جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تمھارے واسطے دل میرا کیوں مرا جائے

کلام: کشفی بریلوی20 جون، 20201,631قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تمھارے واسطے دل میرا کیوں مرا جائے
تمھیں میں یاد نہ آؤں تو کیا کیا جائے
تمھاری یاد ستائے گی عمر بھر ہم کو
تو آج کیوں نہ ذرا دیر رو لیا جائے
ہمارے بعد ہمیں یاد رکھ سکے دنیا
کچھ ایسا کام بھی جیتے جی کر لیا جائے
انھوں نے عہد وفا ہم سے کب نبھایا تھا
جو ان کے عہد وفا کا صلہ دیا جائے
غزل ہو ایسی کہ اس میں ہو زندگی کشفی!
قصیدہ زلف سیہ کا نہ اب کہا جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

k
khubaib Hasan
21 جون، 2020
❤️❤️💔💔🌷🌷

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تمھارے واسطے دل میرا کیوں مرا جائے - دی فری لانسر | دی فری لانسر