میرے ساتھ بہت ساری خواتین جڑی ہوئی ہیں جن کی طرف سے رمضان المبارک اور شوال کے موقع پر کثرت سے یہ سوال آتا ہے کہ جن عورتوں کے رمضان کے بعض روزے عذرکی وجہ سےچھوٹ گئے ہیں کیا وہ شوال میں پہلے ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گی یا قضا سے پہلے بھی شوال کے نفلی چھ روزے رکھ سکتی ہیں؟ عذر (سفر/بیماری) کی وجہ سے مردوں سے بھی رمضان کے روزے چھوٹ جاتے ہیں ان کا بھی مسئلہ ہے کہ وہ فرضی روزوں کی قضا سے پہلے شوال کے نفلی روزے رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
اس مسئلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے،
ترجمہ: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیاکہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے (کے ثواب) کی طرح ہیں۔
ہم سبھی یہ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ کے کلام میں اعجاز اور جامعیت ہے،
شوال کے نفلی روزوں سے متعلق آپ کے فرمان کے جامع کلمات بھی مذکورہ مسئلے کی حقیقت واضح کرتے نظر آتے ہیں۔آپ ﷺ فرماتے ہیں "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ" کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا یعنی رمضان کا مکمل روزہ رکھا۔آگے فرماتے ہیں "ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ" پھررمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھا۔ "كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْر" اس کے لئے عمر بھرروزہ رکھنے کا ثواب ہے۔
اس حدیث میں وارد الفاظ پر غور کریں اور زیرغورمسئلے کی حقیقت معلوم کریں۔
1۔ "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ" کے کلمات میں رمضان کے مکمل روزے داخل ہیں یعنی جس نے رمضان کا مکمل روزہ رکھا۔
2- "ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ" کے کلمات میں ثم کا لفظ ترتیب کے طورپر ہے،
ترجمہ:اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو،
3- "كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْر" جو رمضان کا مکمل روزہ رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزہ رکھے گا اسے عمربھر یعنی سال بھر کا اجر ملے گا۔چنانچہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:صِيامُ شهْرِ رمضانَ بِعشْرَةِ أشْهُرٍ،
ترجمہ:رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اس کے بعد چھ روزے دو مہینوں کے برابر ہیں،
اس وضاحت کے بعد حدیث کے الفاظ "ثُمَّ أَتْبَعَهُ" سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے رمضان کا مکمل روزہ رکھا پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھا اسے سال بھر کا ثواب ملے گا۔اسی طرح جس کے ذمہ رمضان کے چند روزے باقی ہوں،
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺسےروایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا:لا تقولوا: ما شاء اللهُ وشاء فلان،
ترجمہ:تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔
"ما شاء اللهُ وشاء فلان" والے جملہ میں اللہ کے ساتھ غیراللہ کی شرکت ہوجاتی ہے اس لئے اس کلام سے منع کیا گیا اور واؤ کی جگہ ثم لگانے سے شرکت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بعد کے معنی میں ہے اس لئے ثم کے ساتھ کہنا جائز ہے۔
جب آپ نے یہ بات جان لی کہ جس کے ذمہ رمضان کے روزے باقی ہوں اگر وہ شوال کے روزوں کا مذکورہ اجر لینا چاہے تو پہلے ان روزوں کی قضا کرنی ہوگی پھر شوال کے روزے رکھیں گے۔
اب چند باتیں مزید جان لیں جو اس مسئلے میں اطمینان کا باعث ہیں پھر اس پر وارد ہونے والے اعتراضات کا مختصر جواب بھی دوں گا۔
٭ شوال کے چھ روزے نفلی ہیں،
٭ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بلاعذر بھی رمضان کے چھوٹے روزوں کی قضا شعبان تک مؤخر کرسکتے ہیں لیکن اگر شوال کے چھ روزوں کا مخصوص اجر لینا چاہتے ہیں تو پہلے قضا روزے رکھنے ہیں کیونکہ ہمیں ایسے ہی حکم ملا ہے۔
٭ جس نے رمضان کے روزے رکھ لئے یا چھوٹے روزوں کی بعد میں قضائی کرکے پورے کرلیں گے اس نے اللہ کی طرف سے عائد کی گئی ذمہ داری کو ادا کردیا،
٭ جو ہمیشہ شوال کے روزے رکھتا رہا مگر کسی سال ان روزوں کو رکھنے کی خواہش کے باوجود دشواری پیدا ہوگئی اور وہ نہ رکھ سکا تو اللہ تعالی نیت کے مطابق ثواب دے گا۔
٭ رمضان کے روزوں کی قضا سے پہلے ماسوا شش عیدی روزے دیگر نفلی روزے رکھے جاسکتے ہیں مثلا سوموار و جمعرات کے روزے،
٭ جو اہل علم قضائی روزوں سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھنے کے قائل ہیں وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ قضا والے روزے دو چند ہوں یعنی جن کی قضا آسان ہو تو پہلے ان کی قضا کرلی جائے پھر شوال کے روزے رکھے جائیں۔ان کے یہاں مشقت کی صورت میں قضا سے پہلے نفلی کا جواز پیش کیا جاتا ہے کیونکہ قضا میں وسعت ہے جبکہ وقتی نفلی روزوں میں وسعت نہیں ہے۔
اب ان اعتراضات کی حقیقت جانتے ہیں جواس مسئلے میں اہل علم کی طرف سے منقول ہیں اورخوف طوالت کے باعث صرف اہم اعتراضات اوران کے مختصرجواب پر ہی اکتفا کروں گا۔
(1)ایک اہم اعتراض سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکےعمل سے وارد ہوتا ہے کہ وہ رمضان کے قضا روزے شعبان میں رکھتی تھیں۔ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سناوہ فرماتی ہیں: كانَ يَكونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِن رَمَضَانَ،
ترجمہ: مجھ پر رمضان کے جوروزے قضا ہوتے تھے تو میں ان کی قضا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں مگر شعبان میں۔
اس اثر کے الفاظ پرغور کریں،
(2) ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جس شخص سے رمضان کے چند روزے چھوٹ گئے ان کا شوال میں قضا کرنا بھی رمضان کا مکمل روزہ رکھنے والا نہیں کہا جائے گا۔اس کا جواب یہ ہے کہ رمضان کے روزے ادا اور قضا دونوں صورت میں رمضان کا مکمل روزہ رکھنے والا قرار پائے گا،
(3) ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ شوال کے روزوں سے متعلق دوسری روایات میں ترتیب یعنی ثم کا ذکر نہیں ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایک حدیث دوسری حدیث کی وضاحت کرتی ہے اس لحاظ سے جس حدیث میں ترتیب کا ذکر نہیں ہے اس کو ثم کے لفظ سے خاص کیا جائے گا یہی اصول حدیث ہے۔
(4) ایک اعتراض یہ ہے کہ قضائی روزوں میں وسعت ہے،
(5) ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جوپہلے شوال کے روزے رکھ لے اوربعد میں قضاروزے رکھے تو وہ بھی نفس مسئلہ سے متعلق صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث میں داخل ہے جیساکہ من صام رمضان ایماناواحتسابا... والی حدیث اور دیگر نصوص سے معلوم ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ عام نص کی روشنی میں شوال کا روزہ منفک کرکےعذرکے تحت چند روزہ چھوڑنے والا بھی"من صام رمضان" میں داخل ہے لیکن جب رمضان کو شوال کےروزوں سے جوڑتے ہیں توپتہ چلتا ہے کہ اس کے لئے حصر وقید آیا ہے لہذا مقید نص کو عام نص پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔
آخر میں گزارش ہے کہ مجھے دلائل سے جو موقف قوی الاستدلال معلوم ہوا اس کودلائل سے واضح کردیا ہے،





