اصحابِ عقیدہ ہونے کی وجہ سے ہمارا یقین ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ قضا و قدر اور مصلحتِ الہی سے خالی نہیں۔بے شمار ایسی چیزیں جو بظاہر انسانی صحت اور جان و مال کے منافی ہوتی ہیں یا تو اس میں اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے تنبیہ اور تنصیح کا اشارہ ہوتا ہے یا پھر کچھ غیر مرئی مصلحتیں موجود ہوتی ہیں۔
گزشتہ کئی مہینوں سے ایک غیر مرئی وائرس کے زیر اثر نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت جانی و مالی مشکلات سے دوچار ہے۔مجھے نہیں علم کہ یہ کوئی عذاب ہے یا اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے اس کے برے اعمال سے گریز کی تنبیہ اور رجوع الی اللہ کی طرف اشارہ،
ظاہر سی بات ہے کہ اس مرض نے پچھلے کئی مہینوں سے پورے ملک کو مفلوج سا کردیا ہے،
متعدی امراض میں دو بنیادی باتیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ایک “فزیکل ڈسٹینسنگ” اور دوسرے “سوشل کلوزنیس”.... فزیکل ڈسٹینسنگ تو آسان سی بات ہے مگر سوشل کلوزنیس کے لیے بہت بڑے دل اور ایمانی جذبے کی ضرورت ہے۔مجھے یہ لکھتے ہوۓ بڑا اطمینان اور فخر محسوس ہورہا ہے کہ تمام تر نفرتوں کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں نے تعاون اور ہمدردی کا یہ جذبہ بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے تمام ضرورت مندوں کے لیے ملکی سطح پر دکھایا ہے۔اس ماحول میں یہ خیر سامنے آیا ہے کہ ہر شہر گاؤں میں مسلمانوں نے اپنے عزیز و اقارب،
نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی طور پر بھی مسلمانوں نے اس بات کا مکمل ثبوت دیا ہے کہ ہم اس وقت تک اچھے مومن ہیں ہی نہیں جب تک ہمارا پڑوسی بھوکا ہو۔ہمارے اردگرد ایسے شرفاء بھی ہیں جو فاقہ کے باوجود زبان کھولنے کو تیار نہ تھے،
شہروں سے گاؤں کی طرف کوچ کررہے لاکھوں مزدوروں کی حالت زار کی جہاں ہزارہا ایسی تصویریں آئیں جنھیں کوئی حساس انسان دیکھنے کی بھی تاب نہیں لاسکتا،
اس نیک کام میں جہاں مسلمان جوان پیش پیش نظر آۓ وہیں سکھ بھائیوں کا تعاون بھی جگہ جگہ قابل ستائش رہا ہے۔کئی جگہوں پر ہندو مخلصین نے بھی ملکی یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوۓ تعاون کا کام انجام دیا۔چھوٹے چھوٹے پلیٹ فارموں نے اب تک وہ بڑے کام کیے جو ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔مزدوروں کی بھوک پیاس کا خیال رکھتے ہوۓ ہماری مساجد اور تنظیموں نے ہزارہا افراد کو کھانا کھلانے کا اہتمام کیا۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ تعاون ملت ہی کے افراد سے عمل میں آیا جو اس آزمائش کے وقت میں بہت بڑے خیر کی علامت ہے۔ممبرا جیسے چھوٹے شہر میں جہاں کئی تنظیموں نے بڑے کام کیے وہیں “مجلس آگہی” اور “ دی فری لانسر” جیسی محدود افراد و وسائل پر مشتمل اکائیوں نے سیکڑوں گھروں میں مسکراہٹیں بکھیری ہیں۔ان سے وابستہ احباب اللہ کی طرف سے اجر کے ساتھ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
موجودہ حالات میں ایسے رفاہی اقدامات کو لوگوں تک نمایاں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسروں کو بھی ایسے کاموں میں شمولیت کا حوصلہ مل سکے اور ملکی تعمیر و ناگہانی وقت میں مسلمانوں کی شراکت کا علم ہوسکے۔یقین جانیں اللہ کے یہاں اجر کے ساتھ ساتھ ایسے مثبت کام نفرتوں کے ازالے میں بھی معاون ہوں گے۔سوشل میڈیا بالخصوص ٹویٹر پر ہزارہا معروف غیر مسلم احباب ہمارے کاموں کی بے حد سراہنا کررہے ہیں بس افسوس ہے تو یہ کہ ہم خود اپنی اچھائیوں کو اجاگر کرپانے سے قاصر ہیں۔موجودہ حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کرنا کسی قسم کی ریاکاری کے زمرے میں آۓ گی۔
کورونا اور لاک ڈاؤن کا یہ اتنا بڑا مثبت اور خیر کا پہلو ہے کہ جس پر اللہ سے اجر و ثواب کی امید کے ساتھ ساتھ ملک کی سالمیت کی بھی امیدیں وابستہ رکھنی چاہئیں۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی یہ تسلسل باقی رہے۔اللہ سے تمام معاونین کے لیے اجر حسنہ کی دعا کے ساتھ قارئین سے درخواست ہے کہ ایسی کوششوں اور تصویروں کو عام کریں تاکہ کم ازکم مثبت فکر والوں کے یہاں آپ کی مزید مثبت تصویر ابھر کر سامنے آسکے۔





