کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جو تباہی آئی ہے،اس سے ہر فرد متأثر ہے،خاص کر تعلیمی ادارے اور تربیت گاہیں بری طرح اس وبا سے متأثر ہوئیں۔بلکہ ہندوستان کا چپہ چپہ اس تکلیف کی شدت سے کراہ رہا ہے،عجیب سراسیمگی اور نامعلوم دہشت کا عالم ہے،اللہ تعالی حالات سازگار کرے اور تمام چیزیں اپنی پرانی حالت پر لوٹ آئیں۔آمین
ہمارے ملک ہندوستان میں جب اس مہلک وائرس کے خطرات ظاہر ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے اپنے طور پر پیش بندیاں شروع کیں،بعض مدارس نے فوری طوری پر غیر معینہ تعطیل کا اعلان کردیا اور بعض پس و پیش کا شکار رہے۔ہمارے جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو کے ہوش مند ذمہ داروں نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے حکومتی فرمان کے مطابق فورا چھٹی کا اعلان کردیا۔چونکہ اس وقت پوری دنیا کے حالات کے تناظر میں کچھ فیصلہ کر پانا اور سمجھ پانا بہت مشکل تھا اس لیے بہت سے لوگ تذبذب کا شکار رہے۔
تعطیل کے معا بعد لاک ڈاؤن کے ایام میں بہت سے مدارس نے اپنے اعتبار سے امتحان کی نوعیت طے کی،بیشتر مدارس نے سندی سال کے بچوں کا امتحان باقی رکھا اور دیگر بچوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا اور ایک تعداد نے خموشی اختیار کی۔
جب ہم نے اپنے طور پر غور و فکر کیا تو اس نتیجے پر پہنچے کہ مدارس اسلامیہ میں اولی سے لے کر فراغت تک کے تمام امتحانات منسوخ کردیے جائیں،اس کے کئی اسباب ذہن میں آئے اور ان سے اتفاق واختلاف کی گنجائش موجود ہے،ہر شخص اپنی عقلی بصیرت اور صوابدید کے مطابق فیصلے کرتا ہے لہذا آپ کو بھی اختیار ہے:
1-امتحان غیر معمولی اہمیت کا حامل عمل ہے،نفسیاتی طور پر اس کا بڑا گہرا اثر طالب علمانہ زندگی پر پڑتا ہے،اس کے لیے پیشگی تیاری اور ذہنی آمادگی کی ضرورت ہوتی ہے،ظاہر ہے ان حالات میں یہ ممکن نہیں۔
2-طویل عرصہ تک لاک ڈاؤن کی صورت میں امتحانات کی وجہ پورا سال متاثر ہوگا،خود امتحانات کا مرحلہ قدرے طویل اور صبر آزما ہوتا ہے،اس سے بجائے خود ششماہی و سالانہ امتحانات متاثر ہوں گے۔
3-اگر بحالت مجبوری یا بفرض محال امتحان لینے کی ضرورت بھی پیش آئی تو نہایت سرسری انداز کا لینا ہوگا،اس لیے کہ یا تو جو کچھ پڑھایا گیا ہے،اس کا سرسری اعادہ کرایا جائے جو ممکن نہیں،یا امتحان نہایت سرسری لیا جائے جس کا بظاہر سوائے تکلیف میں مبتلا کرنے کے کوئی فائدہ نہیں۔
4- اگر صرف سندی سال والے بچوں کا امتحان لیا جائے پھر بھی ایک ہی جگہ چند بچوں کا امتحان ہو اور چند کا نہ ہو تو اس سے ذہنی وفکری انتشار ہوگا،ظاہر ہے اساتذہ وہی ہوں گے،سارے کام انہی کو کرنے ہوں گے،مثلا پرچہ سوالات تیار کرنا،جانچنا اور پھر نتیجے تیار کرنا،وغیرہ وغیرہ۔
جن طلبہ کا امتحان نہیں ہوگا،امتحان میں مصروف اساتذہ ان کی تدریس کے لیے خود کو کس طرح تیار کرسکیں گے،ظاہر ہے اگر بفرض محال تیار بھی کرلیں تو کیا وہ پورے طور پر حق ادا کرسکیں گے؟
5-طلبہ امتحان کی تیاری نہ کرسکیں گے،جس سے ان کے سندی سالوں کے نمبرات پر برا اثر پڑے گا،نمبرات کم ہوں گے،جو ہمیشہ تکلیف اور دقت کا باعث بنیں گے،ان سب کے ذمہ دار صرف ہم اساتذہ اور ذمہ داران ہوں گے۔
6-ایک اہم مسئلہ یہ ہوگا کہ ایک سال (جو بجائے خود مختصر ہے) میں چار امتحان اکٹھا ہوجائیں گے،داخلہ امتحان،گزشتہ امتحان اور ششماہی و سالانہ امتحان،اور ان سب کا اثر پورے تعلیمی سال پر پڑے گا،اس وضاحت کے ساتھ کہ مدارس کے امتحانات سخت ہوتے ہیں،بلا پیشگی تیاری کے کامیاب ہونا بہت مشکل ہوتا ہے،اندرونی وبیرونی یونیورسٹیز کی طرح آبجیکٹیو یا سرسری نہیں ہوتے۔
7-نیے داخلہ کے لیے اکثر مدارس نے صرف پہلی جماعت کے لیے داخلہ کا اعلان کیا ہے،داخلہ امتحان بھی وقت کا متقاضی ہے،یہ مختصر سال کے لیے ایک اضافی مصروفیت ہے اور اس کا اثر طبعی طور پر دوسرے امتحان پر ہوگا۔
8-مدارس میں طلبہ ہندوستان کے مختلف گوشوں سے حصول علم کے لیے آتے ہیں،صرف سندی سال کے طلبہ جو فراغت کے بعد گھروں کو جاچکے ہیں اور ممکن ہے کچھ اور مصروفیت سے جڑ چکے ہوتے،انھیں محض دس روز امتحان کی خاطر بلانا،انھیں حرج وتنگی میں مبتلا کرنا ہے،مزید برآں ہاسٹلز میں اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ 70/60 طلبہ کا معینہ مدت تک کے لیے قیام کا انتظام ہو،ٹکٹ اور آمد ورفت کے مسائل اس پر مستزاد۔
9-ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ ششماہی امتحان کی بنیاد پر نمبرات طے کرنے کی صورت میں رزلٹ کی تیاری میں خاصا وقت لگے گا،تو ہم کہتے ہیں کہ یہ کام فرصت کے موجودہ لمحات میں بھی ہوسکتا ہے،اگر ہم چاہیں،اہم یہ ہے کہ اگلا تعلیمی سیشن متاثر نہ ہو۔
10-کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ گورنمنٹ نے ایسے ہی اعلان کیا ہے کہ سندی سال کے بچوں کا امتحان لیا جاے،بقیہ بچوں کا نہیں۔یہ بڑی عجیب بات ہے،کیا تمام مدارس تعلیم،کلچر،نصاب،نظام اور تعطیلات میں حکومت کے سامنے جواب دہ ہیں؟ کیا ان کے سارے امور اپنے وضع کردہ اصول وضابطے کی روشنی میں انجام نہیں پاتے؟ جب ساری چیزیں ہم اپنی سہولت کے اعتبار سے کرتے ہیں تو اس حوالے سے بھی اپنی سہولت وبہتری پیش نظر رکھنے میں کیا مضایقہ ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ حکومت کو اس بابت کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ان اسباب ومحرکات کی روشنی میں یہ کہنا چاہیے کہ تمام مدارس متفقہ طور پر سارے امتحانات گزشتہ بلا استثناء منسوخ کردیں اور ششماہی امتحان کی بنیاد پر رزلٹ تیار کیا جاے،یہی وقت کا بھی تقاضا ہے اور انسانیت اور مروت کا بھی۔پوری دنیا جس ذہنی،مالی،جسمانی کوفت اور دباؤ کی گرفت میں ہے ایسے میں نونہالان قوم پر مزید بوجھ ڈالنا کسی بھی طور مناسب نہیں،خود اسلامی تعلیمات ہمیں یسروا ولا تعسروا کے بموجب آسانیاں کرنے کا حکم دیتی ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ اربابِ حل وعقد ان گزارشات پر ضرور غور فرمائیں گے اور اس حوالے سے کسی فیصلہ کن نتیجہ تک پہنچیں گے۔
واللہ من وراء القصد