جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

مصرعہ طرح: بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے

کلام: کشفی بریلوی30 جون، 20201,490قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
داستان لکھنے کو جب کبھی کہا جائے
ظلم کو بہر صورت ظلم ہی لکھا جائے
تربیت یہ کہتی ہے میری اے جہاں والو!
"بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے"
بعد میں تاسف سے فائدہ نہیں کوئی
کام جو بھی کرنا ہو سوچ کر کیا جائے
وقت کی نگاہوں میں اعتبار قائم ہو
زندگی کی راہوں میں اس طرح چلا جائے
تیرگی کی راہوں میں روشنی بہت کم ہے
کیوں نہ بڑھ کے اے لوگو! دل جلا دیا جائے
اہل بزم تابش کے فیض سے غزل کہہ دی
شکر کیسے اے کشفی اب ادا کیا جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مصرعہ طرح: بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے - دی فری لانسر | دی فری لانسر