جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تھکن حد سے گزر جائے تو پھر جھولوں سی لگتی ہے

کلام: خمار دہلوی9 جون، 20201,963قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تھکن حد سے گزر جائے تو پھر جھولوں سی لگتی ہے
نکیلے پتھروں کی سیج بھی گدوں سی لگتی ہے
کسانوں کو سنہرے خواب دکھلاتی تو ہے لیکن
یہ بارش بھی کسی کے ہو بہ ہو وعدوں سی لگتی ہے
ہمیں دنیا کی ہر ایک چیز ہر آرائش دنیا
کسی مجنون کے دیکھے ہوئے خوابوں سی لگتی ہے
تعجب ہے کہ یہ سارے کے سارے کارخانے ہیں
بناوٹ تو مگر ان سب کی اسکولوں سی لگتی ہے
دوپہری میں جو پتھر توڑتے ہیں وہ سمجھتے ہیں
کرن سورج کی ننگے جسم پر شعلوں سی لگتی ہے
زمانے والے جس کو سنت منصور کہتے ہیں
کئی لوگوں کو یہ عادت مری بھولوں سی لگتی ہے
ہوا یہ معجزہ الله جانے کس کی آمد سے
جو تھی خاروں کی وادی اب وہی غنچوں سی لگتی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تھکن حد سے گزر جائے تو پھر جھولوں سی لگتی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر