جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غیرت

تحریر: ام ہشام21 مئی، 20201,982قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

جب اس نے نئے اسکول میں جانا شروع کیا تو تقریبا ہر روز ہمیں ایک سی بات سننے کو ملتی۔

امی! ٹیچر بہت سارا میک اپ لگاکر آتی ہیں

امی! ٹیچر دوپٹہ نہیں لیتیں

امی! ٹیچر ساڑی کیوں پہنتی ہیں؟

ہم اس کی بات سنتے اور اسے اپنے طریقے سے مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگتے۔

پھر رفتہ رفتہ اس کی شکایتیں دم توڑنے لگیں کیونکہ اس کے ننھے لیکن ناقابل شکست ذہن کو ہم نے یہ تسیلم کرنے پر مجبور کردیا تھا کہ زندگی کے معاملات میں اپنی غیرت سے سمجھوتہ کرو اور آگے بڑھو۔

ہم ایک معیاری اسکول اور اس کی معیاری تعلیم کے لیے اپنے بچے کی فطری غیرت کا خون ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔اب وہ ہم سے کبھی کسی قسم کی شکایت نہ کرتا۔اسے اسکول،ٹیچرز،میوزک کلاس،فیسٹیول سیلیبریشنز پر کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔وہ یہ تمام چیزیں انجوائے تو نہیں کرتا پھر بھی وہ ہمیں بتانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ہم اسے سمجھا چکے تھے کہ ہمیں اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اپنے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کرتے ہوئے پراگندہ ماحول سے بچ کر اپنے کردار کو بچانا ہوگا۔

اللہ جانتا ہے ہم اس حال سے مطمئن نہ تھے۔ہر وقت ایک جلن ایک کڑھن اور بے چینی سی تھی جو ضمیر کو کچوکے لگارہی تھی کہ ذرا سے دنیاوی فائدے کے لیے صاف وشفاف ہیرا صفت بچے کو قابل اعتراض باتوں پر سمجھوتہ کرنا مت سکھاؤ۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس سچویشن سے کیسے نپٹا جائے۔

اس وقت دعاؤں نے شدت اختیار کرلی کہ اللہ میرے بچوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر۔انھیں دین ودنیا کے تمام خیر عطا فرما۔میری دعا کا ایک بڑا حصہ اس پر مشتمل رہا ہے کہ اللہ میری اولاد کو الحاد سے بچا۔دیر سے ہی سہی لیکن اللہ نے ہماری دعا قبول فرمائی اور پھر بہت سے معاملات ہمارے لیے آسان ترین ہوتے چلے گئے۔

سب سے پہلے تو ہم نے اس اسکول سے نکال لیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے بچے کی فطرت ماحول اور معاشرے کے ہاتھوں مزید مسخ ہو۔

اسے پڑھنے کا شوق تھا۔اکثر معاملات میں وہ ایسی باتیں کرتا لگتا اپنی عمر سے آگے کی سوچ رکھتا ہے۔وہ اس بات کا اہل ہوچکا تھا کہ اب اس کی دوستی کاغذ قلم سے کروادی جائے۔ساتھ ہی اسے زندگی کو ڈیل کرنے کے سچے اصول بحیثیت والدین ورثے میں دیے جائیں اس کے دل وجاں میں پیوست کردیے جائیں۔

میرا بیٹا ھشام۔۔۔۔اس کی غیرت کے سامنے شفٹنگ کا مسئلہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔نئے اسکول میں داخلے کا مرحلہ طے ہوجانے والا ہے۔بچے کی معصومیت،اس‌ کی غیرت اللہ کی طرف سے ملی ہوئی فطری دولت ہے،ایک بار ہاتھ سے چلی جاتی ہے تو پھر زندگی میں سمجھوتوں کے سلسلے نہیں رکتے۔اور یہ وہ ڈگر ہے جس کا ہر قدم تباہی کی طرف جاتا ہے۔ہمیں یہ سودا منظور نہیں تھا۔اسکول ہی بدل لیا اور آگے بڑھ گئے۔

اکثر ہم بڑے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کی غیرت،فطرت،دینی حمیت ان کی شرم وحیا کو ختم کردیتے ہیں۔پھر واویلا کرتے ہیں ٹی وی،میڈیا اور ماحول نے یہ افراتفری مچائی ہے۔وقت رہتے اگر ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ لیں تو شاید وقت پر ہم اپنا بہت کچھ بکھرنے سے بچالیں گے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
زمرہ:ام ہشام
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

S
Sumaiya samani
22 مئی، 2020
Beshk bachche teachers k alfaaz ki bajaye teacher k kirdaar se or bartav se muta'asir ho jate hain to hame chahiye k Ham bachchon ko school m dalne se paihle uski taihqeeq kar le k kahin is m shariyat se hat kar kaam to nahi karwaya jata hai😊😊😊😊bahut khoob baji

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غیرت - دی فری لانسر | دی فری لانسر