جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

زندہ رہنے کی مسلسل جستجو کرتے رہے

کلام: خمار دہلوی4 جون، 20201,568قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندہ رہنے کی مسلسل جستجو کرتے رہے
زندگی بھر دل کے زخموں کو رفو کرتے رہے
اور تو کچھ کام کرنا ٹھیک سے آیا نہیں
چشم نم کو خون دل کی آبجو کرتے رہے
ہیں وراثت کے امیں وہ لائق تحسین ہیں
خون دل سے جو غزل کو سرخرو کرتے رہے
کرنے والے تو نمازِ عشق ادا کر بھی چکے
اور ہم اشکِ تمنّا سے وضو کرتے رہے
خانہ دل میں ہمارے گو کہ وہ موجود تھا
ہم تلاشِ یار لیکن کو بہ کو کرتے رہے
بھول کہیے آپ یا اس کو ہماری سادگی
بے وفا سے جو وفا کی آرزو کرتے رہے
سونپتے آئے ہمیشہ رہزنوں کو رہبری
دیدہ دانستہ یہی کارِ سہُو کرتے رہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

زندہ رہنے کی مسلسل جستجو کرتے رہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر