خواب ہی خواب ہے، تعبیر یہاں کچھ بھی نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
خواب ہی خواب ہے، تعبیر یہاں کچھ بھی نہیں
ماسوا متن کے تفسیر یہاں کچھ بھی نہیں
گمرہی کی یہاں ہر سمت وبا پھیلی ہے
دھند ہی دھند ہے، تنویر یہاں کچھ بھی نہیں
شکوۂ ظلمت شب کا تو یہاں چرچا ہے
فکر تخریب ہے تعمیر یہاں کچھ بھی نہیں
مرد ناداں کی طرح ہم تو فقط بیٹھے ہیں
رنج ہی رنج ہے تدبیر یہاں کچھ بھی نہیں
فاقہ کش لوگ ہیں سرکار کی تقریریں ہیں
خوئے تہدید ہے تبشیر یہاں کچھ بھی نہیں
جملے بازی کی چلی رسم ہے ایوانوں میں
کھوکھلے دعوے ہیں، تصویر یہاں کچھ بھی نہیں
فیصلہ نفع وضرر کا یہاں کیا ہوگا بھلا
یاس ہی یاس ہے، اکسیر یہاں کچھ بھی نہیں
یورش نقد ہے، ملت کے نگہبانوں پر
اپنے اسلاف کی توقیر یہاں کچھ بھی نہیں
آہ ونالے ہیں یہاں، ہر جگہ دیوانے ہیں
دشت ہی دشت ہے، تمصیر یہاں کچھ بھی نہیں
وصیؔ فاقوں سے جو مرتے ہیں بلکتے ہر دن
نالۂ فقر میں، تاثیر یہاں کچھ بھی نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





