جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہے یہ دستورِ جفا، اِس کے سوا کچھ بھی نہیں

کلام: گلؔ ندوی9 جون، 20201,953قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہے یہ دستورِ جفا، اِس کے سوا کچھ بھی نہیں
"اُس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں"
اب گلوں کو بھی تبسم کی اجازت نہ رہی
گلشنِ دہر میں بلبل کی صدا کچھ بھی نہیں
اب تو مظلوم ہی ظالم ہے عدالت میں تری
تیرے دربار میں قاتل کی سزا کچھ بھی نہیں
میری آواز، مرا درد، مری ٹیس بھی سن!
کیا تری بزم میں شاعر کی نوا کچھ بھی نہیں
ہم نے خوں دے کے سنوارا ہے وطن کو اپنے
جو کیا ہم نے کیا، اُس نے کیا کچھ بھی نہیں
یہ جو باطل کی اکڑ دیکھ رہے ہو یارو!
پہلے بھی بات تھی یہ، آج نیا کچھ بھی نہیں
وہ مرا نام مٹانے پہ تُلا ہے کب سے
کہہ دو گر میں نہ رہا، اُس کی بقا کچھ بھی نہیں
وہ مرا نام پتہ پوچھ رہا ہے مجھ سے
میرے اِس شہر میں ہے جس کا پتہ کچھ بھی نہیں
رونقِ بزمِ جہاں ڈھونڈنے والو سن لو!
یہ جہاں کفر کی جنت کے سوا کچھ بھی نہیں
مسلکِ عشق ترا ہم نہیں پوچھیں گے اے گلؔ
لفظ ہی لفظ ہے، غَمزہ نہ ادا کچھ بھی نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہے یہ دستورِ جفا، اِس کے سوا کچھ بھی نہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر