جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ٹانکنے والا حیرت زدہ رہ گیا

کلام: خمار دہلوی2 جون، 20201,618قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ٹانکنے والا حیرت زدہ رہ گیا
چاند ماتھے پہ اس کے ٹنکا رہ گیا
سنگِ مرمر سا وہ خوبصورت بدن
جس نے دیکھا اسے دیکھتا رہ گیا
آ گئے رو بہ رو آئینے کے جب آپ
محوِ حیرت صنم آئینہ رہ گیا
یاد کرنا تجھے بس تجھے سوچنا
یہ شب و روز کا مشغلہ رہ گیا
وقت نے بیڑیاں ڈال دیں پاؤں میں
جو جہاں تھا وہی پر کھڑا رہ گیا
جن سے امید تھی چھوڑ کر چل دیے
ہمسفر پاؤں کا آبلہ رہ گیا
وحشتِ دل جہاں لے کے آئی وہاں
غیر کوئی نہ کوئی سگا رہ گیا
ہے بلا شک وہی روشنی کا امیں
جو ہواؤں میں جلتا ہُوا رہ گیا
راکشس آبرو لوٹتے ہی رہے
موک درشک بنا دیوتا رہ گیا
اڑ گئے سب پرندے قفس توڑ کر
اور صیاد حیرت زدہ رہ گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ٹانکنے والا حیرت زدہ رہ گیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر