جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

پریشانی کے دنوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا

تحریر: سعید الاثری10 جون، 20202,002قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

اسلام اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے جو سراپا رحمت اور عدل پر مبنی ہے جس کے اندر دنیائے انسانیت کے لیے زندگی گذارنے کے بیش قیمتی اصول و ضوابط پائے جاتے ہیں۔اور جو اپنے ماننے والوں کو آپس میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون پر ابھارتا ہے جیسا کہ نصوص شرعیہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں ہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں بہت ساری احادیث ملتی ہیں جو ہمیں آپس میں میل جول،باہمی اخوت و بھائی چارگی پہ ابھارتی ہیں نیز ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مدد کا درس دیتی ہیں۔

ایک حدیث یہ ہے:

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من نفس عن مومن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة خرة ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة خرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه (صحيح مسلم:2699)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی بندہ مؤمن سے اس کی دنیاوی پریشانی و مصیبت کو دور کیا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کا معاملہ کیا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے لیے دنیا و آخرت کے اندر آسانی پیدا فرمائے گا اور جس کسی نے اپنے مسلمان بھائی کی ستر پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے اندر اس کی ستر پوشی کرے گا اور اللہ رب العالمین بندے کی مدد کرتا ہے جب بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی اور اس کی ضرورتوں کو پوری کرنے کی تعلیم دیتی ہے،نیز تنگ دست کے ساتھ آسانی کرنے اور ایک مسلمان کی ستر پوشی کرنے پر ابھارتی ہے ساتھ ہی ایسا کرنے والوں کے لیے رضائے الٰہی کی خوشخبری بھی سناتی ہے۔

ضرورت ہے کہ اس حدیث کو عملی جامہ پہنایا جائے اور خاص طور پر آج کے ان حالات میں جبکہ پورا عالم اس وبا سے دوچار ہے،ہر مسلمان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کا جائزہ لے اور ہر اس شخص کے لیے دست تعاون دراز کرے جو مصائب و مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور اپنے بال بچوں کی فکر میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے عار اور شرمندگی محسوس کرتا ہے۔کیونکہ مؤمنوں کی مثال آپس میں تو مکمل ایک جسم سی ہے کہ اگر جسم کا کوئی بھی حصہ تکلیف میں ہو تو اس کی وجہ سے پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔

رب العالمين سبھی کو توفیق عطا فرمائے۔آمین

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

پریشانی کے دنوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا - دی فری لانسر | دی فری لانسر