در تصنع کا وا نہیں مجھ میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
در تصنع کا وا نہیں مجھ میں
میری مانو ریا نہیں مجھ میں
مجھ میں جذبہ ہے سرفروشی کا
صرف کوری وفا نہیں مجھ میں
میں فرشتہ صفت نہیں لیکن
شر کا عنصر ذرا نہیں مجھ میں
پیار، اخلاص، جذبۂ ایثار
غور سے دیکھ کیا نہیں مجھ میں
جس میں فقدانِ خاکساری ہو
اس طرح کی انا نہیں مجھ میں
ڈھونڈتے کیا ہو تم مرے اندر
اب تو میں بھی رہا نہیں مجھ میں
موت برحق ہے شاؔد جی لیکن
مرنے کا حوصلہ نہیں مجھ میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
d
dr.meena naqvi
15 جولائی، 2020بہت عمدہ کلام واہ واہ
A
Akmal Hanif
1 جون، 2020واہ واہ واہ واہ
شاد صاحب بہت عمدہ کلام سچے اور خوبصورت اشعار
ہر شعر پر مکرر داد





