جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کس شان سے آئے ہیں، ذرا ناز تو دیکھو

کلام: نذیر اظہر کٹیہاری30 جون، 20201,416قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کس شان سے آئے ہیں، ذرا ناز تو دیکھو
"آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو"
محفل میں بھلا کیوں نہ ہو انوار کی بارش
قرآں کی تلاوت سے ہے آغاز تو دیکھو
محفل میں سخن سنتے ہی آواز اٹھی یہ
ننھا ہے مگر فکر کی پرواز تو دیکھو
سنتے ہی انھیں لوگ فدا کیوں نہ ہوں ان پر
آواز ستم گر کی فسوں ساز تو دیکھو
دشمن کا مرے دل میں بھلا خوف ہو کیوں کر؟
اک بار ذرا تم مرا دم ساز تو دیکھو
جو جنگ میں لڑتے ہوئے جاں اپنی لٹا دے
وہ شیر خدا حمزہ، وہ جاں باز تو دیکھو
زنداں سے بری ہو کے جو مسند کو سنبھالے
اس یوسفِ کنعان کا اعزاز تو دیکھو
پروان چڑھے موسی جو فرعون کے گھر میں
اظہر مرے خالق کا یہ اعجاز تو دیکھو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کس شان سے آئے ہیں، ذرا ناز تو دیکھو - دی فری لانسر | دی فری لانسر