جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

روشنی سے مرا صحن خالی رہا

کلام: خمار دہلوی6 جون، 20201,267قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
روشنی سے مرا صحن خالی رہا
شہر میں جبکہ جشن دوالی رہا
وہ ہُوا جو مقدّر کو منظور تھا
ہر عمل میرا خام و خیالی رہا
مفلسی سے رہا زندگی بھر جہاد
عمر بھر شکوہ خستہ حالی رہا
حسن کا اس کے پایا نہ ثانی کوئی
اور مرا عشق بھی بے مثالی رہا
حسن کا اس نےصدقہ نکالا نہیں
میں سوالی رہا تھا سوالی رہا
جس کو چھوکر تکبر نہ گزرا کبھی
وہ سدا کے لیے لازوالی رہا
آج بھی میری غیرت بچالےگئی
آج بھی میرا کشکول خالی رہا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

روشنی سے مرا صحن خالی رہا - دی فری لانسر | دی فری لانسر