جس کو کانٹا سا مانتا ہے دل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جس کو کانٹا سا مانتا ہے دل
اس سے بھی کیا کبھی لگا ہے دل
دور ہو، تیرا بے وفا ہے دل
نام سے تیرے کانپتا ہے دل
کیا مرے درد وغم بھی روٹھ چلے
"کیوں یہ ویران ہوگیا ہے دل"
جب سے ٹوٹا ہے کوہ غم دل پر
ایک آتش کدہ بنا ہے دل
جسم انسان کا صلاح وفساد
ہے ٹکا جس پہ، وہ بنا ہے دل
کرکے ایما جدھر نبی نے کہا
"یاں ہے تقویٰ ترا" وہ جا ہے دل
دل ہے رحماں کی انگلیوں کے بیچ
جیسے چاہے وہ پھیرتا ہے دل
عقل کو یہ کہاں نصیب منیر
بے خطر آگ میں گرا ہے دل
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





