جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

گم ہوئیں تاریکیاں، ہر سمت اجالا ہوگیا

کلام: شمشاد شاد1 جون، 20201,502قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گم ہوئیں تاریکیاں، ہر سمت اجالا ہوگیا
باہر آ جا خواب غفلت سے سویرا ہوگیا
اس کی مرضی جو دیا، جتنا دیا، ممنون ہوں
دل کشادہ ہے تو تھوڑے میں گزارا ہوگیا
تم جو آئے تو مرے دل کے فلک سے دفعتاً
غم کے بادل چھٹ گئے، موسم سہانا ہوگیا
عین ممکن ہے اسے پہچان بھی پاؤں نہ میں
روبرو دیکھے ہوئے اس کو زمانہ ہوگیا
یوں ہمارا عشق پہنچا پایۂ تکمیل کو
وہ کسی کے ہوگئے، میں بھی کسی کا ہوگیا
مجھ سے اب رکھے نہ کوئی غمگساری کی امید
ختم میرے دل سے ہمدردی کا جذبہ ہوگیا
احتیاط و آگہی، عقل و خرد کے باوجود
بھوت فرقہ واریت کا پھر سے زندہ ہوگیا
پھر وفا کا ذکر چھیڑا تھا کسی نے بزم میں
پھر اچانک زخم دل اے شاؔد تازہ ہوگیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

R
Razabul hasan
1 جون، 2020
واہ واہ واہ کیا بات ہے ماشاءاللہ بہت عمدہ کاوش بہت مبارک ہو

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

گم ہوئیں تاریکیاں، ہر سمت اجالا ہوگیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر