زبان،
سوشل میڈیا کا حال آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہاں مثبت چیزوں کی قدر کم ہوتی ہے،
بعض لوگوں کو لکھنے کا شوق ہوتا ہے وہ بس لکھتے جاتے ہیں۔اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کیا لکھتے ہیں؟ اس کا فائدہ کیا ہے یا اس کے نقصانات کیا مرتب ہوں گے؟ بس لکھنا ہے،
الحمدللہ بہت سارے علماء اپنی تحریروں کے ذریعہ اور بہت سارے علماء اپنی تقریروں کے ذریعہ امت اسلامیہ تک دلائل کی روشنی میں حق پہنچانے میں لگے ہوئے۔ان علماء کی قدر ہونی چاہیے۔میں سمجھتا ہوں سلفی علماء حق بیانی میں قرآن وحدیث سے استدلال کرتے ہیں اور لوگوں کو دین کی صحیح رہنمائی کرتے ہیں پھر بھی اجتہادی مسائل میں آپس میں اختلاف ہوجانا کوئی بعید نہیں ہے،
علماء میں ہر کسی کو حق ہے کہ دین کے احکام ومسائل دلائل کی روشنی میں لوگوں پر واضح کرے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی توفیق سے اس کام میں علمائے حق کی معتد بہ تعداد منہمک ہے۔رمضان المبارک کے موقع سے عالمی وبا کورونا اور ملکی لاک ڈاؤن کی صورت میں امت میں عبادات واحکام سے متعلق قسم قسم کے مسائل پیدا ہوئے،
عیدالفطر کی نماز کے مسئلے میں علماء کے درمیان کئی باتوں میں اختلاف نظر آتا ہے۔ان اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض وہ لوگ جن کو کچھ بھی لکھنے کا شوق ہے اور وہ بہت سارے افراد جو سوشل میڈیا کا منفی استعمال کررہے ہیں ان کی نظر میں یہ فتوی بازی لگ رہی ہے۔معلوم ہونا چاہیے کہ کسی مسئلے میں علم اور تحقیق پیش کرنا فتوی بازی نہیں ہے علماء کا فریضہ ہے۔ہر خطیب وداعی لوگوں کے سامنے دین کے احکام بیان کرتا ہے اور ہر محقق ومصنف کتاب وسنت کی روشنی میں اپنے اپنے اندازواسلوب میں تحقیق پیش کرتا ہے۔یہ سب مفتی نہیں کہلاتے ہیں بلکہ یہ ان کا فریضہ ہے،
بلاشبہ فتوی دینا مستند اداروں اور شعبہ افتاء کا کام ہے اور آپ جانتے ہیں عموما فتاوی میں کسی مسئلے کے تمام پہلوؤں پر مدلل بحث نہیں ہوتی کیونکہ اصل مقصد لوگوں کو کسی مسئلے میں ایک موقف کی وضاحت ہوتی ہے۔بسااوقات اصل مسئلہ کی بھی دلیل مذکور نہیں ہوتی یا استدلال کبھی کمزور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علماء کسی مسئلے میں موجود ہر ہر پہلو پر دلائل سے بحث کرتے ہیں اور ان دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں،
اس لیے لکھیے مگر ایسی بات جس سے انسانیت کی تعمیر ہو اور آپ کا لکھا ہوا بعد میں بھی آپ کے کام آئے۔کمنٹ کا ایک خطاکار جملہ بھی آخرت میں نقصان پہنچائے گا اس لیے منفی افراد کی منفی پوسٹ پر ان کا جرم اور حوصلہ نہ بڑھائیں بلکہ آپ بھی مثبت بنیں،





