جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

پیچ و خم، حسن و ادا، مہر و وفا کچھ بھی نہیں

کلام: کشفی بریلوی3 جون، 20202,120قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پیچ و خم، حسن و ادا، مہر و وفا کچھ بھی نہیں
لوگ کہتے ہیں محبت میں رہا کچھ بھی نہیں
ہم نے دہلیز پہ پلکوں کو بچھا رکھا ہے
جانے کس وقت وہ آجائے پتا کچھ بھی نہیں
اس نے مانگا ہے محبت کا حسیں تاج محل
اور مرے پاس مرے دل کے سوا کچھ بھی نہیں
کارواں لُٹ گیا اور لوگ ہوئے ہیں زخمی
رہبر قوم یہ کہتا ہے ہوا کچھ بھی نہیں
آج کے دور میں انصاف کہاں ملتا ہے
اس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں
دسترس میں سبھی دشمن تھے مگر دیکھو ادا
اتنی پاکیزہ سزا دی کہ کہا کچھ بھی نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

پیچ و خم، حسن و ادا، مہر و وفا کچھ بھی نہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر