مجھے جب عشق کا دورہ پڑا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مجھے جب عشق کا دورہ پڑا ہے
پراگندہ مرا کمرہ پڑا ہے
دکھائی دے رہی ہے صرف نفرت
یہ کیسا آنکھ پہ پردہ پڑا ہے
نسب سے کچھ نہیں ہوتا ہے پیارے
سبھی کے پاس اک شجرہ پڑا ہے
گیا ہے چھوڑ کر کوئی اداسی
پس آئینہ اک چہرہ پڑا ہے
محبت ہم نے کرلی دیکھا دیکھی
گلے اب جان کا خطرہ پڑا ہے
بنا ہے جس کے ہاتھوں سے سمندر
تن تنہا وہی قطرہ پڑا ہے
مسیحا عشق کو مانا تھا اس نے
وہ دیکھو آج وہ مردہ پڑا ہے
خدایا رحم اسعؔد کی خطا پر
ترے دربار میں سجدہ پڑا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





