تہ دام ہونے کو دانے بہت ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تہ دام ہونے کو دانے بہت ہیں
پرندے بھی لیکن سیانے بہت ہیں
بناؤ نہ ہم کو ہمیں سب خبر ہے
"حقیقت کی تہ میں فسانے بہت ہیں"
رکھوں رابطہ کیوں نئے دشمنوں سے
ابھی دوست میرے پرانے بہت ہیں
ابھی زرد چہرے ہیں انسانیت کے
میں کیسے کہوں دن سہانے بہت ہیں
اگر ملنا چاہیں تو مشکل نہیں ہے
نہ ملنے کے لیکن بہانے بہت ہیں
یہ فٹ پاتھ جنگل ندی کے کنارے
جو بےگھر ہیں ان کے ٹھکانے بہت ہیں
ترقی پذیر ان بڑی بستیوں میں
ہیں اسکول کم کارخانے بہت ہیں
دلوں میں وفا نام کو بھی نہیں ہے
لبوں پر وفا کے ترانے بہت ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





