جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دیار غزل

کلام: وارث جمال30 جون، 20201,409قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وقت دیتا نہیں ہے کوئی آج کل
صرف دیتے ہیں تحفہ گھڑی آج کل
ہم میں انسانی فطرت یہی آج کل
جانور ہو گیا آدمی آج کل
میں نے غصے میں ترکِ تعلق کیا
اب ستاتی ہے اس کی کمی آج کل
اب محبت میں بس جسم کی بھوک ہے
سچی ہوتی نہیں دل لگی آج کل
میری آنکھوں میں دیکھو نظر آئے گی
خشک دریا میں ہے کچھ نمی آج کل
رات میں اس طرح تم نہ نکلا کرو
تم سے روٹھی ہے کچھ چاندنی آج کل
جب ضرورت پڑے بھاگ جاتے ہیں سب
صرف مطلب کی ہے دوستی آج کل
عید کا چاند نکلا ہے لے کر خوشی
ہوگئی ہر طرف روشنی آج کل
خوب روتا تھا مجھ سے جو مل کر گلے
یاد آتا ہے مجھ کو وہی آج کل
کتنی اچھی ہی غزلیں کہو تم جماؔل
داد دیتا نہیں ہے کوئی آج کل
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دیار غزل - دی فری لانسر | دی فری لانسر