یہ بھی پڑھیے:
منہج سلف کیا ہے؟ حافظ عبدالحسیب عمری مدنی
منہج سلف ہی کی پیروی کیوں؟ حافظ عبدالحسیب عمری مدنی
حدیث الافتراق کیا ہے؟
حدیث الافتراق سے مراد وہ حدیث ہے جس میں نبیﷺ نے اپنی امت میں اختلاف اور فرقہ بندی کی پیشین گوئی فرمائی ہے اور پھر اس فرقہ بندی کی صورت حال کا سامنا کرنے والے افراد امت کے لیے رہنما اصول متعین فرمائے ہیں۔
اس حدیث کے راوی صحابہ:
محدثین کرام نے کتب حدیث میں اس حدیث کو متعدد صحابہ سے روایت کیا ہے۔ایک جائزہ کے مطابق صحابہ کرام کی جماعت میں سے درج ذیل صحابہ نے اس کو روایت کیا ہے:
عوف بن مالک،
حدیث کا متن:
یہ حدیث متعدد الفاظ کے ساتھ مروی ہے جو قریب قریب ایک ہی معنی دیتے ہیں۔ان میں سے دو روایتوں کے الفاظ درج ذیل ہیں:
۱)عن معاویۃ رضي اللہ عنہ قال: ألا إن رسول اللہﷺ قام فینا فقال: (ألا إن من قبلکم من أھل الکتاب افترقوا علی ثنتین وسبعین ملۃ،
معاویہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہتے ہیں: لوگو سنو! رسول اللہﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: سنو! تم سے پہلے اہل کتاب بہتر ملتوں میں بٹے اور یہ ملت تہتر میں بٹے گی۔بہتر جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور وہ جماعت ہے۔
(رواہ أبوداود:۴۵۹۷ والحاکم: ۴۴۳ وصححہ وحسنہ ابن حجر في الکافي الشاف في تخریج أحادیث الکشاف ص: ۶۳ وصححہ ابن تیمیۃ في مجموع الفتاوی: ۳۔۳۴۵ والشاطبي في الاعتصام ۱۔۴۳۰ والعراقي في تخریج الإحیاء ۳۔۱۹۹)
۲)یہی حدیث ان الفاظ کے ساتھ بھی وارد ہے: (وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلہم في النارإلا ملۃ واحدۃ،
.... اور میری امت تہتر ملتوں میں بٹے گی وہ سب کے سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک ملت کے۔لوگوں نے پوچھا اور وہ کون ہے اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
(رواہ الترمذي: ۲۶۴۱ وحسنہ ابن العربي في أحکام القرآن: ۳۔۴۳۲ والعراقي في تخریج الإحیاء ۳۔۲۸۴ والألباني في صحیح الترمذي وفي السلسلۃ الصحیح:۱:۲۰۳‘۲۰۴)
حدیث کا درجہ یا حدیث کا حکم؟
اس حدیث کی سند اور اس کے معنی پر کئی لوگوں نے سوال اٹھائے ہیں اور اس کو ضعیف قراردیا ہے۔جن میں بعض معتبر اہل علم بھی ہیں جیسے علامہ ابن حزم اور امام شوکانی وغیرہما۔ان کے علاوہ معاصرین میں سے اردن کے حسن السقاف اور ڈاکٹر یوسف القرضاوی وغیرہ کے بھی نام ہیں۔اس حدیث کی سند پر بھی اعتراض کیا گیا ہے اور حدیث کے مفہوم اور متن کے اعتبار سے بھی اس کو منکر بتایا گیا ہے۔مگر اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ اس حدیث کو متعدد صحابہ نے روایت کیا ہے اور یہ متعدد سندوں سے بھی مروی ہے جن میں سے بعض سندیں صحیح یا حسن ہیں۔اس حدیث کی سند اور متن کے سلسلے میں مذکورہ بالاحضرات نے جو بھی اعتراضات کیے ہیں ان کا مفصل علمی جواب اور اس حدیث کے بعض طرق کی مفصل تخریج آپ قارئین کرام شیخ ألبانی رحمہ اللہ کے پاس ملاحظہ کرسکتے ہیں۔(السلسلۃ الصحیحۃ: ۲۰۳‘ ۲۰۴)
سردست ہم یہاں صرف ان اساطین اہل علم کی رائے نقل کرتے ہیں جنھوں نے اس حدیث کی متعدد سندوں کے مفصل جائزہ کے بعد اس حدیث کی صحت کے سلسلے میں اپنی گواہی درج کروائی ہے۔حدیث کی سند اور متن پر کیے گئے اعتراضات کے مفصل جواب اور اہل علم میں سے متعدد ماہرین فن کی درج ذیل گواہیوں کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ یہ حدیث سندا اور متنا نبیﷺ سے ثابت ہے جس کے ثبوت کے سلسلے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی سوائے اس کے کہ آدمی نے نہ ماننے کی ٹھان رکھی ہو۔
فن حدیث کے ماہرین میں سے متعدد اہل علم کی بعض شہادتیں اوپر حدیث کے متن اور اس کے مختلف الفاظ کے تذکرہ کے ساتھ گزر چکی ہیں۔مزید برآں یہ شہادتیں درج کی جارہی ہیں:
۱) امام أبوعبداللہ الحاکم (۴۰۵ ھ) نے اس حدیث کو اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین میں روایت بھی کیا ہے اور اس کی متعدد سندیں ذکر کرنے کے بعد کہا ہے: ’’ھذہ أسانید تقام بھا الحجۃ في تصحیح ھذا الحدیث‘‘ یعنی یہ سندیں حدیث کی صحت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔(المستدرک ۱:۲۱۸:۴۴۳)
۲) امام أبوعبداللہ شمس الدین الذھبی نے امام حاکم کے مذکورہ حکم پر یہ تعلیق چڑھائی ہے: ’’ھذہ أسانید تقوم بھا الحجۃ‘‘ یہ سندیں حدیث کی صحت کی دلیل ہیں۔(المستدرک ۱:۲۱۸:۴۴۳)
۳) امام زین الدین العراقي نے کہا ہے: ’’أسانیدھا جیاد‘‘ اس حدیث کی سندیں جید ہیں۔ (تخریج أحادیث الإحیاء ۴: ۱۸۷۹)
۴) صاحب فیض القدیر مناوی نے لکھا ہے کہ امام سیوطی نے اس حدیث کو ’’متواتر‘‘ قرار دیا ہے۔مناوی نے فیض القدیر میں جو کہ سیوطی کی الجامع الصغیر کی شرح ہے لکھا ہے: (وعدہ المؤلف من المتواتر) یعنی مؤلف سیوطی نے اس حدیث کو متواتر شمار کیا ہے۔ (فیض القدیر للمناوي ۲:۲۰)
حدیث سے مستنبط فوائد و مسائل:
یہ حدیث بڑی ہی اہم اور انتہائی اہمیت کی حامل توجیہات اور تعلیمات پر مشتمل ہے۔امام حاکم نے اپنی تصنیف مستدرک کی ابتدا میں کتاب الإیمان میں اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد لکھا ہے: (ھذا حدیث کبیر في الأصول) اصول کے باب میں یہ ایک عظیم حدیث ہے۔(المستدرک ۱:۴۷) اس کی تشریح وتوضیح میں کئی ایک باتیں اہل علم نے لکھی ہیں۔سردست ان میں سے دس اہم اور بنیادی فوائد درج کیے جاتے ہیں۔بقیہ کے لیے اہل علم کی مطول کتابوں کی طرف رجوع کرلیا جائے جیسے امام شاطبی کی مایہ ناز تصنیف الاعتصام۔
۱) اختلاف اور افتراق یعنی فرقہ بندی میں فرق ہے۔افتراق یعنی فرقہ بندی یا گروہ بندی ہر حال میں مذموم ہے جبکہ اختلاف ہر حال میں مذموم نہیں ہے۔اختلاف اگر شریعت کی نظر میں معقول اسباب کی بنیاد پر ہے تو قابل برداشت ہے،
۲)امت میں ایسا اختلاف ہونا کہ جس کے نتیجے میں فرقہ بندی وجود میں آئے مذموم ہے۔مگر نبیﷺ کی یہ پیشین گوئی ہے کہ ایسا ہوکر رہے گا اور تاریخ اسلام اس پر گواہ ہے کہ ایسی فرقہ بندی ہوئی ہے۔اس فرقہ بندی سے بچنا یقینا مطلوب وواجب ہے مگر اس سے بچنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس فرقہ بندی کے وجود ہی سے انکار کیا جائے۔اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ ملت اسلامیہ میں ایسی فرقہ بندی پائی جاتی ہے جس کی ابتدا تاریخ اسلام میں پہلی صدی ہجری کے دوران ہی خوارج اور شیعہ کے ظہور سے ہوچکی ہے۔اس حقیقت کو تسلیم کرنا دراصل اس کے خاتمہ کی کوشش یا اس کے مضر اثرات سے خود کو اور امت کو بچانے کی جانب پہلا قدم ہے۔
۳)امت کے اندر گروہ بندی کے اسباب کئی ایک ہیں اور انہی اسباب کے مطابق ان گروہ بندیوں کی شرعی حیثیت بھی الگ ہوتی ہے۔اس امت میں ایسے اختلافات بھی ہوئے ہیں جن کی وجہ خالص دنیاداری اور سیاست رہی ہے۔ظاہر ہے ان اختلافات کی حیثیت گناہوں کی ہے جن سے بچنا اور بچانا دین کا ایک فریضہ ہے۔مگر اس حدیث میں جس گروہ بندی کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ دین کے ساتھ تعامل کے باب میں یہود ونصاری کی روش اپنانا ہے جیسے حق کو چھپانا (یکتمون ما أنزلنا من البینات والہدی: البقرۃ: ۱۵۹) احبار ورہبان کو اور ان کی آراء کو وحی الہی پر مقدم رکھنا (اتخذوا أحبارھم ورھبانہم أربابا من دون اللہ: التوبۃ:۳۱) دین میں غلو اور وحی الہی سے رہنمائی لینے کے بجائے خود ساختہ تصورات کو اپنے دین کی اساس بنالینا اور أہواء القوم کی پیروی کو ہی اتباع سمجھ لینا (لا تغلوا في دینکم ولاتتبعوا أھواء قوم قد ضلوا: المائدۃ:۷۷) دین میں بے جا تاویل اور تحریف کو اپنا معمول بنالینا (یحرفون الکلم عن مواضعہ: النساء: ۴۶) اور دنیوی مفادات کی خاطر دین اور اس کے تقاضوں سے منہ موڑ لینا (یشترون بعہد اللہ وأیمانہم ثمنا قلیلا: آل عمران:۷۷) وغیرہ۔اسی بات کی طرف نبیﷺ نے حدیث کی ابتدا میں ان الفاظ کے ذریعے نشاندہی فرمائی کہ اہل کتاب بہتر فرقوں میں بٹے۔اس کے علاہ دیگر احادیث میں بھی نبیﷺ نے اس کا تذکرہ فرمایا ہے کہ امت محمدیہ یہودو نصاری کے نقش قدم پر چلے گی۔ظاہر بات ہے جب ان کے نقش قدم پر چلے گی تو انہی جیسے نتائج کو بھی بھگتنا پڑے گا جن میں سب سے نمایاں یہی نتیجہ ہے کہ دین کے نام پر کئی راستے وجود میں آئے اور پھر یہ گروہ بندی بھی۔
۴) حدیث میں وارد الفاظ ’’کلھا في النار‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ نجات پانے والے ایک گروہ کے علاوہ بقیہ تمام جہنم کے مستحق ہوں گے۔پھر اللہ تعالی جہنم کے مستحقین کے ساتھ جو معاملہ کرنا چاہیں وہ کریں گے،
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (والثنتان والسبعون،
حدیث کے ان الفاظ ’’کلہا في النار‘‘ کے ظاہری مفہوم کو دیکھ کر بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہتر فرقے پورے کے پورے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے جیسا کہ کافروں کا معاملہ ہے بلکہ بعض وہ اہل علم جنھوں نے اس حدیث کو ضعیف قراردیا،
یہاں ضمنا ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان بہتر فرقوں کو جہنمی قرار دیے جانے کا کیا یہ معنی ہے کہ نجات پانے والے اس ایک گروہ کے سبھی افراد جنتی ہیں،
یہاں مزید ایک غلط فہمی کا بھی ازالہ از حد ضروری ہے جو مذکورہ بالا بات کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہے اور وہ غلط فہمی یہ ہے کہ جب نجات پانے والے گروہ کے بے عمل یا بدعمل اپنی کوتاہی اور کمی کی وجہ سے اور ہلاک ہونے والے فرقوں کے بدعتی اپنی بدعتوں کی وجہ سے سب جہنم کے مستحق ہیں تو پھر کیا نتیجہ کے اعتبار سے وہ سب برابر نہیں ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی بات بالکل بھی نہیں ہے،
۵) امت میں تہتر فرقوں کا جو تذکرہ وارد ہے اس سے مراد امت محمدیہ یعنی امت مسلمہ میں ظاہر ہونے والے فرقے ہیں۔بعض حضرات نے اس سے امت دعوت مراد لیا ہے یعنی وہ تمام انسان جن کی طرف نبی بنا کر آپﷺ کو بھیجا گیا چاہے وہ آپ کی بعثت کے وقت یا اس کے بعد کسی بھی دین سے تعلق رکھتے ہوں۔اس طرح یہ بہتر فرقے ان تمام ادیان ومذاہب کے نام لیوا لوگوں میں سے ہوں گے اورنجات پانے والا وہ ایک گروہ اہل اسلام کا ہوگا۔اس طرح وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے تمام کے تمام گروہ اس ایک نجات پانے والے گروہ کا ہی حصہ ہیں۔لیکن یہ بات غلط ہے۔اس حدیث میں ’’أمتي‘‘ سے مراد امت دعوت نہیں بلکہ امت اجابت ہے،
۶) اس حدیث میں تہتر فرقوں کا جو تذکرہ وارد ہے اس میں اہل سنت کے فقہی مذاہب داخل نہیں ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہی مذاہب کے اختلاف کی بنیادی وجہ اتباع ہوی نہیں ہے برخلاف بدعتی فرقوں کے کہ ان کی گمراہی اور گروہ بندی کی بنیادی وجہ خواہشات کی پیروی ہے۔اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (وھذہ الفرق إنما تصیر فرقا بخلافھا للفرقۃ الناجیۃ في معنی کلي في الدین،
عبدالقاہر بغدادی نے لکھا ہے (وقد علم کل ذي عقل۔۔أن النبيﷺ لم یرد بالفرق المذمومۃ التيأھل النار فرق الفقہاء الذین اختلفوا في فروع الفقہ مع اتفاقہم علی أصول الدین) (الفرق بین الفرق للبغدادي ۱: ۶)
صاحب تحفہ علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے بغدادی کی مذکورہ بات ہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: (قال العلقميقال شیخنا ألف الإمام أبومنصور عبدالقاھر بن طاھر التمیميفي شرح ھذا الحدیث کتاباقال فیہ قد علم أصحاب المقالات أنہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یرد بالفرق المذمومۃ المختلفین في فروع الفقہ من أبواب الحلال والحرام وإنما قصدبالذم من خالف أھل الحق في أصول التوحیدو في تقدیر الخیر والشروفي شروط النبوۃوالرسالۃ وفي موالاۃ الصحابۃوما جری مجری ھذہ الأبواب،
فقہی مذاہب کا شمار ان فرقوں میں کیوں نہیں ہوسکتا اس کو مزید سمجھنے کے لیے شیخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب (رفع الملام عن الأئمۃ الأعلام) کا مطالعہ مفید ہوگا۔
لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ ان مذاہب کے ان فرقوں میں شامل نہ ہونے کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ ان فرقوں سے نسبت رکھنے والے افراد وعلماء کے تمام اقدام صحیح یا قابل قبول ہیں۔تقلید شخصی وتقلید جامد،
۷) تہتر فرقوں کی یہ جو تعداد آئی ہے کیا اس سے مراد واقعی تہتر کا نمبر ہے یا پھر اہل کتاب کے بہتر کے تذکر ے کے بعد تہتر کا تذکرہ کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ اہل کتاب سے زیادہ گروہ بندی امت محمدیہ کے اندر ہوگی؟ مذکورہ دونوں احتمالات میں سے ہر ایک کے بعض اہل علم قائل ہیں۔اسی لیے بعض اہل علم نے ان بہتر گمراہ فرقوں کی تعیین کرنے کی کوشش بھی کی ہے جیسے شہرستانی (۵۴۸ ھ) نے (الملل والنحل) میں اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ (۵۶۱ ھ) نے اپنی تصنیف (غنیۃ الطالبین) میں کی ہے۔مگر اس مسئلہ میں راجح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرقوں کی کثرت ہے نہ یہ کہ متعین تعداد۔
۸) اللہ تعالی کا کمال رحمت ہے کہ اختلاف و افتراق کے اس تذکرے اور اس کے بھیانک انجام کے تذکرہ کے بعد نجات پانے والے گروہ کی تلاش اور تعیین جیسے اہم اور سنگین مسئلہ کو لوگوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑدیا بلکہ خود ہی متعین فرمادیا کہ نجات پانے والے کون ہیں اور ان کی شناخت کیا ہے؟ بنا بریں اب ہر کوئی یہ دعوی کر ے کہ میں ہی نجات پانے والا ہوں تو اس کا یہ دعوی اہل کتاب کے اس دعوے کے مصداق ہے جسے قرآن میں {کل حزب بما لدیھم فرحون} ہر گروہ جو کچھ کہ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے (سورۃالمؤمنون:۵۳) کہا گیا ہے۔اور جب رب ذوالجلال نے خود اس گروہ کو متعین کردیا ہے تو پھر کسی کو اپنی کوشش اور اپنے اجتہاد کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں بلکہ جو طے شدہ معیار خود اس حدیث میں بیان کردیا گیا ہے اس کو پہچاننے اور اس کے راستے پر چلنے کی کوشش کی جائے کیوں کہ اس کے اپنانے میں ہی خود کی اور سب کہ عافیت ہے۔عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ اسی تناظر میں یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے (اتبعوا ولاتبتدعوا فقد کفیتم) یعنی طے شدہ راستے کو اپناؤ،
۹) نجات پانے والا مذکورہ گروہ کون ہے؟ اس کا جواب زیر نظر حدیث کی الگ الگ روایتوں میں الگ الگ الفاظ میں ملتا ہے۔ ’’الجماعۃ‘‘ ’’ما أنا علیہ وأصحابي‘‘ یا ’’ما أنا علیہ الیوم وأصحابي‘‘ یہ مشہور الفاظ ہیں۔الفاظ کا یہ اختلاف خود بتلاتا ہے کہ نبیﷺ نے خود یا تو الگ الگ موقعوں پر الگ الگ الفاظ استعمال فرمائے یا پھر صحابہ کرام نے نبیﷺ کے الفاظ سے جو معنی سمجھا اسے اپنے الفاظ دیے۔بہر صورت یہ طے ہے کہ نبیﷺ نے نجات پانے والے گروہ کا نام نہیں بلکہ صفت بتلائی ہے جس کا سیدھا مفہوم یہ ہے کہ یہ وہ گروہ ہوگا جو صحابہ کی جماعت کے طریقے پر ہوگا۔جس کا عقیدہ،
۱۰) زیر بحث حدیث میں وارد ’’الجماعۃ‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔اس حدیث کی دوسری روایتوں میں وارد الفاظ ’’ما أنا علیہ وأصحابي‘‘ یا ’’ما أنا علیہ الیوم وأصحابي‘‘ خود یہ بتاتے ہیں کہ خود نبیﷺ نے یا صحابہ کرام نے اس ’’الجماعۃ‘‘ کا مفہوم متعین فرمادیا ہے اور اس کی وضاحت فرمادی ہے کہ جماعت دراصل حق کی موافقت کا نام ہے۔اس لیے کہ نبیﷺ اور آپ کے صحابہ کو اس حدیث میں اختلاف کی صورت میں حق کی شناخت کو اسی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ نے ایک طرف یہ فرمایا ہے (من کان مستنافلیستن بمن قد مات أولئک أصحاب محمدﷺ) تم میں سے کوئی اگر کسی راستے کو اپنانا چاہتا ہو تو اس کو چاہیے کہ جو لوگ انتقال کرگئے ہیں ان کے راستے کو اپنائے اور وہ لوگ محمدﷺ کے صحابہ ہیں۔(شرح السنۃ للبغوي:۱:۲۱۴) تو دوسری طرف یہ بھی فرمایا (الجماعۃ ما وافق الحق وإن کنت وحدک) ’’جماعت‘‘ وہی ہے جو حق کی موافقت کرے چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ رہ جاؤ۔(تاریخ دمشق لابن عساکر: ۴۶:۴۰۹) امام بربہاری نے اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے (والأساس الذي تبنی علیہ الجماعۃ ھم أصحاب محمدﷺ رحمہم اللہ أجمعین وھم أھل السنۃ والجماعۃ) وہ بنیاد جس پر جماعت قائم ہوسکتی ہے محمدﷺ کے صحابہ ہیں۔اللہ ان تمام پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے اور وہی أہل السنۃ والجماعۃ ہیں۔(شرح السنۃ للبربہاري: ۱:۳۵) اور امام ابن أبی العز الحنفي رحمہ اللہ نے اہل سنت کے نزدیک أھل السنۃ والجماعۃ کے معنی ومفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے (والجماعۃ جماعۃ المسلمین وھم الصحابۃ والتابعون لھم بإحسان إلی یوم الدین) یعنی اہل سنت اور جماعت میں جماعت سے مراد مسلمانوں کی جماعت یا اجتماعیت ہے اور وہ صحابہ اور قیامت کے دن تک اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگ ہیں۔(شرح الطحاویۃ: ۱:۳۸۲)
البتہ اس لفظ ’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم میں تاریخ اسلام کے مختلف ادوار میں متعدد اہل علم نے مزید الگ الگ باتیں بھی کہی ہیں۔یہ الفاظ باہم جدا ہو کر بھی اکثر وبیشتر ایک ہی حقیقت کے ترجمان ہیں اور وہ حقیقت وہی ہے جس کا تذکرہ ابھی اوپر گزرا کہ نبیﷺنے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنے صحابہ کو دین کی جس شکل پر چھوڑا ہے اسی شکل پر قائم رہنے والے لوگ ’’جماعت‘‘ ہیں۔اس سلسلے میں اہل علم سے جو تشریحات وارد ہیں ان کو امام شاطبی نے اپنی کتاب الاعتصام میں یکجا کیا ہے۔ان اہل علم کے الفاظ اور ان کا مفہوم مختصرا درج ذیل ہے:
۱۔ سواد أعظم: یعنی الجماعۃ سے مراد اس امت کی اکثریت ہے۔ظاہر بات ہے یہ نبیﷺ کی زندگی کے بعد کے دور کی بات ہے جب سنت کا غلبہ تھا ورنہ خود نبیﷺ نے پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ حق پرست پھر سے اقلیت میں ہوں گے۔ (بدأ الإسلام غریبا وسیعود کما بدأ فطوبی للغرباء) اسلام کی ابتدا ایک اجنبی کی طرح ہوئی اور پھر سے وہ اجنبی ہوجائے ہوگا۔ان حالات میں جو اس کے پیروکار ہوں ان کے لیے طوبی ہے۔اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام اور سنت کے غلبہ کے دور میں جب بدعتوں کا ظہور ہونے لگے اور ہر بدعتی فرقہ اپنی ٹکڑی الگ کرلے تب جماعت سواد اعظم ہے،
اس کے علاوہ ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر بدعت کے نام لیوا مخصوص افراد کے مقابلے مجموعی طور پر امت اکثریت میں ہوگی۔ہر بدعت کے سلسلے میں اگر پیمانہ یہی ہو کہ اس بدعت اور اس بدعت کے علمبرداروں کو موازنہ کل امت سے کیا جائے تو سواد اعظم اس کے خلاف ہی ہوگا۔اسی مسئلہ کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر بدعت ایک مخصوص دور میں زور پکڑتی ہے اور مرور زمانہ کے ساتھ اس کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔پھر یا تو وہ ختم ہوجاتی ہے یا علمی وعملی اعتبار سے کمزور ہوکر رہ جاتی ہے۔اس تناظر میں ہر دور کی متفرق بدعات اور اس کے علمبرداروں کی تعداد کو اکٹھا کیا جائے اور ان میں سے ہر ایک کا موازنہ بالعموم از اول تا آخر اہل سنت اور صحابہ کے منہج کے حاملین کی تعداد سے کیا جائے تو یقینا منہج صحابہ کے حاملین کی تعداد ہی زیادہ ہوگی۔
ایک معنی یہ بھی بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ ہر مسلمان کی اصل یہ ہے کہ وہ اصلی دین سے نسبت رکھنے والا ہے۔اگر ان میں سے کوئی کسی گمراہی کا مرتکب ہورہا ہو اور اس کو بتانے پر کسی مسلک یا شخصیت سے تعصب کے بنا فورا رجوع کرنے کا مادہ رکھتا ہو تو اصل یہ ہے کہ اس کا شمار اہل سنت اور صحابہ کے طریقہ پر چلنے والوں میں ہوگا۔ہاں اگر کوئی بدعتی ہو اور اپنی بدعت کی طرف سے دفاع کرنے والا ہو تو پھر وہ اہل سنت کے دائرہ سے نکل جائے گا۔اس تناظر میں عام مسلمانوں کی اکثریت اپنی اصل کے اعتبار سے منہج صحابہ کے حاملین ہی کی ہوگی۔اس طرح اکثریت کے برحق ہونے کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔
۲۔ اہل اسلام کا اجتماع یعنی الجماعۃ سے مراد مسلمان ہیں کیونکہ مسلمانوں کی اجتماعیت کافروں کے مقابلے نجات پانے والی جماعت ہوگی۔حدیث کے مفہوم کی وضاحت کے دوران یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ اس حدیث میں امت اجابت کے درمیان اختلاف مقصود ہے اور یہ تفسیر ان اہل علم کی ہے جنھوں نے امت کے اختلاف سے امت دعوت کا اختلاف مراد لیا تھا۔لہذا اس کی مزید وضاحت کی چنداں حاجت نہیں۔
۳۔ مسلمانوں کی اجتماعیت جو ایک حکمران پر متفق ہو۔یہ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کی تفسیر ہے۔منہج صحابہ کے حاملین کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ مسلم حکمرانوں کے خیرخواہ اور اس کے تابع اجتماعیت کے ساتھ رہتے ہیں۔اسی لیے ان کے نام میں اہل سنت کے ساتھ دوسرا نام ’’الجماعۃ‘‘ جوڑا جاتا ہے۔اس کے برخلاف اہل بدعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ نہ صرف بدعت ایجاد کرکے سنت سے دور ہوتے ہیں بلکہ اہل سنت اور ان کے حکمران اور ان کے تابع اجتماعیت کے مقابلے میں انفرادیت اور الگ دھڑا بنانے کی فکر کرتے ہیں۔صحابہ کرام کی سیرت وکردار اس کا آئینہ ہیں کہ اجتماعیت کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے اور اختلاف کے باوجود افتراق اور گروہ بندی سے کیسے بچا جاتا ہے۔
۴۔ علماء مجتہدین کی جماعت: یعنی الجماعۃ سے مراد امت کے علماء اور مجتہدین ہیں۔کیونکہ علماء میں سے بعض غلطی کرسکتے ہیں مگر امت کے تمام مجتہد علماء کسی گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتے۔کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے (لن یجمع اللہ أمتي علی ضلالۃ فإن ید اللہ علی الجماعۃ) اللہ تعالی ہرگز میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں فرمائیں گے،
۵۔جماعت سے مراد جماعت صحابہ خود ہے۔کیونکہ دوسری روایتوں نے اس لفظ کا مفہوم متعین کردیا ہے۔اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے البتہ اتنی بات مزید یہ بتادی جائے کہ اس امت کے پہلے مجدد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ’’الجماعۃ‘‘ کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔
اللہ تعالی دین کی صحیح سمجھ اور حسن عمل کی توفیق سے نوازے۔ وفقنا اللہ جمیعا لما یحبہ ویرضاہ۔آمین





