو رسالوں کے قارئین کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتایئے اردو رسالوں میں اب کس طبقہ کو ٹارگیٹ کیا جائے جس کا نتیجہ واہ واہی کے علاوہ بھی ہو؟
ج: موجودہ دور میں صحافت دنیا کی تقریبا ہر زندہ زبان میں ہو رہی ہے۔بس فرق صرف اتنا ہے کہ ایک خاص زبان میں صحافت کے رینج،
مثال کے طور پر بھارت میں زبان کے اعتبار سے صحافت کی تقسیم یوں کی جا سکتی ہے:
1- قومی،
2- علاقائی،
3- قومی،
پہلی قسم سے میری مراد ان زبانوں سے ہے جن کی صحافت قومی سطح پر ہے،
دوسری قسم کی صحافت میں ان زبانوں کی صحافت آتی ہے جو علاقائی سطح پر ہیں،
تیسری قسم کی صحافت میں ان زبانوں کی صحافت آتی ہے جو قومی سطح پر ہیں،
اردو صحافت کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ یہ قومی سطح پر ہے۔اردو صحافت کو اس پہونچ کو مزید وسعت و گہرائی دینی چاہئے۔
اردو صحافت کا اثر براہ راست نہیں بلکہ بالراست ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اردو صحافت اپنے قاری طبقہ کو خصوصا سیاسی طور پر مضبوط کر کے ہی مضبوط ہو سکتی ہے۔
اقتدار کے حصول کے لئے یا ایوان اقتدار میں با اثر ہونے کے لئے،
اشارہ سمجھئے،
س: شمس الرب بھائی سے بس ایک سوال اور عرض کرنا ہے.......... کیا آپ نے کبھی سول سروسز میں آنے کا ارادہ نہیں کیا؟؟؟ اپنے احباب کو اس فیلڈ سے متعلق کوئی مشورہ دینا چاہیں گے؟؟؟؟
ج: سول سروسز میں آنے کا ارادہ فضیلت سال اول میں آیا تھا۔اسی وقت سے تیاری بھی شروع کر دی تھی۔سلفیہ میں رہتے ہوئے،
ایم اے کے بعد،
فضیلت سال اول سے لے کر اب تک سول سروسز کو لے کر میرے افکار و خیالات میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں،
جو لوگ سول سروسز میں جانا چاہتے ہیں،
1- سول سروسز میں کامیابی پانے کے لئے کیا صلاحیتیں درکار ہیں؟
2- ان میں سے کون سی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہیں،
3- موجود صلاحیتیں قوی ہیں تو قوی تر کیجئے لیکن اس پر زیادہ وقت مت لگائیے۔۔۔
4- موجود صلاحیتیں کمزور ہیں تو ان کو قوی کرنے کی کوشش کریں۔اس کو پہلے سے زیادہ وقت دیں۔
5- غیر موجود صلاحیتوں کو وجود میں لائیے،
6- سول سروسز میں کوششوں اور عمر وغیرہ کی قیود کو دھیان میں رکھتے ہوئے نتائج کو 'زمنی' بنائیں۔۔۔
آخر میں،
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
س: جو ہے وہ کافی ہے لیکن ہل من مزید کا نعرہ اس لیۓ لگا رہا ہوں کہ اس گروپ میں کچھ طلبا ہیں،
ج: علامہ اقبال کا یہ شعر بہت روندا جا چکا ہے،
یقیں محکم،
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اسی کو حرز جاں بنائیں،
بقیہ،
س: ڈاکٹر شاہد صاحب اور آپ کے آنے کے بعد معیار تعلیم میں کتنی تبدیلی آئی ہے... اس سے پہلے عربی ڈیپارٹمنٹ کی حالت کافی خستہ تھی... ...
وہاں کے بچوں کی شکایت کچھ یوں تھی:
جی حضوری میں بجٹ پورا واپس ہوجاتا تھا... دروس کا انحصار چٹکلوں اور لطیفوں پر ہوتا تھا... بچوں کی تعداد کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی....
اور اب کیا نقشہ ہے؟ اور کیا ارادے ہیں؟
ج: موجودہ حالت یوں ہے:
-بجٹ پورا خرچ کر چکے ہیں۔بلکہ 'غیر متعینہ فنڈ' سے بھی بجٹ کے لئے درخواست کی جا چکی ہے۔
-سارا وقت چٹکلوں میں گزارنے والوں کو فارغ کیا جا چکا ہے۔
-فی الحال،
-ریگولر اور غیر ریگولر کورسز میں مجموعی طور پر تقریبا چھ سو بچے ہیں۔قصر مدتی کورسیز میں 20 سے 25 فیصد بچے غیر مسلم ہیں۔
-پہلے سعودی جامعات کے فارغین کو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔اب ہمارے پاس ان کی اچھی خاصی تعداد ہے۔
-پہلے مدرسہ بیک گراونڈ سے آنے والے طلبہ کے داخلہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی تھیں۔اب وہ اکثریت میں ہیں اور بسا اوقات ہم ان کی مدد 'مختلف طریقوں' سے بھی کرتے ہیں۔
ہم دونوں کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔۔۔
-اس منصوبہ میں درج ذیل فرعی منصوبہ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے:
-ہماری بنیاد مسلمان اور مسلمان علاقے ہیں۔ممبئی میں آمد و رفت کے مسائل ہیں،
ہمارا ارادہ شعبہ کو خود منحصر اور پائدار بنانے نیز مسلم سماج سے جوڑنے کا ہے۔۔۔
اللہ رب العالمین سے کامیابی کی التجا کرتے ہیں۔۔۔
س: مدرسوں کی سند سے بھی داخلہ فاصلاتی میں مل سکتا ہے؟
ج: ممبئی یونیورسٹی میں میرے علم کی حد تک اب تک یہ سہولیت نہیں ہے۔مدرسہ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر مدرسوں کی سند کی بنیاد پر مولانا آزاد یونیورسٹی وغیرہ سے گریجویشن وغیرہ کر کے آتے ہیں۔اس کے بعد ہی ممبئی یونیورسٹی انہیں داخلہ دیتی ہے۔سعودی جامعات جیسے جامعہ اسلامیہ،
س: مستقبل کے لیے کیا ٹارگیٹ ہیں۔کوئی ایسا کام جس کے لیے شمس الرب سلفی کو ان کے بعد بھی کیا جاتا رہے؟
ج: ان شاء اللہ،
س: ممبئی دہلی دونوں جگہ کا تجربہ ہے آپ کو۔دونوں شہروں میں فرق؟ دونوں میں آپ کا پسندیدہ کون سا شہر ہے؟
ج: دونوں شہروں میں موسم،
ممبئی بیحد پسند ہے۔۔۔اس لئے جے این یو جیسی جگہ چھوڑ کر آیا،
س: برادرم شمس الرب صاحب. سلامت رہیں. ایک اہم معلومات افزا اور تشجیعی اور عزم وحوصلہ سے بھرپور انٹرویو کے لئے تہ دل سے شکریہ .
اپنے تعلیمی زندگی کے تجربات اور سول سروسز کے حوالہ سے معلومات تفصیلی انداز میں شیر کریں گروپ میں بھی اور عموما مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کے لئے یہ سب انتہائی مفید اور کارآمد موضوع ہے. برائے مہربانی اس پر مزید روشنی ڈالیں کیونکہ عام طور پر یہ مزاج بنا ہوا ہے کہ داخل ملک طلبہ مدارس کے لئے ترقی کے راستے محدود ہیں. جبکہ حقیقت میں یہ صرف ایک وہم ہے. ان کے لیے آپ کے پاس کیا مشورے ہیں. ایک بار پھر شکریہ.
ج: سول سروسز مشکل ضرور ہے،
شاید ابھی زیادہ تفصیل سے نہ بتا پاؤں،
-سول سروسز میں کامیابی کے لئے اب انگریزی زبان پر مہارت ناگزیر ہو چکی ہے۔اگر آپ 'مینز' کے مرحلے میں جوابات اردو یا دیگر کسی تسلیم شدہ زبان میں لکھنا چاہتے ہیں،
-انگریزی زبان میں آپ کے فہم کا رینج متنوع اور وسیع ہونا چاہئے تاکہ نصاب میں شامل مضامین و موضوعات کا ادراک ہو سکے۔
-سول سروسز کے تینوں مرحلوں میں سے پہلے مرحلے میں سائنس،
-سب سے پہلے سیلیبس دیکھ لیں۔قوی و کمزور مضامین کا تعین کر لیں۔پھر مناسب مواد کے سہارے تیاری شروع کیں۔
-این سی آر ٹی کی کتابوں سے شروعات کریں۔
-این سی آر ٹی کے بعد،
-سول سروسز کی تیاری پوری یکسوئی کے ساتھ کریں،
-بقیہ،
نیک خواہشات کے ساتھ!
س: جامعہ سلفیہ کے فارغین میں مؤ کے حماد ظفر بھائی بھی ہیں....شمس بھائی آپ اگر ان کے بارے میں کچھ بتا سکیں.... تو ضرور شیر کریں...
ج: جی ہاں،
سول سروسز کے تعلق سے لکھتے ہوئے،
س: مدارس کے طلبہ میں یونیورسٹی کی طرف جانے کا جو رجحان پچھلے کچھ سالوں میں بنا ہے اس کے بارے میں کیا رائے ہے آپ کی؟
مسئلہ یہ ہے کہ مدراس کا بنیادی مقصد مسلم معاشروں کو علماء،
ج:
1- میرے خیال سے مدارس کے طلبہ میں یونیورسٹیوں کی طرف جانے کا رجحان خوش آئند ہے۔میرے خیال کے پیچھے دو بنیادی اسباب ہیں:
ا-زیادہ سے زیادہ علم کا حصول:
علم کی موجودگی ہی کسی قوم کو ترقی یافتہ بناتی ہے اور اس کا عدم ہی کسی قوم کو زوال یافتہ بناتا ہے۔مدارس کے بعد،
ب-مدارس کے فارغین میں وسیع تر سماجیت کا فروغ:
اس سے میری مراد یہ ہے کہ مدارس میں کم و بیش ایک ہی قسم کا ماحول ہوتا ہے: ایک ہی مذہب،
یونیورسٹیوں میں جانے کے بعد،
2- اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مدارس کے طلبہ میں یونیورسٹیوں کی طرف جانے کا رجحان کیوں پیدا ہوا؟ اس کے دو خاص اسباب ہیں:
ا-معاشی صورتحال: مدارس کے فارغین ہوں یا غیر مدارس کے فارغین،
ب-عزت نفس:
مساجد و مدارس میں عزت نفس کا خیال رکھنے کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے۔خود مساجد و مدارس کے ذمہ داران،
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یونیورسٹیوں میں پڑھ لینے کے بعد اور مساجد و مدارس کے علاوہ دیگر میدان عمل میں سرگرم ہونے کے بعد،
ہاں،
3- اب آتے ہیں مدارس کے بنیادی مقصد کی طرف۔یہ درست ہے کہ "مدارس کا بنیادی مقصد مسلم معاشروں کو علماء،
اچھے طلبہ یونیورسٹیوں کی طرف کیوں جا رہے ہیں،
اب رہا معاملہ امت کو اچھے علماء اور دعاۃ کی قلت کا،
حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ کو یونیورسٹیوں کی جانب جانے سے نہیں روک سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو روکنا مناسب ہے۔کیوں نہیں روک سکتے ہیں؟ یہ آپ مجھ سے زیادہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔روکنا اس لئے مناسب نہیں ہے کیونکہ،
اب آئیے کام کی بات کرتے ہیں:
بنیادی ذہنی تبدیلی:
مدارس سے یونیورسٹی چلے جانے والے طلبہ کو "اچھوت" نہ سمجھا جائے،
1- موجودہ دور میں مدارس کی "مذہبی یک رنگی" کو ایسی "مذہبی تعددیت" میں بدلنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا،
مدارس اپنی موجودہ مذہبی،
ا-نصاب تعلیم میں دینی علوم کے ساتھ رائج الوقت زبان/زبانوں اور کم از کم سماجی و انسانیاتی علوم کے لئے گنجائش نکالنی چاہئے۔لیکن چونکہ یہ آج کا مطالبہ نہیں ہے اور اس کو جزئی یا کلی طور پر مدارس نے مانا اور نافذ بھی کیا ہے،
ب-مدارس جائز حدود میں رہتے ہوئے اپنے طلبہ کو مختلف پروگراموں کی مدد سے باہر کی بدلتی دنیا سے روشناس کرا سکتے ہیں۔دینی،
قصہ مختصر یہ کہ ہماری ذہن سازی دفاعی نہیں ہجومی،
1- یونیورسٹیوں میں چلے جانے والے طلبہ کو مدارس سے جوڑے رکھنے کے لئے انتظامات کئے جائیں،
2- یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے کے بعد ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔اس کے لئے،
ا-مساجد و مدارس میں پہلے سے موجود لوگ بھی معاشی و نفسیاتی طور پر مضبوط ہوں گے.
ب-مدارس و یونیورسٹیوں اور ان کے طلبہ و اساتذہ کے درمیان مثبت تعلقات پیدا ہوں گے اور فائدہ مند تعلیمی لین دین کی فضا قائم ہوگی۔
ج-قوم کا دماغی سرمایہ کلی طور پر قوم ہی کے پاس رہے گا۔ہمارے پاس اس کی ایک روشن مثال ہے۔۔۔وہ نیر تاباں جس کا نام تھا مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔آپ نے جامعہ سلفیہ کی خدمت کرنے کے لئے یونیورسٹی کی ملازمت کو ٹھوکر مار دی تھی۔۔۔۔انہوں نے کیا خدمات انجام دیں؟ یہ بھی بتانا پڑے گا؟
4- مدارس کے جو فارغین یونیورسٹیوں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد بھی مساجد و مدارس میں نہ آکر عصری میدان میں چلے جائیں،
5- قوم کو علماء،
6- دعوت و تبلیغ ایک مقدس فریضہ اور ایک وسیع عمل ہے جو سماج کے ہر چھوٹے بڑے پلیٹ فارم پر،
آخر میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہاں مساجد و مدارس کا ذکر مدارس کے فارغین کی اکثریت کے مکان عمل کے طور پر ہوا ہے اور عددی ضرورت کی تعیین مساجد و مدارس کو دھیان میں رکھ کر کی گئی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ مساجد و مدارس کے علاوہ بھی مدارس کے فارغین کے لئے عمل کے بہت سے میدان ہیں،
اس لئے اگر صرف مدارس کے فارغین ہی سے کام لینا ہے اور مدارس کے فارغین کو موجود و ضروری لیکن کم توجہ پانے والے میدانوں میں لگا کر یونیورسٹیوں میں جانے سے روکنا ہے،
میں اپنی بات ختم کرتا ہوں ایک مختصر جملہ کے ساتھ،
توافق ہی حل ہے....





