غم کا ہر جام مقدر پہ نہ پھوڑا جائے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غم کا ہر جام مقدر پہ نہ پھوڑا جائے
کچھ تو کوتاہی تدبیر سے جوڑا جائے
جب بچھڑنا ہی مقدر ہے تو الجھن کیسی
ایک دوجے کو چلو پیار سے چھوڑا جائے
کوئی تو صورت دیدار نکالو جاناں
کب تلک خون نگاہوں سے نچوڑا جائے
اب یہ دستور بناؤ کہ نہ سوئے کوئی
مرنے والے کو بھی اک بار جھنجھوڑا جائے
بانجھ کر دیتے ہیں فریاد کو اہل مسند
آسمانوں کی طرف آہ کو موڑا جائے
دل کسی کا جو نہ ٹوٹے تو بہت اچھا ہے
ہاں ضروری ہو تو آرام سے توڑا جائے
کتنے دل باندھ کے بیٹھے ہیں وہ مٹھی میں سراجؔ
اس کلائی کو نہ شدت سے مروڑا جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
A
Alqoofi
25 جولائی، 2020بہت خوب رنگ تغزل، شاندار، زندہ باد زخمی صاحب.
م
محمد عارف
15 جون، 2020ہر بار کی طرح شاندار اور جاندار بہت شکریہ سلامت رہیں آمین





