اسلام اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے جو سراپا رحمت اور عدل پر مبنی ہے جس کے اندر دنیائے انسانیت کے لیے زندگی گذارنے کے بیش قیمتی اصول و ضوابط پائے جاتے ہیں۔اور جو اپنے ماننے والوں کو آپس میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون پر ابھارتا ہے جیسا کہ نصوص شرعیہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں ہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں بہت ساری احادیث ملتی ہیں جو ہمیں آپس میں میل جول،
ایک حدیث یہ ہے:
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من نفس عن مومن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة خرة ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة خرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه (صحيح مسلم:2699)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی بندہ مؤمن سے اس کی دنیاوی پریشانی و مصیبت کو دور کیا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کا معاملہ کیا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے لیے دنیا و آخرت کے اندر آسانی پیدا فرمائے گا اور جس کسی نے اپنے مسلمان بھائی کی ستر پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے اندر اس کی ستر پوشی کرے گا اور اللہ رب العالمین بندے کی مدد کرتا ہے جب بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔
یہ حدیث ہمیں اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی اور اس کی ضرورتوں کو پوری کرنے کی تعلیم دیتی ہے،
ضرورت ہے کہ اس حدیث کو عملی جامہ پہنایا جائے اور خاص طور پر آج کے ان حالات میں جبکہ پورا عالم اس وبا سے دوچار ہے،
رب العالمين سبھی کو توفیق عطا فرمائے۔آمین





