مشکل سفر میں کوئی مرا ہم سفر نہ تھا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مشکل سفر میں کوئی مرا ہم سفر نہ تھا
"رہزن تھے بے شمار کوئی راہبر نہ تھا"
واعظ تھا میرے شہر کا وہ کیا ہی باکمال!
صد حیف! اس کی بات میں کوئی اثر نہ تھا
اعمال کا تو اس نے لگایا تھا اک شجر
پر کیا ہوا کہ اس میں کوئی بھی ثمر نہ تھا
عورت وہ بھوکی، راہ میں دنیا سے چل بسی
افسوس! اس کا کوئی وہاں چارہ گر نہ تھا
میں کیسے کرتا اس پہ بھلا یوں ہی اعتبار
وہ میری زندگی میں کبھی معتبر نہ تھا
کب تک بیاں میں کرتا اسے اپنی داستاں
قصہ مرے فراق کا کچھ مختصر نہ تھا
کٹتی رہی حیات فقط کھیل کود میں
انجام آخرت سے کوئی باخبر نہ تھا
اظہر میں اتنی رات کو رُکتا بھلا کہاں
اس شہرِ اجنبی میں مرا کوئی گھر نہ تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





