جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

میں ترے دیش کا غریب سہی

کلام: گلؔ ندوی19 مئی، 20201,719قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میں ترے دیش کا غریب سہی
میری خاطر بھی کچھ کیا ہوتا
میں جیوں یا مروں بلا سے تری
مجھ کو گھر جانے ہی دیا ہوتا
میرا حاصل بھی کچھ نہیں حاصل
بوریا میں نے سی لیا ہوتا
صبح کا جشن تب مناتا میں
رات بستر پہ سو لیا ہوتا
فاصلوں سے نہیں ڈرا تھا میں
موت نے وقت تو دیا ہوتا
میرے مرنے پہ رو رہے ہو اب
کاش پہلے ہی دل دیا ہوتا
گلؔ کا دکھڑا نہ سن سکی بلبل
باغباں! تونے سن لیا ہوتا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

میں ترے دیش کا غریب سہی - دی فری لانسر | دی فری لانسر