ہم عید امسال کیسے منائیں جب ہماری زندگی ایسے ماحول میں گزر رہی ہے،
عید مسجدوں میں نماز عید الفطر کے بغیر،
گویا کہ امسال عید 500 میٹر مربع مسافت میں سمٹ گئی ہے،
اے عید! امسال کس حال میں ہم پر جلوہ افروز ہوئی ہے،
کچھ اس طرح آج لوگوں کی زبانوں پر کلمات جاری ہیں۔کچھ اس طرح ہر عام و خاص کے زبان قصیدے پڑھ رہے ہیں!
اس میں کوئی شک نہیں کہ امسال عیدالفطر کی آمد ہم پر استثنائی صورت میں ہوئی ہے،
اس میں دو رائے نہیں کہ عیدالفطر کی سنتیں جو ہمارے دل کے دیواروں پر نقش ہیں،
مگر یہ تقدیر الہی ہے،
تاریخ شاہد ہے کہ امت اسلامیہ پر اس سے بھی برے دن گزرے ہیں،
لہذا آئیے ہم بهی عید منائیں کیونکہ شریعت اسلامیہ نے اسے شرعی خوشی قرار دیا ہے کہ جو دین کے ارکان میں سے ایک اہم وعظیم عبادت روزہ کے اختتام پر مشروع ہے:
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہالیان مدینہ کے دو مقرر دن تھے جن میں کھیل کود کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دو دن کیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ دو ایسے دن ہیں جن میں ہم زمانہ جاہلیت میں کھیلتے تھے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے تمھارے لیے ان دو دنوں کو دو بہتر دنوں سے بدل دیا ہے: عیدالاضحٰی اور عید الفطر!
چانچہ پتہ چلا کہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی توفیق سے روزہ جیسی نعمت کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کرے!
لہذا آئیے ہم احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے عید منائیں،
عید بدلے کا دن ہے:
بے شک اللہ رب العالمین نے عید کو بدلے اور ثواب کا دن بنایا ہے،
تو ہم اپنے آپ کو ان انعامات سے کیوں محروم رکھیں؟ کیوں نہ ہم رمضان المبارک میں انجام دیے نیک اعمال کا اللہ سے بدلہ لیں؟ کیوں نہ ہم اللہ سے دعا مانگیں؟
عید منانے کی شکلیں:-
1-نیا لباس زیب تن کرنا: سنن بیہقی میں ہے کہ نافع فرماتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے دن سب سے بہترین پوشاک زیب تن کرتے تھے!
موجودہ صورتحال میں ہمارے بعض احباب کا کہنا ہے کہ نیا لباس نہ پہنا جائے تو ان کے لیے ابن رجب الحنبلي رحمہ اللہ کا قول ہے وہ فرماتے ہیں: عید کے دن زینت اختیار کرنے میں گھر سے باہر نماز کے لیے نکلنے والا اور گھر میں رہنے والا تمام حتی کہ خواتین اور بچے تمام حکم میں برابر ہیں!
لہذا ثابت ہوا کہ عید کے دن حسب استطاعت اچھے کپڑے بھی پہنے جائیں۔
2-فرحت و شادمانی:
اس وائرس وناگفتہ بہ احوال میں ہمارے لیے خصوصی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اہل و عیال کے درمیان خوشیاں عام کریں،
ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں آپ کے پاس اپنے والدین کو روتا بلکتا چھوڑ کر ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں،
والدین کے بعد بیوی کے ساتھ حسن معاملہ کرنا اور اسے اس خاص موقع پر مزید محبت و الفت سے نوازنا: ہم میں سے ہر فرد جانتا ہے کہ عورت ایک نازک مخلوق ہے جو ہمیشہ الفت و محبت کی محتاج ہوتی ہے نیز وصیت رسول اکرم بھی ہے کہ ہم میں سے سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو!
عید کا موقع بچوں سے قربت کا ایک اہم ذریعہ رہتا ہے،
لاک ڈاؤن کے پیش نظر عید کی خوشیوں کو حسب ممکن اپنے پڑوسیوں کے ساتھ شیئر کیا جائے کیونکہ اہل خانہ کے بعد سب سے زیادہ مستحق ہمارے پڑوسی ہیں،
رسول اکرم صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایمان نہیں لایا وہ شخص جس نے آسودگی کی حالت میں رات گزاری جبکہ اس کا پڑوسی اس کے بغل میں بھوکا تھا اور اسے اس بابت علم بھی تھا!
نیز اسی طرح اس عید کے موقع پر ہم فقیروں،
3-دل جوئی کرنا: بے شک زندگی میں تنہائی،
یاد رکھو دین اسلام کی ہم سے خوشیاں بکھیرنے اور دلوں کو جوڑنے کی مانگ ہے۔یہ خوشیاں اداسیاں اور غم دور کرنے میں اکسیر کا کام کرتی ہیں۔
اللہ رب العالمین سے ہمیں عید کی حقیقی خوشیاں نصیب فرمائے۔آمین





