کورونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی معمولات زندگی میں کافی تغیرات واقع ہوئے ہیں۔خصوصاً بین الممالک تعلقات اور حج و عمرہ کا نظام رکا ہوا ہے۔وہ لوگ جو اس سال حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے تھے انھیں مجبوراً اپنا خیال ترک کرنا پڑا اور جب میڈیا کی جانب سے اس سال حج کے موقوف ہونے کے امکانات کی خبریں آ رہی ہیں تو رہی سہی امید بھی جاتی رہی۔ہمارے ملک ہندوستان کی حالت بھی نہایت تشویش ناک ہے،
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے،
حاجی اللہ کا مہمان ہوتا ہے،
«تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ،
پے در پے حج و عمرہ کیا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے،
وبائی بیماری کووِڈ 19 کی وجہ سے حالات اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان فضیلتوں کے حصول کے لیے کوشش کرسکیں لہذا ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ان چھوٹے چھوٹے اعمال کو بجا لانا چاہیے اور اللہ سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ ہمیں ان اعمال کے بدلے ہمارے نامۂ اعمال میں مکمل حج وعمرہ کا ثواب لکھ دے گا۔ایسی چند عبادتوں کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔
(1) نیت کا بدلہ
اپنے بندے کی صرف نیک نیتی کے بدلے اللہ تعالی اپنی رحمتوں کی فیاضی کرتے ہوئے اس عمل کا مکمل اجر اس کے لیے لکھ دیتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
«مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا،
جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا،
نیک عمل کی چاہت جس قدر صدق دل اور خلوص سے ہو اس کا اجر اسی قدر اللہ تعالی اس کے نامۂ اعمال میں اندراج کرے گا۔بعض اوقات انسان اپنے حسنِ نیت سے بڑے بڑے اعمال کے ثواب کا مستحق ہوجاتا ہے۔آدمی کو اس زریں موقع (Golden Chance) سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔کبھی کبھی بڑے بڑے مشکل ترین اعمال ریا و نمود کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور نیکی کے بجائے ہولناکی کا سبب بنتے ہیں۔
(2) گھر سے وضو کرکے جانا اور جماعت کے ساتھ فرض نماز ادا کرنا
بظاہر فرض نماز کے لیے گھر سے وضو کرکے مسجد جانے والا اپنی دانست میں ایک نماز کا ثواب صرف پچیس سے ستائیس گنا تصور کرتا ہے لیکن اللہ رب العزت اپنی شفقت و رحمت سے ایک نماز کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں مکمل ایک حج کے برابر لکھ دیتا ہے۔فرمان نبوی ہے:
«مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ،
جو اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لیے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے،
(3) باجماعت فجر پڑھنے کے بعد اشراق کی نماز پڑھنا
جو شخص فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کے بعد اسی مجلس میں سورج طلوع ہونے تک اللہ کی تکبیر و تہلیل کرتا رہے اور پھر دو رکعت نفل پڑھے گا تو اِس پورے عمل کا اجر ایک حج اور ایک عمرہ کے مساوی ہوگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ.» (سنن ترمذی 586)
جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا،
(4) دینی علم حاصل کرنے کے لیے مسجد کا رخ کرنا
فرمان نبوی ہے:
«من غدا إلى مسجدٍ لايريدُ إلا أن يتعلَّمَ خيرًا أو يُعلِّمَه،
جو شخص صرف اس لیے مسجد گیا تاکہ کوئی خیر کی چیز سیکھے یا سکھائے،
(5) نماز کے بعد اللہ کی تسبیح و تحمید بیان کرنا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَا وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ؛
کچھ مسکین لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے کہ مال والے تو بلند مقام اور جنت لے گئے۔وہ ہماری طرح ہی نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں۔اور ان کے لیے مال کی وجہ سے فضیلت ہے،
(6) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: إني أشتهي الجهاد ولا أقدر عليه،
(الترغيب والترهيب 3/292 المعجم الأوسط 2915،
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں مگر اس کی طاقت نہیں۔تو آپ نے پوچھا کہ تمھارے والدین میں سے کوئی باحیات ہیں؟ تو اس نے کہا کہ ہاں میری ماں۔تو آپ نے بتایا کہ جاؤ ان کی خدمت کرو،
ان کے علاوہ اور بھی بعض ایسے اعمال ہیں جن کے بدلے اللہ تعالی حج و عمرہ کا ثواب عطا کرتا ہے۔لیکن ان پر بھی عمل پیرا ہونا موجودہ صورتِ حال میں ناممکن ہے۔بہرحال افادۂ عامہ کے لیے ان کا بھی تذکرہ نیچے کیا جا رہا ہے۔
(7) رمضان المبارک میں عمرہ کرنا
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ہی نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا جانے والا حج کے برابر اجر ملے گا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں:
«لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّتِهِ،
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انھوں نے عرض کیا کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔
(8) حاجی کی معاونت یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنا
رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من جَهَّزَ غازيًا أوجهز حاجا أو خلفَهُ في أَهْلِهِ،
جس نے کسی مجاہد کو جہاد پر بھیجا،
(9) مسجد قبا میں نماز ادا کرنا
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ» (سنن نسائی 700)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی (گھر سے) نکلا،
اللہ تعالی اسی طرح بہت سارے چھوٹے چھوٹے عمل کے بدلے بہت بڑے بڑے اجر سے نوازتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ثواب اللہ کا فضل ہوتا ہے۔وہ جسے چاہے اپنی عنایات سے فیاض کردے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے حج وعمرہ کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان اعمال کے اجر و ثواب سے حج کے ثواب کی مشابہت و یکسانیت ہے۔اگر اس سال جن کو حج کی توفیق نہ مل سکی ہو ان پر آئندہ حج کرنا فرض ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں زیارتِ حرمین شریفین کی توفیق عطا فرمائے اور کورونا سے پوری دنیا کو نجات عطا کرے۔آمین یا رب العالمین





