جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کسی نے قدر نہ کی یوں تو زندگی! تیری

کلام: سحر محمود25 جون، 20201,812قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کسی نے قدر نہ کی یوں تو زندگی! تیری
مگر کھلی ہے جدائی بھی واقعی تیری
بتا کہ مسئلہ کیا ہے تو کوئی بھید کھلے
غلط گمان دلاتی ہے خامشی تیری
تری نگاہ سے رہتا ہوں تازہ دم جاناں!
کرے نہ سست مجھے بے توجہی تیری
سواے تیرے کسی پر بھی اعتماد نہیں
“جو منصفی ہے جہاں میں تو منصفی تیری”
میں تجھ سے یوں ہی جھگڑتا ہوں بحث کرتا ہوں
بھلی لگے ہے مجھے دوست برہمی تیری
میں کیوں نہ تیری خوشی اور غم کی فکر کروں
عزیز جاں سے زیادہ ہے زندگی تیری
یہ بات اور کہ میں تجھ کو یاد آ نہ سکوں
بسی ہے یاد مرے دل میں آج بھی تیری
تجھے سفر کے دکھوں کی خبر کہاں ہے سحر
نیا سفر بھی ہے اور رہ گزر نئی تیری
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کسی نے قدر نہ کی یوں تو زندگی! تیری - دی فری لانسر | دی فری لانسر