جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

در تصنع کا وا نہیں مجھ میں

کلام: شمشاد شاد1 جون، 20201,257قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
در تصنع کا وا نہیں مجھ میں
میری مانو ریا نہیں مجھ میں
مجھ میں جذبہ ہے سرفروشی کا
صرف کوری وفا نہیں مجھ میں
میں فرشتہ صفت نہیں لیکن
شر کا عنصر ذرا نہیں مجھ میں
پیار، اخلاص، جذبۂ ایثار
غور سے دیکھ کیا نہیں مجھ میں
جس میں فقدانِ خاکساری ہو
اس طرح کی انا نہیں مجھ میں
ڈھونڈتے کیا ہو تم مرے اندر
اب تو میں بھی رہا نہیں مجھ میں
موت برحق ہے شاؔد جی لیکن
مرنے کا حوصلہ نہیں مجھ میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

d
dr.meena naqvi
15 جولائی، 2020
بہت عمدہ کلام واہ واہ
A
Akmal Hanif
1 جون، 2020
واہ واہ واہ واہ شاد صاحب بہت عمدہ کلام سچے اور خوبصورت اشعار ہر شعر پر مکرر داد

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

در تصنع کا وا نہیں مجھ میں - دی فری لانسر | دی فری لانسر