ہر قدم پر ضبط میرا آزماۓ زندگی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہر قدم پر ضبط میرا آزماۓ زندگی
موت برحق ہے تو پھر کیوں ورغلاۓ زندگی
ناز اس کی جراَت و ہمت پہ کرتا ہے جہاں
ضربِ نومیدی سے لیکن تلملائے زندگی
فائدہ کچھ بھی نہیں اب آپ کی امداد کا
ریزہ ریزہ ہو چکی ہے اب قبائے زندگی
دیکھ کر انبار لاشوں کا لبوں سے مستقل
ہیں یہی الفاظ جاری ہائے ہائے زندگی
جاگتی آنکھوں میں خوابوں کے دریچے کھول کر
کشتی صبر و رضا کیوں ڈگمگائے زندگی
مال و زر، جاہ و حشم کی اب نہیں خواہش ہمیں
تو مسیحا ہے تو بڑھ کر دے دعائے زندگی
آسماں کی چھت کے نیچے حضرتِ انسان کی
واقعی دشوار کن تھی ابتدائے زندگی
ماسوا عشقِ خدائے دو جہاں اے منکرو
کچھ نہیں ہے، کچھ نہیں ہے ماورائے زندگی
باوجود اے شاؔد اتنی مشکلوں کے آج بھی
گامزن ہے کاروانِ ارتقاۓ زندگی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





