حالانکہ دشمنوں کا مجھے کوئی ڈر نہ تھا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حالانکہ دشمنوں کا مجھے کوئی ڈر نہ تھا
اپنے ہی دوستوں سے مگر باخبر نہ تھا
پودے کو اپنا خون پلا کر شجر کیا
لیکن مرے نصیب میں اس کا ثمر نہ تھا
کہنے کو یوں تو بھیڑ تھی احباب کی مگر
افسوس یہ کہ ان میں کوئی معتبر نہ تھا
دارالاماں سمجھتے جسے مشکلات میں
ایسا تمام شہر میں کوئی بھی گھر نہ تھا
کرتا بھی میرے حال پہ کیا کوئی تبصرہ
اہل زباں نہ تھا کوئی اہل نظر نہ تھا
کیا چارہ سازیوں میں کمی رہ گئی کوئی
یا چارہ ساز تیری دوا میں اثر نہ تھا
چہرے کے داغ دیکھ کے اندیکھے کردیے
یا شہر میں خمار کوئی شیشہ گر نہ تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





