انتخاب و ترجمانی: عبدالوحید سلفی
(الحاد کا فتنہ عصرِ حاضر کی پیداوار نہیں ہے،
گزشتہ چند سالوں سے عالم اسلام جن بڑے مصائب و مشکلات سے دوچار ہے ان میں سے ایک بڑا خطرہ الحاد اور لادینیت کی طرف بڑھتا رجحان ہے۔دشمنان اسلام نے اسے مسلم ممالک میں عام کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔اور اس کی تنفیذ کے لئے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔
الحاد کی خطرناکی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انسان جب اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ کا انکار،
(إِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ آیَاتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْْنَا)(سورۃ فصلت: ۴۰)
"بے شک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں وہ (کچھ) ہم سے مخفی نہیں"
اور ایک دوسری جگہ فرمایا:
(وَلِلّٰہِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُواْ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ أَسْمَآءِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ) (سورۃ الأعراف: ۱۸۰)
"اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں تو اُس کو اُس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اُس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں اُن کو چھوڑ دو،
آج الحاد و لادینیت کی نشرواشاعت کے وسائل اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنی آسانی سے مہیا ہیں کہ ماضی میں ہم ان کا تصور بھی نہ کرسکتے تھے جیسے ٹی وی چینلز،
(إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ ثُمَّ کَفَرُواْ ثُمَّ آمَنُواْ ثُمَّ کَفَرُواْ ثُمَّ ازْدَادُواْ کُفْراً لَّمْ یَکُنِ اللّہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیْلاً) ( سورۃ النساء: ۱۳۷)
"جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے اُن کو اللہ نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا"
شیطان کی ناپاک چال اور اس کے ہدف کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ صحیح مسلم کی اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے جسے عیاض المجاشعی نے روایت کیا ہے:
'’أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ کُلَّھُمْ،
"اور بے شک میں نے اپنے بندوں کو راہِ حق پر پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انہیں ان کے دین سے پھیر دیئے"-
آیئے ان ملحدین کے بعض اقوال و نظریات کو پڑھیں اور ان کے عقدی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا اندازہ لگائیں:
ایک ملحد کا قول: ’’ اللہ اور شیطان ایک سکے کے دو رخ ہیں ‘‘ مزید کہتا ہے کہ: ’’ خود کشی کرنا اللہ پر فتح حاصل کرنا ہے ‘‘ ( قبحہ اللہ)
ایک ملحد بدزبانی کرتے ہوئے یوں گویا ہوتا ہے: ’’ تمہارے اوپر لازم ہے کہ اللہ کے وجود کا سائنٹفک اور تصویری اثبات کرو اس کے بعد یہ ثابت ہوگا کہ وہی وہ ذات ہے جس نے ایک مکھی کو پیدا کیا جس کے ذریعہ تم دنیا کو چیلنج کرتے ہو‘‘
قرآن کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایک کہتا ہے کہ: ’’ قرآن ادب کی ایک صنف اور رنگ ہے جو عربوں کے یہاں اسلام سے پہلے اور اس کے بعد بھی معروف رہا ہے ‘‘
ایک کہتا ہے کہ: ’’ ادیان و مذاہب محض ہماری تراث اور کلچرل نشاطات سے عبارت ہیں‘‘ اور بھی بہت سارے ہفوات ہیں جن کا احصاء یہاں مشکل ہے۔سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
(کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ إِن یَّقُولُونَ إِلَّا کَذِباً) (سورۃ الکھف: ۵)
"یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں‘‘
اور انہیں کے مثل بہت سے ملاحدہ گزرے ہیں ذلت و رسوائی جن کا مقدر بن گئی ہے،
(وَقَالَتِ الْیَہُودُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُولَۃٌ غُلَّتْ أَیْْدِیْہِمْ وَلُعِنُواْ بِمَا قَالُواْ) (سورۃ المائدۃ: ۶۴)
"اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،
اور ایک دوسری آیت میں فرمایا:
(وَمَا قَدَرُواْ اللّہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّٰہُ عَلَی بَشَرٍ مِّنْ شَیْْءٍ) (سورۃ الانعام: ۹۱)
"اور ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر پہچاننا واجب تھا ویسی قدر نہ پہچانی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی‘‘
اور ایک مقام پر اللہ نے فرمایا:
(وَقَالُوا أَسَاطِیْرُ الْأَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا فَہِیَ تُمْلَی عَلَیْْہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً) (سورۃ الفرقان: ۵)
"اور یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھ رکھے ہیں بس وہی صبح و شام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں ‘‘
یہی وہ لوگ ہیں جو موجودہ زمانے کے ملحدین اور زندیقوں کے اسوہ و قدوہ ہیں جن سے یہ اپنی عقلی خباثت کو غذا فراہم کرتے ہیں،
( قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِیْکُمْ إِلَّا مَا أَرَی وَمَا أَہْدِیْکُمْ إِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَاد) (سورۃ الغافر: ۲۹)
"فرعون بولا: میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتلارہا ہوں ‘‘۔
قابل غور پہلو یہ ہے کہ جب ایسے نوجوانوں کی نشوونما دینی ماحول میں ہوئی تو ان کے یہاں الحاد کیسے در آیا؟ اس سلسلے میں بعض دعاۃ اور مصلحین کی جانب سے کچھ سروے اور تحقیقات ہیں جن میں ان اسباب کا بطور خاص ذکر کیا گیا جو الحاد کے بھنور میں ان نوجوانوں کو پھانس لیتے ہیں ان میں سے کچھ کا ذکر یہاں کرنا چاہوں گا۔
۱: شرعی اصول و ضوابط کی پابندی کے بغیر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کافر ممالک کا سفرِ
ایسی صورت میں طالبِ علم کئی سالوں تک اس ملک میں قیام کرتا ہے اور مغرب کی مزعومہ تہذیب و ثقافت سے دم بخود ہوجاتا ہے،
۲: فکر و فلسفہ اورجدیدیت سے متعلق ایسی کتابوں کا مطالعہ کرنا جو الحاد و زندقہ پر مشتمل ہوتی ہیں
ایسی کتابوں کا مطالعہ جس میں مغربی تہذیب و ثقافت کی تمحید و تحسین اور مسلمانوں کے تخلف وپسماندگی اور پچھڑے پن سے جوڑ کر دکھایا جاتا ہے۔اسی طرح اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں عقلی گھوڑے دوڑاتے ہوئے اللہ کی تنقیص اور تذلیل بھی کی جاتی ہے۔احادیث صحیحہ کا محض اس لئے انکار کردینا کہ یہ عقل کے منافی ہیں اس طرح کی زہر آلود اور مسموم کتابوں کا مطالعہ قاری کے عقیدے کو متأثر کرتا ہے اور اس طرح کی کتابوں کے کثرت مطالعہ سے اس کے یہاں ایک خاص فکر اور بسا اوقات الحادی نظریات جنم لیتے ہیں اور اس بات کا اعتراف بہت سارے لوگوں نے کیا ہے کہ مستشرقین،
۳: ایسی ویب سائٹ اور ٹی وی چینل کا مشاہدہ کرنا جسے یہود و نصاری آپریٹ کرتے ہوں جن میں عقیدۂ تثلیث اور کمیونزم اور اباحیت کی جانب برملادعوت دی جاتی ہو۔
۴: نفسانی خواہشات،
اللہ کا فرمان ہے:
(إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَۃٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّیْ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ) (سورۃ یوسف: ۵۳)
"بے شک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنارحم کرے یقیناً میرا رب بڑی بخشش کرنے والا اور بہت مہربانی فرمانے والا ہے ‘‘
۵: والدین کا اپنے بچوں کی صحیح اسلامی خطوط پر تربیت نہ کرنا اور انہیں کھلے ماحول میں آزاد چھوڑ دینا
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے اپنی اولاد کو نفع بخش علم نہیں سکھایا اور یوں ہی بے کار چھوڑ دیا تو اس نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اور اکثرو بیشتر اولاد میں بگاڑ اور فساد والدین کے عدم اہتمام اور دین کے سنن و فرائض کے ترک کرنے کے سبب ہوتا ہے اس طرح وہ انہیں بچپن میں ضائع کردیتے ہیں پھر یہ بچے نہ خود فائدہ حاصل کرتے اور نہ ہی بڑھاپے میں اپنے والدین کو کوئی فائدہ پہونچاتے ہیں ‘‘ (تحفۃ المودود فی أحکام المولود:۸۰)
۶: برے دوستوں کے ساتھ رہنا اور ان کی صحبت اختیار کرنا
یہ بات معلوم ہے کہ انسان فطری طور پر اپنے جلساء اور رفقاء سے متأثر ہوتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے انہیں کے گفتار و کردار کو اپنا لیتا ہے۔اس طرح ایک برا ساتھی اپنے دوست کو متأثر کرتا ہے،
(وَدُّواْ لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُواْ فَتَکُونُونَ سَوَاءً)(سورۃ النساء: ۸۹)
"ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وہ ہیں تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو اور پھر سب یکساں ہوجا"
اور ایک دوسری آیت میں فرمایا:
(وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ أَن تَمِیْلُواْ مَیْْلاً عَظِیْماً) (سورۃ النساء: ۲۷)
"اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ"
۷: خاندانی انتشار
ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ان ملحدین کے ساتھ کئی بار بات چیت کے بعد میں اس نتیجے پر پہونچی کہ ایسے لوگوں کا تعلق (عموماً) ایسے گھرانوں سے ہوتا ہے جو انتشار اور بگاڑ کے شکار ہیں،
(د۔سناء المحذوب استشاریۃ الطب النفسی فی تصریح لصحیفۃ سبق الالکترونیۃ)
۸: خود پسندی اور دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا
ایک انسان دین اور عقیدے کی دفاع میں بہت ساری کتابوں کا مؤلف تھا مگر غرور و تکبر کا شکار ہوگیا یہاں تک کہ انبیاء کرام کی تحقیر و تصغیر پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ ’’ بے شک جو علم و فضل اس کے پاس ہے اگر اسے مخلوقات پر تقسیم کردیا جائے تو یہ انہیں رسولوں کے علم سے بے نیاز کردے گی ‘‘ اور غرور و تکبر کے مرحلے میں ایک کتا ب لکھا ’’ ھذہ ھي الأغلال‘‘ یعنی یہی بیڑیاں اور زنجیریں ہیں،
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ایسے لوگوں کے علاج اور سدھار کے لئے درجِ ذیل اقدامات ضروری ہیں۔
۱: اس طرح کے زندیقوں اور فسادیوں کو شرعی عدالت کے حوالے کرنا اور ان پر شرعی احکام کی تنفیذ کرنا۔
۲: مسلم حکام پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور واجبات کی ادائیگی کی فکر ضروری ہے۔الحاد کے سارے دروازوں کو بند کرنا اور مسلمانوں کے درمیان اس کے روک تھام کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا۔کتابوں،
۳:متعلقہ وزارتوں مثلا وزارتِ اطلاعات و نشریات،
اور تقویت بہم پہونچانا تاکہ الحاد کے سیلاب کا رخ موڑا جاسکے۔اس سلسلے میں خصوصی دروس و محاضرات کا اہتمام،
۴: جو لوگ الحاد کے دلدل میں پھنسے ہیں ان سے ملاقات کرنا اور حق کی طرف ان کی رہنمائی کرنا۔سنجیدگی کے ساتھ ان کے سوالات کو سننا اور دلائل کی روشنی میں انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرنا۔ان کے شبہات کا علمی انداز میں جواب دینا۔ایسے خطرناک افکارو نظریات کے مقابلے کے لئے علماء اسلام سے بہتر بھلا کون ہوسکتا ہے۔ایسے میں ان کی یہ عظیم ذمہ داری ہے کہ اللہ نے انہیں شرعی علوم میں جو مہارت اور پختگی بخشی ہے اس کی روشنی میں تمام جائز وسائل کا استعمال کرتے ہوئے الحاد کا مقابلہ کریں اور ملحدین کے فتنوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہمہ تن تیار اور کمر بستہ ہوجائیں۔نیز غلط فہمیوں اور الحاد میں مبتلا لوگوں کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دینے اور ان سے بالمشافہ بات چیت کا اہتمام بھی کریں۔
۵: ہر والدین اور تمام اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں،
’’کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ‘‘(بخاری: ۲۵۵۸،
"’تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا‘‘
الحاد کی خطرناکی اور ہولناکی،
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دور حاضر میں حالات جس طرح دھماکہ خیز ہیں،
رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّابُ۔





