جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

"کس قدر ڈوبا ہوا دل، درد کی لذت میں ہے"

کلام: نذیر اظہر کٹیہاری16 جون، 20202,025قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
"کس قدر ڈوبا ہوا دل، درد کی لذت میں ہے"
زخم کھا کر مسکرانا ہی مری فطرت میں ہے
ڈھونڈتے پھرتے ہو راحت تم کہاں اے دوستو!
درحقیقت راحت دل رب کی ہی قربت میں ہے
بن کے مجنوں پھر رہا ہے تیری خاطر ہر کوئی
جاذبیت کس قدر دنیا! تری مورت میں ہے
کردیا سب کو کورونا نے پریشاں اس قدر
دیکھ کر سارا جہاں بس ورطۂ حیرت میں ہے
کیا بتاؤں ہجر کی حالت میں اظہر اب تجھے
درد سے بے چین دل میرا تری فرقت میں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

"کس قدر ڈوبا ہوا دل، درد کی لذت میں ہے" - دی فری لانسر | دی فری لانسر