کھل گئے ہیں تمام میخانے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کھل گئے ہیں تمام میخانے
مست ہیں پی کے سارے دیوانے
ساری دنیا کھڑی ہے لائن میں
بعد مدت کھلے جو میخانے
شیخ جی خود بھی مست تھے پی کر
اورو سب کو لگے تھے بہکانے
جان والے ہی جانتے ہیں یہ
کیسے دیتے ہیں جان پروانے
اتنا ناراض ہے خدا ہم سے
ہوگئے بند سب خدا خانے
اس ’’کورونا‘‘ کے بعد کیا ہوگا؟
لوگ کہتے ہیں: بس خدا جانے
پوچھیے جاکے آپ ’’کووِڈ‘‘ سے
کتنی جانوں کے لیں گے نذرانے
کوئی حیرت نہیں ہوئی مجھ کو
سن کے اپنوں سے زیر لب طعنے
’’ہے خبر گرم ان کے آنے کی‘‘
سج گئے شہر دل کے ویرانے
عقل سے کہتے تو سمجھتی بھی
کون جائے ہے دل کو سمجھانے
یہ صدی شمسؔ مختلف ہوگی
مختلف ہوں گے سارے پیمانے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





