جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزل میری سب گنگنانے لگے ہیں

کلام: کشفی بریلوی2 جون، 20202,069قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غزل میری سب گنگنانے لگے ہیں
سخن ور بھی پلکیں بچھانے لگے ہیں
تجھے کیا بتائیں تری یاد میں ہم
شب و روز آنسو بہانے لگے ہیں
تمہی سے محبت نہ ہو جائے ہم کو
تمھیں دیکھ کر مسکرانے لگے ہیں
ذرا وقت بدلا تو یہ دنیا والے
ہمیں آج آنکھیں دکھانے لگے ہیں
ہوا عشق کا حُسن سے جب تصادم
تو اُس کے بھی ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں
ٹھہر جا ذرا گردشِ روز و شب تُو
اُنھیں آتے آتے زمانے لگے ہیں
مہکنے لگی محفل شعر و نغمہ
کہ اب اس میں کشفی بھی آنے لگے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزل میری سب گنگنانے لگے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر