اداسی قلب میں ہونٹوں پہ خاموشی نہیں ہوتی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اداسی قلب میں ہونٹوں پہ خاموشی نہیں ہوتی
دل آگاہ تجھ سے دل فراموشی نہیں ہوتی
نظر میں منظر عدم شکیبائی نہیں ہوتا
جگر کو گر تمناہائے ہم دوشی نہیں ہوتی
مرا دامن بھی تیرے دامن بے زار سا ہوتا
مجھے اے کاش کوئی فکر آغوشی نہیں ہوتی
ترا انداز خو ہی دلبرانہ ہے وگرنہ پھر
مرے اظہار کو لاحق یہ خاموشی نہیں ہوتی
یہ پاء آشنائے راہ غم مجروح نہ ہوتا
کہ جو اس شوق کو امید بردوشی نہیں ہوتی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





