باعثِ شوقِ خودروی تنہا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
باعثِ شوقِ خودروی تنہا
دورِ حاضر میں ہر کوئی تنہا
رنگ آنکھوں کے ہوگئے اوجھل
رہ گئی آنکھ میں نمی تنہا
جانتا ہے مرا خدا میں نے
خود کو سمجھا نہیں کبھی تنہا
کیا ہوا میں اگر اکیلا ہوں
قبر میں ہوں گے آپ بھی تنہا
غم کا اپنا مقام ہے صاحب
غم سے ہٹ کر ہے ہر خوشی تنہا
اس کی یادیں بھی آتی جاتی ہیں
میں نہیں رہتا ہر گھڑی تنہا
حسرتوں کو گلے لگا کر بھی
خود کو کہتا ہے آدمی تنہا
کیف آتا نہ شاؔد جینے میں
جو ملی ہوتی زندگی تنہا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





