کس جرم کی ملی ہے سزا یاد آ گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کس جرم کی ملی ہے سزا یاد آ گیا
برسوں سے کیوں خفا ہے خدا یاد آ گیا
رہتے ہیں ہر گھڑی وہ خفا، یاد آ گیا
ان کا طریق مہر و وفا یاد آ گیا
پڑھنے کے بعد آج بھی قرآن غور سے
کیسا سرور مجھ کو ملا یاد آ گیا
معلوم جب ہوا کہ ہمیں چاہتے ہیں وہ
اپنی عبادتوں کا صلا یاد آ گیا
تنہائیوں کے گھر میں مجھے قید کر کے وہ
اب کیا کرے گا مجھ سے وفا یاد آ گیا
آیا ہوں رب کے پاس تو پوچھے ہے ہر کوئی
"کیا بات ہوگئی جو خدا یاد آ گیا"
ہم بھی کسی زمانے میں اُس کے رفیق تھے
اس بے وفا کو کیسے بھلا یاد آ گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





