عام طور پر کسی چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں،
بہت سارے لوگ جو عید تو مناتے تھے مگر بینائی ہوتے ہوئے بھی چاند کو دیکھنے سے محروم رہتے تھے،
لاک ڈاؤن کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ بہت سے گھروں میں باجماعت نماز پڑھی گئی اور اب بھی پڑھی جارہی ہے۔جو لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے وہ امامت کر نے لگے،
خواتین عام طور پر گھر میں ہی نماز پڑھتی ہیں اور تنہا تنہا پڑھتی ہیں الا ما شاءاللہ اس لیے نماز اور نماز میں مسبوق وغیرہ کے مسائل سے بالکل واقف نہیں ہوتیں۔مگر گھر میں مشترکہ مرد و عورت کی جماعت قائم ہونے سے خواتین کو بہت سے مسائل معلوم ہوگئے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اضافی ثواب بھی ان کے لیے قیامت کے دن خو شی کا باعث ہوگا۔ان شاءاللہ
لاک ڈاؤن نے جہاں ایک طرف سیکھنے اور سکھانے کا بہترین موقع عنایت کیا ہے جس کا لوگوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا تو دوسری طرف بہت سے فارغ التحصیل جو اپنے نام کے ساتھ مادر علمی کی طرف نسبت کہہ کر لگواتے ہیں انھوں نے دستار فضیلت کی دھجیاں اڑائیں اور پورے لاک ڈاؤن میں نہ تو خطبہ دیا اور نہ ہی کسی ایک وقت کی نماز پڑھانے کی توفیق ہوئی بلکہ کرایہ کا ٹٹو استعمال کرتے رہے۔البتہ یہ مسلم ہے کہ ایسے بے توفیق اور صلاحیت سے محروم فارغین دوسروں پر تنقید و تبصرہ خصوصا اماموں اور خطیبوں کو نشانہ بنانے اور زبان درازی کرنے کی خوبیوں سے خوب مرصع ہوتے ہیں۔لیکن لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ لاک ڈاؤن نے ان تمام کے دعووں کو باطل کردیا اور ہر باشعور کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ:
رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے
بہت سے لوگوں میں خفیہ صلاحیتیں ہوتی ہیں مگر ان صلاحیتوں کو مناسب اور بہتر موقع نہ ملنے کی وجہ سے صلاحیتیں ظاہر نہیں ہوپاتیں مگر موقع ملتے ہی وہ صلاحیتیں سر چڑھ کر بولتی ہیں۔اس طرح دیکھا جائے تو لاک ڈاؤن نے باصلاحیت لوگوں کو اپنی صلاحیت کے استعمال کرنے اور اس کے ذریعہ لوگوں کو مستفید ہونے کا بہترین موقع دیا اور بے صلاحیت لوگوں کے منہ پر مہر لگا دیا کہ اس موقع پر بھی اپنی صلاحیت استعمال نہ کرکے بزبان حال اعلان کر دیا کہ صلاحیت کے یہ دعوے کھوکھلے ہیں۔ہمارے پاس صرف تنقید و تبصرہ کی ہی صلاحیت ہے،





