جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

لبوں پہ قفل ہے میرے زباں خاموش ہے میری

کلام: فائز بلرامپوری13 مئی، 20201,443قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
لبوں پہ قفل ہے میرے زباں خاموش ہے میری
شبِ برگشتگی مہرِ بلب ہم دوش ہے میری
کہاں وہ جلوہ گاہِ دامن عشرت طلب اور وہ
کہاں میں اور یہ ویرانئ آغوش ہے میری
پئے جاتا ہوں پے در پے شراب ِ تلخئ دوراں
طبیعت ان دنوں نا آشنائے ہوش ہے میری
اسیرِ برقِ محفل ہوں گرفتارِ چراغاں ہوں
حقیقت بزمِ ہستی میں کہیں روپوش ہے میری
کہیں تو راہ گزازِ چین آجائے میسر اب
کہ یہ جاں سوزش ودردوالم بردوش ہےمیری
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

ف
فیضان اسعد
27 مئی، 2020
عمدہ غزل وااااہ
ر
ریاض الدین شاہد
13 مئی، 2020
عمدہ غزل

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

لبوں پہ قفل ہے میرے زباں خاموش ہے میری - دی فری لانسر | دی فری لانسر